- الإعلانات -

بیرون ملک پاکستانیوں کا جذبہ ایثار

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ’’بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کےلئے نافع ومفید ہو‘‘بلاکسی غرض اورکسی قسم کی لالچ کے دوسرے انسانوں کےلئے نفع بخش امور بجالانے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’بہترین انسان‘‘کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوتا ہے نبی آخرزماں رسالت مآبﷺ نے اپنی امت کے ہر فرد پر یہ لازم قرار دیا ہے کہ ہر مسلمان جب بھی کہیں کسی انسان کو مصبیتوں اور ابتلاؤں میں گھرا ہوا دیکھے تو اگر اْس کے بس میں ہو تو پہلی فرصت میں اْسے چاہیئے کہ وہ بلاکسی امتیازبلالحاظ ِرنگ ونسل اورمذہبی امتیازات سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمات کے فراءض بجا لائے یہی امر ہم مسلمان اور خصوصا پاکستانی ہونے کے ناطے ہ میں اپنے پیش نظر رکھنا ہے بحیثیت پاکستانی قوم کے ہ میں اپنے اس فطری عمل پر فخر بھی ہونا چاہیئے ہم نے دیکھا اور دنیا بھی یہ نظارہ بارہا کیا ہے کہ پاکستانی قوم میں یہ اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں امتحان وآزمائش کی ہرکڑی گھڑی میں اہل پاکستان نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہمیشہ چاہے وطن میں آزمائش آن پڑے یا وطن سے باہر کہیں کوئی پاکستانی موجود ہے اور وہاں کوئی آفات امڈ آئیں تو پاکستانی کبھی پیچھے نہیں رہے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ جب کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی مدد وحاجت روائی کرنے کا فریضہ ادا کرلیتا ہے تو فطری طور پر دونوں اطراف میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں یگانگت ‘ اْخوت، بھائی چارگی اور اپنایت کے جذبات یکایک امڈآتے ہیں اور ہر دوجانب الفت ومحبت پروان چڑھنے لگتی ہے، یہاں ایک اور حدیث ِ مبارکہ کا حوالہ پیش کیا جارہا ہے آپﷺ کا ارشاد ہے ’’ اْس ذات والاصفات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے دوسرے بھائیوں کےلئے بھی وہ ہی کچھ پسند کرئے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے‘‘ عرض مدعا یہ کہ خدمت ِ خلق خد ا کے عام معنیٰ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنا ہے خدمت ِ خلق ِخدا دراصل محبت الٰہی کا تقاضا،ایمان کی روح اور دنیا وآخرت کی کامیابی وکامرانی کا اولین درجہ ذریعہ ہے صرف مالی اعانت ہی خدمت خلق نہیں بلکہ دیگر امور میں مثلا کسی کی کفالت کرلینا، کسی کوبلا معاوضہ تعلیم دینا،مفید مشورہ دینا،کوئی ہنر سکھانا،علمی سرپرستی کرنا،صحت کے مراکز اورتعلیمی ورفاعی ادارے قائم کرنا ، کسی کے دیکھ درد میں شریک ہونا اور ان جیسے انسانی امور سے وابستہ خدمت ِ خلق کی کئی مختلف رائیں ہیں جن پردین اسلام نے چلنے کی ہر مسلمان کو خصوصی دعوت دی ہے یہاں اسی موضوع کے زیر بحث آج جبکہ دنیا بھر کے کیا ترقی یافتہ کیا غیر ترقی یافتہ شرقاً تاغرباً شمال تاجنوب تمام عالم کے ممالک میں کورونا وائرس نول کویڈ انیس کی مہلک ترین دہشت ناک وبا نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں دنیا سہمی ہوئی ہے اس خوفناک وبا نے بلا امتیار رنگ ونسل بلالحاظ مذہبی تفریق پوری انسانیت پر اپنے موت منڈلاتے سائے پھیلادئیے ہیں اس اندوہناک موقع پر دنیا کی سوچیں اب یکایک بدل گئیں اس مہلک وبا نے فی زمانہ یورپی ممالک سمیت امریکا، برطانیہ براعظم افریقہ دنیا کا کوئی ایسا خطہ باقی نہیں چھوڑا جہاں یہ وبا آندھی وطوفان کی طرح نہ پہنچی ہوابتدا میں راقم نے جیسا عرض کیا ہے ایسے انتہائی دردناک واقعوں پر جبکہ اس عالمی تباہ کن وبا وائرس کی شکل میں ایک عالم پر واردہوگئی ہر سو زندگی سہم سی گئی بیرون ملک مقیم خاص کر یورپی ممالک میں مقیم تارکین پاکستان نے جن میں کئی ڈاکٹرز،پیرا ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف کے علاوہ (کیب) ٹیکسی چلانے والے پاکستانیوں نے انسانی خدمات کی ایک نئی انسان پرور مثال قائم کرکے اپنے مادروطن پاکستان کی شناخت کو روشن اور تابناک کردیا ہے سی این این اور بی بی سی سمیت کئی ممتاز یورپی میڈیا نے اس بارے میں اپنی خصوصی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ اسپین اور اٹلی میں کوروناوائرس کویڈ انیس نے لاکھوں افراد کو بے حد متاثرکیا جن میں کئی ہزار یورپی افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ایسے میں (کیب) چلانےوالے پاکستانیوں نے بلا معاوضہ کورناوائرس کا شکار ہونے والے یورپی باشندوں کو گھروں سے ہسپتالوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا وہ مریضوں کے گھروں کے باہر کھڑے رہے ہسپتالوں کے باہر مریضوں اور اْن کے ساتھ آنے والوں کے منتظر رہے ۔ جس پر ہم نے اپنی آنکھوں سے مغربی میڈیا کی اسکرینوں پر دیکھا کہ یورپی باشندے پاکستانیوں کے اس انسانی جذبے سے بے انتہا جذباتی طور پر متاثر ہوئے اْن کی آنکھیں بھرآ ئیں ۔ اسلام آباد میں اسپین کے سفارتخانے کے آفیشل اکاوَنٹ کے ساتھ ایک ویڈیو کلپ شیئر کی گئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ’’بارسلونا اوردیگر شہروں میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوزز علاج معالجہ کرنے والے طبی عملے کومفت آمدورفت کی سہولیات مہیا کررہے ہیں ، کوویڈ 19 کے مریض آپ کی ان خدمات کےلئے آپ کے شکر گزار ہیں ‘‘ یقینا یہ سبھی کچھ جان کر ہمارے قارئین بھی فخر وانبساط کے جذبوں سے سرشار ضرور ہونگے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ان انسانیت پرور کارہائے نمایاں نے واقعی یہ ثابت کردیا کہ وہ واقعی اسلامی تعلیمات کے پْرخلوص اوردیانت دار پیرو کار ہیں جو سب یہ جانتے ہیں کہ’’انسان باہم ایک سماجی مخلوق ہے اسی لئے سماج سے جدا ہوکر کٹ کر علیحدگی میں کوئی انسان اپنی زندگی کی سانسیں نہیں لے سکتا‘‘پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان کا فخر اور عظیم ترین اثاثہ قراردیا اس موقع وزیراعظم نے بیرون ملک پاکستانیوں کی اس مہلک وبا سے ہونے والی اموات پر اپنے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ میں صف اول کی خدمات انجام دینے والے جو پاکستانی ڈاکٹرزاور میڈیکل سے وابستہ افراد جاں بحق ہوئے پاکستانی قوم اْن کے سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے، وزیراعظم پاکستان نے بیرون ملک اور خاص کر پوری ممالک کے پاکستانیوں کے جذبہ انسانیت کو بھی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور پاکستانی قوم کی ترجمانی حق بھی ادا کردیا آخری چندجملوں میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی تارکین وطن جتنی قابل قدر اورلائق ستائش ایثارکیش اپنا عملی کردار ادا کررہے ہیں ،کوویڈ انیس جیسی مہلک عالمی وبا کے اس انتہائی دہشت اور خوفزدہ ماحول میں چاہے اسپین ہویا برطانیہ،امریکی ریاستیں ہوں یا جرمنی دنیا بھر میں اس وبا نے جہاں انسانیت کو اپنی خوفناک لپیٹ میں لیا ہوا ہے،وہاں تارکیں وطن ان پاکستانیوں کی انسانی فلاح وبہبود کےلئے کی جانے والی یہ بے مثال خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔