- الإعلانات -

پاکستانیوں کی اموات، درجنوں کفن واپسی کے منتظر

کرو نا وائرس نے زندہ تو زندہ مرحومین کو بھی تدفین جیسے بنیادی حق کیلئے لائنوں میں لگا دیا ہے ۔ ایک جائزے کے مطابق یورپ میں درجنوں پاکستانیوں کی ۔ ۔ ڈیڈ باڈیز ۔ ۔ اسوقت مختلف سرد خانوں میں تدفین کے عمل کی منتظر ہیں ، اٹلی، اسپین ، فرانس جرمنی جیسے ممالک میں جہاں ہمارے یہ پیارے اوورسیز پاکستانی ساری زندگی اپنے خاندانوں کو سپورٹ کرتے اور اپنا پیٹ پالنے کے ساتھ ساتھ کثیر زرمبادلہ کی صورت میں اپنے ملک کا خزانہ بھی بھرتے رہے لیکن ;200;ج اس ناگہانی صورتحال میں ان میں سے کئی بد نصیبوں کے لاشے اپنی سرزمین پر تدفین کے منتظر پچھلے ایک ماہ سے زائد عرصے سے چند یورپی ممالک کے سرد خانوں میں پڑے ہیں ۔ جرمنی،، جہاں کہا جاتا ہے کہu cannot afford to die in germany اور جہاں ایسی اموات ابھی بہت کم ہیں لیکن اسپین جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی تدفین کا عمل ایک مشکل کام کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا ۔ سول رجسٹری یہاں کا متعلقہ محکمہ ہے ۔ موت کی صورت میں 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران تدفین یا جو بھی عمل ہو اسے مکمل کرنا ضروری ہے ۔ لاش کو چند دنوں کیلئے سرد خانے میں رکھتے ہیں , فوری طور پر سپرد خاک نہیں کیا جاتا بلکہ انڈر ٹیکرز کے ذریعے niche وغیرہ( ایک مخصوص عارضی قبر جیسے دیوار میں خانے بنے ہوں ) میں ایک خاص معاہدے کے تحت ایک مقررہ مدت تک رکھوائی جاتی ہیں اور اگر اسپین ہی میں تدفین درکار ہو تو پھر با قاعدہ اسے دفن کرنیکا بھی ایک سسٹم موجود ہے ۔ 10، 15 سال کیلئے عارضی تدفین کیلئے ایک پاکستانی سے 7،8 ہزار یورو جو پاکستانی 14،15 لاکھ روپے بنتے ہیں ، وصول کئے جاتے ہیں اور پھر مقررہ مدت کے بعد ڈیڈ باڈیز کو ۔ ۔ ڈسپوز ;200;ف ۔ ۔ کر دیا جاتا ہے ، زمین خالی کرا لی جاتی ہے یا باقیات کو اپنے اپنے ممالک میں بھیجنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ اور اس کیلئے بحرطور ایک لمبے پروسیجر کو مکمل کرنا ہوتا ہے ۔ اسی سے ملتے جلتے قوانین تقریبا پورے یورپ میں راءج ہیں ۔ ان ممالک میں تابوت اور نعش کو مصالحے اور خوشبویات لگا کر دیر تک محفوظ کرنے پر بھی بھاری اخراجات ;200;تے ہیں ۔ ایک نجی ٹاک شو کے مطابق متعدد پاکستانیوں کی اموات ان ممالک میں کرونا کی وجہ سے ہوئیں جو گذشتہ کئی دنوں سے مختلف اسپتالوں کے سرد خانوں میں پڑی ہیں کیونکہ پوری دنیا میں اس وبا کی وجہ سے تمام بین القوامی پروازیں معطل ہیں انکے ورثا سخت پریشان ہیں بلکہ کئی لوگ تو عارضی تدفین کا خرچہ بھی برداشت نہیں کر سکتے اور مرحومین کی خواہش کے مطابق وہ ہر صورت پاکستان میں تدفین کرنا چاہتے ہیں ،لیکن حالات نے یہ سب کچھ فی الحال ناممکن سا بنا کے رکھ دیا ہے ۔ اس غیر یقینی صورتحال میں ہمارے یہ پاکستانی اور انکے پیارے اپنی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن جیسے پہلے عرض کر چکا ہوں ہر طرف صورتحال غیر یقینی ہے، حکومت بھی تذبذب کا شکار ہے، لیکن یہ بات اگر کہی جائے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں سمندر پار پاکستانیوں کا بڑا ہاتھ ہے، ہر مشکل وقت میں ان محنت کشوں اور کاروباری طبقے نے اسکی دامے درمے سخنے دل کھو ل کر ہر کال پر لبیک کی صدا بلند کی ہے لیکن ;200;ج پوری دنیا میں پھنسے یہ مجبور لوگ اپنی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب ۔ پی ;200;ئی اے ۔ کا کوئی جہاز ;200;کر انہیں مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے ملک پہنچائے گا،ایک ایک لمحہ ان پر سالوں جیسا بن چکا ہے ۔ زندہ لوگ جو ان غیر معمولی حالات میں دنیا کے کسی بھی ملک میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں بھی فوری واپس لانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، وہ تو بول رہے ہیں ، اپیلیں ،احتجاج کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے وہ جلد اپنی دھرتی پر اتریں گے اور اگر زندگی باقی ہے تو کسی نا کسی طرح یہ مشکل وقت کاٹ ہی لیں گے لیکن کیا کریں یہ ۔ کفن پوش ۔ تو اب بول بھی نہیں سکتے، احتجاج تو دور کی بات ہے اور جب کسی کے گھر میں ایک جنازہ پڑا ہو اور بغیر تدفین کے مہینے گزرنے شروع ہو جائیں توتصور کریں اہل خانہ کے دل پر کون کونسی قیامتیں نہ گزر رہی ہوں گی، صبح شام انکی ذہنی اور جسمانی کیفیت کیا ہو گی;238; ۔ حکومت کو چاہیے کہ جیسے فرانس انگلینڈ میں پروازیں بحال کی گئیں ہیں اسپین، اٹلی وغیرہ جیسے ممالک سے بھی فوری طور پر ایک دو طیاروں کے ذریعے تمام کے تمام شہدا اور مرحومین کی ۔ ڈیڈ باڈیز ۔ فوراً اپنے اپنے علاقوں میں پہنچانے کا بندو بست کریں ، وہ ممالک خود اس وبا اور روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں اموات پر علحیدہ پریشانیوں میں گھرے نظر ;200;تے ہیں ، اتنے بڑا کرائسز سے نبرد;200;زما ہونا بھی مشکل ہے ۔ ان پاکستانیوں نے زندگی بھر ہماری بھرپور امداد جاری رکھی اب ان پر عارضی طور پر ایک کڑا وقت اگر ;200; گیا ہے تو حکومت فوری طور پر;200;گے بڑھے، انتہائی کم ترین خرچہ پر تمام کی تمام ڈیڈ باڈیز کو پاکستان لایا جائے اور ۔ پی ;200;ئی اے ۔ اپنی ایمبولینس سروس کے ذریعے مکمل عزت و احترام سے تمام ڈیڈ باڈیز کو انکے علاقوں میں پہنچانے کا بندوبست کریں تاکہ مناسب تعظیم و تکریم سے انکی ;200;خری رسومات کے بعد انہیں سپرد خاک کیا جا سکے ۔ ۔ کہا جاتا ہے ان میں سے اکثر نے کہ وصیت کی تھی کہ انکی وفات کی صورت میں انہیں اپنے وطن کی مٹی میں دفن کیا جائے ۔ اس لیئے حکومت پر انکی ;200;خری وصیت کا مان رکھنا بھی واجب ہے ۔ اس موقع پر بہادر شاہ ظفر کی مشہور غزل کے چند اشعار پیش کرتا ہوں :—

عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن

دو ;200;رزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کیلئے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں