- الإعلانات -

وزیراعظم کی ٹیلی تھون ٹرانسمیشن اورعوام کاجذبہ ایثار

وزیراعظم پاکستان نے ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ کسی بھی آفت کےخلاف پوری قوم متحد ہے اورجو مخیرحضرات ہیں وہ عوام کے لئے درد رکھتے ہیں جس کاواضح ثبوت ٹرانسمیشن کے دوران جمع ہونے والاریلیف فنڈ ہے جو کہ کروڑوں روپے ہے جبکہ مجموعی اعتبارسے وزیراعظم کوروناریلیف فنڈ میں اربوں روپے لوگوں نے امدداد دی ہے ۔ واضح رہے کہ دنیابھر میں پاکستانی قوم سب سے زیادہ اللہ کی راہ پردینے والی قوم ہے ۔ کورونا ریلیف فنڈ کے حوالے سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ وہ شروع دن سے ہی لاک ڈاون کے خلاف تھے ،پوراملک بندکردیں تو بھی کورونا نہیں رکے گا، ہ میں وائرس کے ساتھ رہنا پڑیگا اس نے پھیلنا ہے ،پاکستان میں جو ٹرینڈ نظر آرہا ہے اس سے لگتاہے زیادہ کیسز نہیں ہوں گے،لاک ڈاءون سے لوگوں کی جمع پونجی خرچ ہورہی ہے اب ہ میں مکمل کی بجائے اسمارٹ لاک ڈاءون کی طرف جاناپڑیگالوگ مشکل میں ہیں ،دکانیں کھولنی پڑیں گی مکمل لاک ڈاءون کرلیاتو دیہاڑی دار لوگوں کو کیسے سنبھالیں گے ،مساجدکھولنے پر ڈاکٹرزکے تحفظات سمجھتاہوں ۔ حکومت ڈنڈے مارکر کچھ نہیں کرسکتی قوم ذمہ داری دکھائے مساجد میں جانا خطرے سے خالی نہیں ،علماذمہ داری دکھائیں ، 20نکاتی معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی تو مساجد بند کردیں گے، ڈیم فنڈ وہیں کا وہیں ہے وہ ادھرہی جائیگا،آصف زرداری اور شہباز شریف کو فنڈریزنگ میں ملالیاتو خطرہ ہے کہ عطیات ہی کم ہوجائیں گے،کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کا پتہ لگانے کےلئے حکومت آئی ایس آئی کی جانب سے فراہم کیا گیا سسٹم استعمال کررہی ہے ،مئی کے وسط سے ہمارا مشکل وقت شروع ہوگا، اگلے ہفتے تک ملک میں کورونا وائرس کے15ہزار کیسز ہوسکتے ہیں ، اب تک مختلف ٹیلی تھون کے ذریعے 2ارب 76 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جمع ہوچکے ہیں ۔ اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ سرکاری اسپتال تو صرف غریبوں کےلئے ہی ہیں ، امیر لوگ تو بیرون ملک علاج کرانے چلے جاتے ہیں آپ عدالتوں اورجیلوں میں چلے جائیں وہاں سارے غریب لوگ ہیں کوئی بھی فیصلہ پورے پاکستان کیلئے ہونا چاہیے اشرافیہ کیلئے نہیں جب فیصلے ایلیٹ کلاس کےلئے کریں گے تو غلطیاں ہوں گی اب دو پاکستان یہاں نہیں چل سکتے ہمارا بہت بڑا مسئلہ پاور سیکٹر ہے سب سے بڑا عذاب مہنگی بجلی کے معاہدے ہیں ۔ اگر بجلی کی قیمتیں نیچے آ گئیں تو مہنگائی کم ہوجائیگی، ایل این جی اورگیس کی قیمتوں کے مہنگے معاہدے کیے گئے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزرا اور مشیران نے گزشتہ روز ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کا دورہ کیا ۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔ وزیر اعظم کو داخلی اور خارجی محاذوں پر درپیش چیلنجز کیساتھ کورونا کے اثرات پر بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی سلامتی، سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی ۔ وزیراعظم نے اعلیٰ ریاستی ایجنسی آئی ایس آئی کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا ۔ دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں پنجاب میں کورونا وائرس کی صورتحال، روک تھام کے حوالے سے اقدامات، صنعتی عمل کی روانی خصوصا حکومت کی جانب سے کھولی جانے والی صنعتوں میں حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات، ذخیرہ اندوزی کے تدارک اور ماہ رمضان کے حوالے سے کیے جانے والے مختلف اقدامات پر بات چیت کی گئی ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم سے ارکان قومی اسمبلی راجا ریاض احمد اور فیض اللہ کموکا نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دنیابھر میں کوروناوائرس کے پھیلاءو کو روکنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں پاکستان میں بھی اس مسئلے پرخاصی سنجیدگی نظرآتی ہے حکومت افواج پاکستان ڈاکٹرز حضرات محکمہ پولیس اوردیگرادارے بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں ۔

سارک وزرائے صحت کی ویڈیوکانفرنس

سارک وزرائے صحت کی ویڈیو کانفرنس کا انعقاد انتہائی خوش آئندہے کیونکہ اس وقت پوری دنیاکوروناوائرس کے حوالے سے متحد ہے اور ایسے میں پاکستان کی جانب سے سار ک کانفرنس کی میزبانی کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خطے کے متعلقہ ممالک وباء سے نمٹنے کے لئے متحد ہیں اوراس سلسلے میں پاکستان کلیدی کرداراداکررہاہے ۔ گزشتہ روزپاکستان نے سارک وزرا صحت کی ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے صدارت کی تمام سارک ممالک کے وزرا صحت اور صحت کے شعبہ سے متعلقہ سینیٹر ;200;فیشلز نے شرکت کی ۔ سارک کے سیکرٹری جنرل نے بھی شرکت کی سارک ممالک نے پاکستان کے اس اقدام کو سراہا اور سارک کے تحت شعبہ صحت اور خاص طور پر کرونا وائرس کی وبا کے تعاون پر اتفاق کیا ۔ تمام سارک ممالک نے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے اپنے تجربات سے آگاہ کیا صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور کورونا وائرس کی وباء سے مقابلہ کرنے کیلئے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کروانا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان کے اقدامات سے ;200;گاہ کیا ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان کی سارک کوششوں اور نیشنل ایکشن پلان سے بھی ;200;گاہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران کی سربراہی میں قومی رابطہ کمیٹی کورونا وائرس کے خلاف سر گرم عمل ہے ۔ پاکستان سمارٹ لاک ڈاءون کی حکمت عملی پر کام کر رہاہے تاکہ بیماری کے بچا ءوکے ساتھ ساتھ معیشت کے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکے ۔ کورونا وائرس ایک عالمی وبا ء ہے جس کے اثرات دور رس ہیں ۔ سارک چارٹر کے تحت صحت کے شعبہ میں ٹیکنیکل کمیٹی کو فعال کرنے کی ضرورت ہے ۔ کانفرنس کے دوران کوروناوائرس کے حوالے سے احتیاطی اورتادیبی اقدامات سے پاکستان نے ممالک کوآگاہ کیا اورکانفرنس میں موجودتمام ممالک کے نمائندوں نے پاکستان کے کئے گئے اقدامات کوسراہا ۔

رمضان المبارک کی آمد۔۔۔ گرانفروش متحرک

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں نے اشیائے خوردونوش کی بڑے پیمانے پر خریداری کی ہے اور خریداروں کے بہت زیادہ رش کے باعث حکومت کے جاری کردہ تمام ایس اوپیز کو عوام نے ہوا میں اڑادئیے جبکہ 6فٹ کے فاصلے پر ایک دوسرے سے دوری کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا گیا ۔ حکومت کا کمزور اور بوسیدہ پرائس کنٹرول میکنزم بھی اس موقع پر دم توڑ گیاجس کے سبب اشیائے خورد نوش ا اشیائے صرف اور سبزی وفروٹ کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ،کھجلہ و پھینی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 سے سو روپے فی کلو کا اضافہ کردیا گیا جبکہ اس دوران گائے،بکرئے اور مرغی کے گوشت دکانداروں نے زیادہ خریداری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی قیمت فروخت کیا،ہفتے کو پہلے روزے کے امکان کے سبب گزشتہ روز مارکیٹوں بازاروں پر بہت زیادہ غیر معمولی خریداروں کا رش رہا ۔ ایک دکان پر بیک وقت 10 سے 20 افراد جوڑ کر خریداری کرتے رہے ۔ اس موقع پر نہ پولیس نظر آئی نہ دیگر قانون نافذ کرنےوالے ادارے نظر آئے ۔ دوسری جانب ہلاکت خیز کورونا وائرس کی وبا ء کے پاکستان میں پھیلاءو کو روکنے کیلئے طبی ماہرین کی جانب سے فیس ماسک، دستانے، سینیٹائزر، ہینڈ واش، کٹس و دیگر حفاظتی اشیا اورڈیٹول سمیت جراثیم کش ادویہ اور اسپرے کے لازمی استعمال کی ہدایت کے بعد ان اشیا کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں جبکہ کچھ اشیا مارکیٹوں سے غائب ہوکر نایاب ہو گئیں ۔ اس صورتحال سے ذخیرہ اندوز بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں اور عوام کورونا وائرس سے بچنے کیلئے حفاظتی اشیا کی منہ مانگی قیمت دینے پر مجبور ہیں ۔ قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور واپس پرانی قیمتوں پرلانے کےلئے کوئی موثر اقدام نہیں کیا جارہا ۔ حکومت کی جانب سے گراں فروشی کی روک تھام کےلئے مناسب اقدامات نہ کئے جانے سے مسائل جنم لے رہے ہیں ۔