- الإعلانات -

چین کے خلاف نئی امریکی مہم

چین اور امریکہ میں کشیدگی پہلے ہی کیا کم تھی کہ کورونا وائرس کی پھوٹنے والی عالمی وباء کے معاملے پر دونوں ممالک کے تعلقات اور زیادہ کشیدہ ہو گئے ہیں ۔ امریکہ مسلسل یہ الزام تراشی کر رہا ہے کہ کورونا وائرس چین کی ووہان لیبارٹریوں میں تیار گیا ہے ۔ چین اس الزام کو مسترد کرتا ;200; رہا ہے بلکہ جب چین خود اس کی لپیٹ میں ;200;یا تھا تو ایسا ہی الزام چین نے امریکہ پر لگایا تھا کہ ووہان ;200;نے والے امریکی فوجی دستے نے یہ وائرس یہاں پھیلایا ۔ فریقین کی طرف سے ایسی الزام تراشی میں کہاں تک صداقت ہے ، اس بارے حتمی بات نہیں کہیں جا سکتی ، تاہم امریکہ اس معاملے کو لے کر ;200;گے تک جانا چاہتا ہے ۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ چین تو وباء کے بحران سے بچ نکلا ہے اور اس کی معیشت بھی دھچکا سہ گئی ہے اب اگر وہ اس بحران سے جلد باہر نہ نکل سکا تو چینی معیشت اس سے بہت ;200;گے نکل جائے گی ۔ یہ خدشہ اسکی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے ۔ چین کے خلاف یہ حالیہ مہم جوئی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ اس مہم میں امریکہ نے فرانس ،جرمنی، جاپان اور بھارت کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا ہے ۔ دو روز قبل تو ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو باقائدہ دھمکی دے ڈالی کہ کرونا وباء پھیلنے سے متعلق اگر وہ ذمہ دار ہوا تو اسے اسکے نتاءج کا سامنا کرنا ہوگا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وباء کو چین میں روکا جا سکتا تھا جہاں سے اس کا ;200;غاز ہوا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق کب کیا ہوا اور یہ وبا غلطی سے کنٹرول سے باہر ہوئی یا ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ قبل ازیں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیونے گزشتہ ماہ جی سیون ممالک کے اجلاس کے موقع پر کہا تھا کہ جی سیون ممالک چینی حکومت کی وائرس سے متعلق غلط معلومات کے خلاف متحد ہیں ۔ پومپیو نے بیجنگ پر ابتدا میں اس وائرس کی خبروں کو دبا کر دنیا کو خطرے میں ڈالنے کا الزام بھی لگایا ۔ صرف یہی نہیں امریکی صدر اور انکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران کرونا وائرس کو چینی وائرس یا ووہان وائرس بھی کہتے ہیں ۔ امریکہ کی ہاں میں ملاتے ہوئے، فرانس جاپان اور بھارت کے بعد جرمنی نے تو چین کو کورونا کا ذمہ دار ٹھہرا کر نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے 130 ارب یورو کا بل بھیج دیا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مزید امریکی حلیف ملک بھی یہ کام کر سکتے ہیں ۔ جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاوَ سے متعلق معلومات پر زیادہ سے زیادہ شفافیت دکھائے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ وائرس ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے،اور اس سے پیدا ہونے والی تباہی ناقابل بیان ہے لیکن امریکہ اور اسکے حواری ممالک کا بغیر کسی ثبوت چین کو ذمہ دار ٹھہرانا نا قابل فہم ہے ۔ امریکی صدر کے لہجے میں تلخی کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ ان پر اندرون ملک سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ چین نے وبا پر کیسے پر قابو پا لیا اور امریکہ میں یہ وبا تھمنے کا نام کیوں نہیں لے رہی ۔ صدر ٹرمپ چین پر کبھی یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ چین نے کورونا وائرس سے متعلق شفافیت اختیار نہیں کی اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کی لیبارٹریوں میں تیار ہوا حالانکہ عالمی ادارہ صحت اسکی تردید کر رہا ہے ۔ امریکی حکومت کی جانب سے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کیے جانے کے خدشات کے بعد عالمی ادارہ صحت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس بات کے تاحال شواہد نہیں ملے کہ کورونا وائرس کسی لیبارٹری میں تیار ہوا ۔ تاہم یہ کہا گیا کہ یہ جانوروں سے پھیلا اور ابھی تک اس بات کے بھی شواہد نہیں ملے کہ کس طرح جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ۔ اس وضاحت کی شاید اس لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ گزشتہ ہفتے یہ خبر سامنے ;200;ئی تھی کہ امریکی حکومت کی ہدایت پر امریکی خفیہ اداروں نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے ۔ ایسی خبریں سامنے ;200;نے کے بعد چینی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے تاہم اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کا دھمکی دینا کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ چین نے واقعی کورونا لیبارٹری میں تیار کرکے پھیلایا تو اسے نتاءج بھگتنا پڑیں گے بوکھلاہٹ اور سرا سر کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے ۔ ٹرمپ کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ اس نے کچھ دن قبل عالمی ادارہ صحت کی امداد بھی اسی پس منظر میں یہ کہہ کر معطل کردی تھی کہ ڈبلیو ایچ او چین کا طرف دار ہے ۔ امریکہ ہو ،بھارت ہو، فرانس یا دیگر ممالک وہ چین کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنی کمزوریوں اور نا اہلیوں کا رونا روئیں ۔ چین پر تو اس وبا ء نے اچانک ہلہ بول دیا تھا پہلے دو تین ہفتے تو ڈاکٹروں کی سمجھ میں بھی یہ نہیں ;200; رہا تھا کہ ;200;خر یہ ہے کیا ۔ اس نے تین ماہ تک تنہا اس کا مقابلہ کیا، تب کیا یورپ اور امریکہ سوئے ہوئے تھے ۔ اس وقت تک تو پوری دنیا اس وائرس کی ہلاکت خیزی سے اچھی طرح ;200;گاہ ہو چکی تھی پھر کیوں نہیں موثر حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ۔ کیا امریکہ اٹلی فرانس جاپان اور بھارت وغیرہ کوئی افریقی ممالک تھے کہ جہاں بھوک کا راج ہے ۔ یورپ اور مغرب کو تو اپنے صحت کے نظام پر بڑا ناز رہتا ہے ۔ اگر یہ ممالک بروقت حفاظتی تدابیر کر لیتے تو شاید انکو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چین کے مشاہدات اور تجربات سے دوسرے ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیے، جس طرح پاکستان چینی تجربے سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ چین دنیا میں پی پی ایز یعنی ڈسپوزبل اشیا دستانے، حفاظتی سوٹ، اور وہ تمام اشیا جو کورونا سے نمٹنے کیلئے درکار ہیں ، بڑے پیمانے پر بنا رہا ہے ۔ چین کئی اعتبار سے طبی ساز و سامان بنانے والا بڑا ملک ہے اور اسکے پاس ضرورت پڑنے پر اس میں اضافہ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، جو کہ بہت کم ملکوں کو حاصل ہے ۔ یہ وقت پرانی کشیدگیوں کا حساب چکانے کا نہیں مل بیٹھ کر مستقبل کی پلاننگ کا ہے ۔ چین کو مورد الزام ٹھہرانے سے وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔