- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر عالمی توجہ کا متقاضی

کشمیر کا خطہ گزشتہ آٹھ ماہ سے لاک ڈاوَن کے زیر اثر رہا ہے اور لاکھوں افراد تاحال انٹرنیٹ اور دیگر رابطے کے سافٹ وئیر استعمال کرنے سے محروم ہیں ۔ اس سے معمول کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے ۔ جس کے باعث مقبوضہ کشمیر میں نا صرف نفسیاتی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کورونا کے پھیلاوَ کو روکنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں دو فوٹو صحافیوں کو مبینہ طور پر ہندوستانی سنٹر ریزرو پولیس پرسنلز (سی آر پی ایف) نے میہندی کڈیل ۔ اشاجی پورہ بائی پاس روڈ اسلام آباد میں چیکنگ پوائنٹ پر ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا ۔ شاہ جنید فوٹو جرنلسٹ کی حیثیت سے روزنامہ آفتاب اور منیب الاسلام روزنامہ روشنی کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ اسی طرح کشمیری خاتون جرنلسٹ مسرت زہرہ کو ملک مخالف پوسٹس اپلوڈ کرنے کے الزام پر تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ بھارت اس سے قبل بھی کشمیری صحافیوں کو قید کرچکا ہے ۔ بھارتی پولیس کا دعوی کیا ہے کہ مسرت زہرہ نوجوانوں کو اپنے فیس بک پوسٹس کے ذریعے ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے کےلئے اکسا رہی تھیں جس کی وجہ سے امن و قانون میں خلل واقع ہونے کا امکان تھا ۔ مذکورہ فیس بک صارف ایسا مواد بھی اپ لوڈ کررہی ہیں جو ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی شبیہ بگاڑنے کے مترادف ہے اس ضمن میں سائبر پولیس نے ایک ایف آئی آر زیر نمبر 10;223;2020 زیر سیکشن ;85658065;) act) کے تحت ان پر مقدمہ درج کیا ہے ۔ اس ضمن میں مسرت زہرہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں صبح تک کوئی علم نہیں تھا تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی پولیس کا پریس ریلیز دیکھا جس میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تفصیلات درج تھیں ۔ مسرت زہرہ سرینگر کے علمگری بازار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون فوٹو جرنلسٹ ہیں جو قومی و بین الاقوامی سطح پر مختلف میڈیا اداروں کے ساتھ فری لانس فوٹو گرافر کے طورپر وابستہ ہیں اور ان کا کام ملکی سطح پر کافی سراہا گیا ہے ۔ مسرت زہرا نے بتایاکہ اْنھوں نے خواتین میں نفسیاتی تناوَ سے متعلق ایک خبر کے لیے گاندربل ضلع کی ایک خاتون کا انٹرویو کیا تھا جنھوں نے بتایا کہ 20 سال قبل اْن کے خاوند کو ایک ’جعلی مقابلے‘ میں ہلاک کیا گیا تھا ۔ مسرت کے مطابق انھوں نے اس خبر سے متعلق تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں ۔ مسرت کو سرینگر میں قائم سائبر پولیس سٹیشن طلب کیا گیا تھا ۔ بھارت کے روزنامہ ’دی ہندو‘ کے نامہ نگار عاشق پیرزادہ کو بھی سرینگر سے ساٹھ کلومیٹر دور اننت پولیس تھانے میں طلب کیا گیا ۔ عاشق کہتے ہیں کہ انھوں نے ضلع شوپیان سے ایک ایسے جوڑے کی کہانی رپورٹ کی تھی جن کا بیٹا ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا ۔ عاشق کیخلاف کوئی مقدمہ تو درج نہیں تاہم اننت ناگ طلبی کو وہ ایک ’سزا‘ ہی قرار دیتے ہیں ۔ ’اعتراض یہ تھا کہ میں نے حکام کی رائے شامل کیوں نہیں کی ۔ لیکن میں نے کئی مرتبہ ڈپٹی کمشنر کو فون کیا اور ٹیکسٹ بھی کیا، لیکن وہ مصروف تھے ۔ یہ سن کر پولیس والے مطمئن ہوگئے اور میں رات گئے گھر واپس لوٹ آیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کی تھانوں میں طلبی ایک دیرینہ عمل ہے جو گزشتہ کئی برس سے جاری ہے تاہم یو اے پی اے قانون کے تحت مسرت ظہرہ کیخلاف کارروائی اپنی نویت کا پہلا واقعہ ہے ۔ یہ قانون گزشتہ برس پارلیمان سے منظور ہوا تھا اور اسی قانون کے تحت وادی میں انسانی حقوق کے کئی کارکنوں کو قید کیا گیا ہے ۔ کشمیر میں ویسے بھی کام کرنا خطرناک ہے اور ایسے وقت پر جب صحافی انٹرنیٹ پر پابندی اور کورونا وائرس کے خوف کے بیچ کام کر رہے ہیں تو اْن پر طرح طرح کی بندشیں عائد کرکے یہاں کی صحافت کو محدود کیا جا رہا ہے ۔ آن لائن سیمینار کا عنوان تھا، ;34;مسئلہ کشمیر کا کورونا وائرس اور دیگر مسائل سے پس پردہ جانے کا خدشہ: کیا پالیسی اختیار کرنی چاہئے‘‘ ۔ یہ ایک مخمصہ ہے جس کا سامنا بہت سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور پالیسی ساز افراد کو درپیش ہے ۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی کارکنوں ، صحافیوں ، اور کشمیری، پاکستانی اور او آئی سی سمیت دوسرے بڑے ممالک کے سفارت کاروں نے گزشتہ چند مہینوں سے مسئلہ کشمیر پر عالمی توجہ حاصل کرنے کےلئے سخت محنت کی ہے ۔ تاہم اس ضمن میں اب کچھ تشویش پائی جارہی ہے کہ عالمی وبا کشمیر پر بین الاقوامی دلچسپی کو متاثر کر سکتی ہے ۔ کشمیر ایک طویل عرصے سے عالمی راڈار سے دور تھا لیکن 2016 کے بعد دوبارہ عالمی مسئلے کے طور پر سامنے آیا ۔ اقوام متحدہ نے 2018 اور 2019 میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر دو جامع رپورٹیں جاری کیں ۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد پارلیمانوں نے حالیہ عرصے میں کشمیر کی صورتحال پر سماعتیں کیں ۔ بین الاقوامی میڈیا کی بدولت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم اور سیاسی بحران کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بے مثال ہے ۔ تاہم کشمیر پر اس ساری عالمی توجہ کو کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ کشمیری کارکن اور پالیسی ماہرین نے ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 5 اگست 2019 کے بعد کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کورونا وائرس کے دوران اور اس کے بعد کی دنیا کو مسئلہ کشمیر پر آگاہ رکھنے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔