- الإعلانات -

عمران ٹرمپ رابطہ،وباء کیخلاف تعاون جاری رکھنے پراتفاق

دنیابھر میں جس طرح کوروناوائرس کی وباء نے تباہی پھیلائی اس اعتبار سے تاحال پاکستان میں اللہ تعالیٰ کا کرم ہی رہاہے ۔ گوکہ اموات ہورہی ہیں لیکن اس اعتبارسے نہیں جس طرح چین، امریکہ اوریورپ میں ہوئی ہیں ۔ اس چیز کا اعتراف امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے بھی کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان اور صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفون پر بات ہوئی اور دونوں رہنماءوں نے کورونا وائرس سے پھیلنے والے مرض کوویڈ ۔ 19 سے پیدا ہونے والے چیلنجوں ، عالمی معیشت کیلئے مضمرات، اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر پاک امریکہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور علاقائی امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔ دفتر خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے کورونا ٹیسٹ کے بارے میں جاننے کے بعد، صدر ٹرمپ نے کویڈ ۔ 19 کےلئے جدید ترین اور تیز رفتار ٹیسٹنگ مشین وزیر اعظم کو بھیجنے کی پیش کش کی ۔ وزیر اعظم نے اس پیشکش پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کی ٹیلی فون کال اور کوویڈ ۔ 19 سے نمٹنے کےلئے امریکی کوششوں کی حمایت کو سراہا اور اس وباء کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں پاکستان کو امریکی امداد کا بھی یقین دلایا جس میں وینٹی لیٹروں کی فراہمی، معاشی شعبہ میں تعاون بھی شامل ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ میں کرونا وائرس کی وجہ سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی وائرس کے پھیلاءو پر قابو پانے کےلئے پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی ۔ پاکستان کو وبائی بیماری پر قابو پانے اور لاک ڈاءون کی وجہ سے لوگوں کو، خاص طور پر آبادی کے سب سے کمزور طبقات کو بھوک سے بچانے کے دوہرے چیلنج کا سامنا ہے ۔ حکومت نے متاثرہ لوگوں اور کاروباری اداروں کی مدد کےلئے آٹھ ارب امریکی ڈالر کا پیکیج دیا ہے ۔ وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں میں امریکی حمایت کےلئے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کو ضروری مالی سہولت مہیا ہوگی اور کوویڈ 19 کے وبائی امراض کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ ترقی پذیر ممالک کےلئے ;34;قرض سے متعلق امداد پر عالمی اقدام، قرضہ میں ریلیف ;34; کا مطالبہ اسی تناظر میں ہے ۔ علاقائی تناظر میں ، وزیر اعظم عمران خان نے پرامن اور مستحکم افغانستان کےلئے پاکستان کی مستقل حمایت اور سیاسی تصفیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ صدر ٹرمپ نے وینٹی لیٹرز کی دستیابی یقینی بنانے اور اقتصادی معاملات سمیت کرونا سے نمٹنے کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ ملاقات کے دوران افغان امن عمل بھی زیربحث آیا جس میں ڈونلڈٹرمپ نے پاکستان کی کاوشوں کوسراہا، خطے میں قیا م امن کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی ۔ دونوں سربراہوں نے اس بات پراتفاق کیاکہ کوروناوائرس کی وباء سے مل کرلڑنا ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی وی پرنظرہونے والے اپنے ویڈیوپیغا م میں کہاکہ کورونامتاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے مخیرحضرات ان کی مدد کے لئے بڑھ چڑھ کرحصہ لیں کیونکہ حکومت کوروناسے نمٹنے کےلئے پیشہ خرچ کررہی ہے لیکن پھربھی اتنے فنڈزنہیں کہ وہ تمام معاملات کو حل کرسکے ۔ ایسے میں مخیرحضرات کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کرحکومت کی مدد کرے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک آفت آگئی ہے جس کاہم سب نے ملکر بحثیت قوم مقابلہ کرناہے ۔ اس وباء کی وجہ سے معاشی حالات ویسے ہی دگرگوں ہوچکے ہیں عالمی بنک نے بھی تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ وباء کے خاتمے تک کروڑوں لوگ بے روزگارہوجائیں گے لامحالہ جب صنعتیں بند ہوں گی لاک ڈاءون ہوگا توپھرکیونکرروزگارکے مواقع پیدا ہوسکیں گے اس وقت سب سے اہم ضرورت طبی سہولیات کی ہیں امریکہ جیسی سپرپاورجس کاپوری دنیا میں دبکا بولتا ہے وہ بھی اس قدرتی آفت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے وہاں بھی طبی امداد کے حوالے سے ڈاکٹراورنرسیں احتجاجی مظاہرے کررہی ہیں ۔ لہٰذا جب یہ ترقی یافتہ ممالک اس آفت سے نہیں نمٹ سکتے تو ہماری حکومت اکیلی کیونکراس کامقابلہ کرسکتی ہے ۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں جوبھی کورونامتاثرین کی امداد کررہی ہے اس کےلئے باقاعدہ طورپرصاف شفاف میکنزم بنائے اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ مددحقیقی متاثرین تک پہنچ رہی ہے ۔

کوروناوائرس۔۔۔ پاک فوج کی خدمات لائق تحسین

پاک فوج نے ہرمشکل وقت میں قوم کاساتھ دیا کوئی بھی ناگہانی آفت ہو فوج ہمیشہ جذبہ حب الوطنی کے تحت پیش پیش نظرآتی ہے ۔ کوروناوائرس کی وباء سے نمٹنے کے لئے بھی فوج خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے معاشی، سماجی اور نفسیاتی اثرات سمیت تمام معاملات پر نظررکھی جائے، پاک فوج رمضان المبارک میں دوسرے اداروں سے مل کر قوم کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے ۔ کورونا کے پھیلاءو کو روکنے کیلئے سول انتظامیہ سے ہرممکن تعاون جاری رکھا جائیگا، وسائل کا بہترین استعمال ہونا چاہیے، مشکل وقت میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام ذراءع بروئے کار لائیں گے ۔ سول،ملٹری مربوط روابط کیلئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکاکردارلائق تحسین ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنر ل قمرجاوید باجوہ نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ کیا، جہاں ڈی جی پلاننگ این سی اوسی جنرل آصف محمود گورایا کی جانب سے سربراہ پاک فوج کو جاری سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی ۔ سربراہ پاک فوج کو کورونا وباکے پاکستان میں متوقع پھیلاءوکو روکنے کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، وائرس سے پیدا صورتحال، نیشنل کمانڈ کے فیصلوں ، سول انتظامیہ کی مدد و تعاون اور ٹیسٹنگ و قرنطینہ سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کورونا کی روک تھام کیلئے محدود وسائل میں کیے گئے اقدامات اورکوششوں کی تعریف کی اور این سی او سی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کورونا کے خطرے سے متعلق جائزے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس وباء سے مقابلے کے لئے مزید کاوشوں کی ضرورت ہوگی نیزآرمی چیف نے بالکل درست کہاکہ انسانی صحت ، نفسیاتی وسماجی اثرات کے ساتھ ساتھ اقتصادی اثرات کابھی اندازہ لگایاجائے تاکہ وسائل کابہتر استعمال بروئے کارلایاجاسکے ۔

لاک ڈاءون میں نرمی پر ڈاکٹروں کی تشویش

وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں لاک ڈاءون کوڈاکٹرزنے ایک مذاق قراردیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ خداراحکومت لاک ڈاءون سخت کرے ،یہ بالکل عین حقیقت کے مطابق مطالبہ ہے کیونکہ سڑکوں پرجومختلف ناکے لگائے گئے ہیں وہ بھی کوروناوائرس کے پھیلاءو کا سبب بن رہے ہیں جہاں نہ توسماجی فاصلہ ہے اورنہ ہی دیگراحتیاطی تدابیر موجود ہیں ۔ ایک جم غفیرکا جھمگٹ نظرآتاہے اسی وجہ انڈس اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی (پیما)کے صدر ڈاکٹرعظیم الدین پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی ڈاکٹر سعد خالد نیازاور دیگرنامور ڈاکٹرزنے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے آغاز میں لاک ڈاون پر سختی کی لیکن آہستہ آہستہ لاک ڈاون پورے ملک میں مذاق بن گیا ۔ 16اپریل تک 6772 مریض تھے جو گزشتہ چار د نوں میں بڑھ کر9464 ہوچکے ہیں یعنی چاردن میں 2692مریض سامنے آچکے ہیں چار روز میں متاثرین کی تعداد 40 فیصد بڑھی ہے ۔ اگر لاک ڈاون کو سخت نہ کیاگیاتو مشکل بڑھ جائے گی مریض تعداد سے زیادہ آگئے تو حالات سنگین ہوجائیں گے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہ میں سڑکوں پر مریضوں کا علاج کرنا پڑے کراچی میں اسپتالوں میں 80فیصد جگہ بھر چکی ہے اگلے تین چار ہفتے بہت اہم ہیں ۔ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تاجر برادری تعاون کرے ہماری علماکرام سے درخواست ہے کہ وہ مساجد میں نماز ادائیگی کا فیصلہ واپس لیں اورعوام کو نماز تراویح گھروں پر پڑھنے کی تلقین کریں ۔ سندھ میں 162ڈاکٹرز کورونا کاشکار ہوچکے ہیں ،حکومت کا خیال ہے ستر ہزار کورونا کے مریض سامنے آئیں گے اگر ان میں سے دس فیصد مریض سنگین نوعیت کے ہوئے تو ہمارے پاس انہیں سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہوگی،صرف احتیاط سے ہی بچاجاسکتا ہے ۔ اگریہی صورتحال رہی تو کہیں ایسا نہ ہوسڑکوں پر علاج کرنے پر مجبور ہوجائیں ۔