- الإعلانات -

رمضان المبارک میں حکومتی احتیاطی تدابیرپرعمل انتہائی ضروری

رمضان المبارک کی آمدکے موقع پرحکومت اورعلمائے کرام کے مابین اس بات پراتفاق ہوگیا ہے کہ حکومتی ایس اوپیزپرعمل کرتے ہوئے مساجد کھلی رہیں گی،اب جبکہ حکومت نے یہ اقدام اٹھایاہے تو من حیث القوم ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ کوروناوائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیرپرہرصورت عمل کیاجائے اوراگرحکومت کی جانب سے دی گئی احتیاط پرعمل نہ کیاگیاتو وفاقی وزیرمذہبی امورنے واضح طورپرکہہ دیاہے کہ یہ فیصلہ واپس لیاجاسکتا ہے ظاہری سی بات ہے کہ اگراس دنیا میں اگرکوئی قیمتی چیز ہے تو وہ انسان کی زندگی ہے اسلام میں بھی زندگی کو بچانا اول ترین قراردیاگیاہے اب جبکہ دنیابھر میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہے اوراس وقت پاکستان ، بھارت اوربنگلہ دیش میں اس کازورہے ایسے میں ذراسی بھی لاپرواہی خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کاسبب بن سکتی ہے ۔ رمضان المبارک کابابرکت مہینہ ہے اللہ تعالیٰ اس ماہر مبارک میں دعاکی قبولیت کے دروازے کھول دیتاہے اورہرعشرہ باقاعدہ مختلف رحمتوں کے لئے رب ذات نے مختص کررکھا ہے لہٰذا یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضورگڑگڑاکراپنے گناہوں کی معافیاں مانگیں اوراگرجوکوتاہیاں ہوگئی ہیں وہ بھی اس کے حضورمعاف کرانے کے لئے سجدوں میں گرکرعجزانکساری کے لئے معافی کے طلب گاررہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس وباء سے ہم سب کو نجات دے ۔ مساجد میں ضرور جائیں لیکن جواحتیاط بتائی گئی ہیں اس پرعمل کیاجائے ۔ نیزعلما کرام اور مشاءخ عظام کے ایک وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ علما ء کرام نے لاک ڈاءون کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ وزیراعظم کی طرف سے علما کرام سے کہا گیا ہے کہ 20 نکاتی متفقہ لاءحہ عمل پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان سے علما کرام کے وفد کی ملاقات کے بعد ذراءع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے پیر نور الحق قادری نے کہا کہ وزیراعظم نے علما کرام سے کہا کہ حکومت نے کرونا وائرس وبا کی صورتحال کے پیش نظر مساجد کو کھولنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے ۔ ملک بھر کے جید علمائے کرام اور مشاءخ عظام نے وزیراعظم کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ حکومت نے آئندہ جمعۃ المبارک کو یوم رحمت اور یوم توبہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ علمائے کرام نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ قرآن پاک کی اشاعت کے اداروں کو کھولنے میں نرمی، قرآن حکیم کی تعلیم بھی آن لائن کی جائے، وزیراعظم نے اس حوالے سے بھی بھرپور تعاون کا یقین دلایاجبکہ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق کاکہناتھا کہ کرونا کا پھیلاءوروکنے کیساتھ نظام زندگی کو بھی چلانا ہے ۔ رمضان المبارک میں حکومت اور علما کرام کے درمیان متفقہ اعلامیہ کی خلاف ورزی ہوئی تو کارروائی ہو گی، مدارس کے بچوں کیلئے بھی گھر بیٹھے تعلیم کا پروگرام لایا جائے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ لاک ڈاءون کے دوران جن علما کرام، خطبا اور نمازیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی رہائی کا پہلے ہی حکم دے چکا ہوں تاہم اگر اب بھی ایسا کوئی فرد گرفتار ہے تو اسے فوری رہا کیا جائے، وزیراعظم عمران خان نے مدارس کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے وزارت خزانہ کو حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ مدارس، مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی اداروں کیلئے یوٹیلٹی بلوں کو موخر کرنے کی تجویز کو بھی معاشی ٹیم کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مدارس کے جو خطیب، موذن اور عملہ کے دیگر ارکان معاشی مشکلات کا شکار ہیں ان کو بھی دیگر طبقات کی طرح مالی امداد کی سہولت فراہم کرنے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں کرونا سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کی روک تھام اور معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں توازن قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ۔ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ان کے مسائل حل کئے جائیں ۔ دریں اثنا وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جس قدر ممکن ہوسکے خود کو گھروں تک محدود رکھیں ۔ اپنے ٹوءٹر اکاءونٹ پر نظم و ضبط کا خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا لوگ جتنا زیادہ نظم و ضبط رکھیں گے اتنا ہی حکومت کیلئے کرونا وائرس کی وباء سے نمٹنا ;200;سان ہوگا ۔

امریکی تیل مارکیٹ کریش ہوگئی

کوروناوائرس کے عالمی وباء اورلاک ڈاءون کے سبب طلب میں بے تحاشا کمی کے باعث امریکی منڈی میں تیل کی قیمتیں تاریخی حد تک کرگئیں اورتیل پانی سے بھی سستا ہوگیا ۔ دنیابھر میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے پرامریکی خام تیل کی قیمت پہلی بارمنفی سطح پرچلی گئی ہے اورفروخت کنندہ خریدارکو تیل کے ساتھ رقم دینے پرمجبورہوگئے ہیں بہت کم طلب اور بہت زیادہ رسد کایہ نتیجہ نکلاہے کہ عالمی منڈی میں امریکی خام تیل اتنی نچلی سطح پرآگیاہے فی بیرل قیمت کمی کے بعد پہلے دس ڈالر،پھرچارڈالرفی بیرل اوراس کے بعدایک ڈالر سے بھی کم تک گرچکی ہے ۔ لیکن یہ سلسلہ یہی پرختم نہ ہوا اوردیکھتے ہی دیکھتے امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت صفرڈالر سے بھی نیچے آگئی ہے ۔ کرونا بحران کے نتیجہ میں طلب کی کمی کے باعث تیل کی قیمتیں مسلسل گررہی ہیں ۔ صورتحال اس لحاظ سے بھی خراب ہے کہ امریکا میں تیل اسٹوریج کے ٹینک بھر چکے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی طلب میں کمی کے بعد تیل پیدا کرنے والی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق کیا گیا تھا ۔ سرمایہ کار اب بھی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے کے نتیجے میں قیمتوں میں استحکام آئے گا یا نہیں ۔ تیل کی قیمتوں میں زوال کی ایک وجہ سعودی عرب اور روس کے درمیان معاشی جنگ بھی ہے ۔ تیل کی پیدوار کے معاملے میں امریکا کے خود کفیل ہونے کے بعد روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار پر تنازع شروع ہوا تھا ۔ سعودی عرب نے قیمتوں میں اضافے کی غرض سے تیل کی پیداوار میں کمی کی ۔ سعودی عرب اس کے ذریعے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی مندی کو کم کرنا چاہتا تھا لیکن اسی دوران روس نے اپنا رد عمل ظاہر کیا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ساتھ تعاون کرنا بند کر دیا ۔ روس ایشیائی مارکیٹ میں تیل کی برآمد میں سعودی عرب کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا چاہتا ہے اور یہی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کا سبب ہے ۔

پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی نوید

آئی ایم ایف نے آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کے قرضوں اورمہنگائی کی شرح میں کمی کی پیشنگوئی کی ہے اس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پانچ سال میں قرضے نوے فیصد سے کم ہوکرجی ڈی پی کے تہتراعشاریہ ایک فیصدمتوقع ہیں مالی سال 2021 میں قرضے جی ڈی پی کے ستاشی اعشاریہ آٹھ فیصد ہوجائیں گے 2022ء میں قرضے جی ڈی پی کے تراسی اعشاریہ سات متوقع ہیں اسی طرح بتدریج آنے والے سالوں میں بھی مہنگائی میں کمی متوقع ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ثمرات حکومت عوام تک کیسے پہنچاتی ہے کیونکہ ایک جانب کوروناوباء کی آفت ہے دوسری جانب اسی وباء کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی اورساتھ ہی آئی ایم ایف کی پیشنگوئی بھی ساتھ ساتھ ہے ۔ حکومت عوام کو پٹرولیم مصنوعات میں کس حد تک فائدہ دیتی ہے یہ دیکھنا ہوگا اگر فی الوقت پٹرول پچاس روپے لٹر بھی فروخت کیاجائے تو وہ بھی قابل برداشت ہے بلکہ اس سے بھی سستا دیاجاسکتاہے اورساتھ ہی جب مہنگائی کم ہوگی تو یقینی طورپر اشیائے خوردونوش اوردیگراشیاء بھی سستی ہوں گی تو یہ حکومت کے لئے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی بشمول پاکستان دیگر ممالک کی مالی اعانت کی ہے تاکہ کوروناوائر س کی وباء سے نمٹاجاسکے ۔ کوروناوائرس کے باعث پاکستان کے ریونیو میں نوسوارب روپے کی بھی کمی واقع ہوگی پاکستان کو اس وباء سے نمٹنے کےلئے بجٹ میں پانچ سوارب روپے استعمال میں لاناہوں گے ۔ پاکستان کی معاشی حالت مضبوطی کی جانب گامزن ہے اورحکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اب معیشت میں ایک تازہ ہواکاجھونکا آرہاہے جن صنعتوں کوحکومت نے کھولاہے اگران پرباقاعدگی سے صحیح طرح کام کرلیاجائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم معاشی اعتبارسے اپنے پاءوں پرکھڑے ہوسکتے ہیں ۔