- الإعلانات -

بھارت میں کورونا بم ،جنوبی ایشیاء کےلئے خطرے کی گھنٹی

المی بینک کی طرف سے اتوار بارہ اپریل کو خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دنیا کے سب سے زیادہ ;200;بادی والے خطوں میں شمار ہونے والا جنوبی ایشیا اس وقت نئے کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے ایک ایسے دوراہے پر ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی ریاستوں کو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اپنی بدترین اقتصادی کارکردگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ جس کی وجہ سے اِس خطے میں گزشتہ چار دہائیوں سے غربت کے خاتمے کےلئے کی جانے والی کوششوں کے ضائع ہو جانے کا بھی خطرہ ہے ۔ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور سری لنکا، مالدیپ، نیپال اور بھوٹان سمیت خطے کی مجموعی ;200;بادی 1;46;8 ارب بنتی ہے ۔ دنیا کے بہت گنجان ;200;بادی والے شہروں میں سے کئی بڑے شہراسی خطے میں واقع ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی یورپی ممالک کی نسبت اب تک اس خطے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کم ہے ۔ تاہم جنوبی ایشیا میں اس وباء کے برے اثرات تو دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ہر جگہ لاک ڈاوَن ہے اور معمول کی سماجی، کاروباری اور تجارتی زندگی معطل ہے جبکہ صحت کی ناکافی سہولیات الگ سے بڑا چیلنج ہیں ۔ صحت کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کورونا وائرس کا نیا محاذ بن سکتا ہے ۔ یہاں لاکھوں لوگ کچی بستیوں میں رہتے ہیں اور صحت کا نظام بھی بہت کمزور ہے ۔ انڈیا میں کئی ایسے شہروں کو ریڈ زون قرار دے دیا گیا ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ ان شہروں میں دارالحکومت نئی دہلی، ممبئی، چنئی،بنگلورو، کولکتہ اور حیدر;200;باد بھی شامل ہیں ۔ اب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھارت کےلئے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے ۔ اس کا کہناہے کہ بھارت میں وباء سے متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ سے زیادہ ہو سکتی ہے اور صحت کی ناکافی سہولیا ت کے باعث بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہونگی ۔ خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے تو پھر پورے جنوبی ایشیا کا مستقبل خطر ے میں پڑ سکتا ہے ۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے بڑی پریشانی ٹیسٹوں کی یومیہ تعداد کم ہونا ہے ۔ انڈیا میں ہر 10 لاکھ افراد کی ;200;بادی میں سے صرف 203 افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا ہے جو کہ برازیل جیسے ملک سے بھی کم تعداد ہے ۔ برازیل میں یہ تعداد 296 ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک سب سے زیادہ کورونا کیسز بھارت جبکہ کے سب سے کم بھوٹان میں رپورٹ ہوئے ہیں ۔ سوا ارب ;200;بادی والا ملک بھارت وبا کے حوالے سے جنوبی ایشیا کےلئے خطرے کا باعث ہو سکتا ۔ بھارت میں وباء کے اثرات بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں ۔ بھارت میں عوامی صحت کا نظام عموما ًاقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے طے شدہ معیارکے منافی سمجھا جاتا ہے ۔ بھارت عوامی صحت پر سب سے کم خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے ۔ دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق ایک ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے لیکن بھارت بہت پیچھے ہے ۔ بھارت کی مرکزی وزارت صحت کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں چودہ لاکھ ڈاکٹروں کی کمی ہے اور ہر سال 5500 ڈاکٹر ہی تیار ہو پاتے ہیں ۔ بھارت میں بچوں کی شرح اموات فی ایک ہزار پر 52 ہے جبکہ سری لنکا میں یہ15،نیپال میں 38،بھوٹان میں 41اور مالدیپ میں یہ ہندسہ20کا ہے ۔ وسائل اور صحت کی سہولیات کی غیر متوازن تقسیم کے علاوہ بھارت میں بیماروں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی بڑا چیلنج ہے ۔ بھارت میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد پہلے 2020تک 3;46;6 کروڑ تک اندازہ لگایا گیا تھا ، اب یہ 7;46;5 کروڑ سے پہلے ہی ;200;گے نکل چکی ہے ۔ جلد ہی دنیا میں ہر پانچ ذیابیطس کے مریضوں میں ایک بھارتی ہوگا ۔ اسی طرح رواں برس ورلڈ کینسر ڈے کے موقع پر جاری ہونے والی رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بھارت میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں گیارہ لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے ;200;ئے ہیں ۔ اس دوران سات لاکھ چوراسی ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مردو ں میں کینسر کے پانچ لاکھ ستر ہزار اور خواتین میں پانچ لاکھ ستاسی ہزار نئے کیسز کا پتہ چلا ۔ دہلی کے ;200;ل انڈیا انسٹی ٹیوٹ ;200;ف میڈیکل سائنسز کے مطابق اگلے چند برسوں میں کینسر کے ساٹھ فیصد کیس ایشیائی ملکوں میں ہوں گے، جس میں بھارت سب سے زیادہ متاثر ہو گا ۔ امریکہ اور یورپ میں ستر فیصد کینسر متاثرین بچ جاتے ہیں لیکن بھارت میں چالیس فیصد ہی بچ پاتے ہیں ۔ اس وقت امریکہ میں کینسر کے ایک سو اور انگلینڈ میں چار سو مریضوں کےلئے ایک ڈاکٹر ہے جبکہ بھارت میں سولہ سو مریضوں کےلئے ایک ڈاکٹر ہے ۔ انڈین کینسر سوساءٹی کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ 1990 سے 2016 کے درمیان بھارت میں کینسر کے مریضوں میں اٹھائیس فیصد جب کہ اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد میں بیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ کینسر کا علاج کافی مہنگا ہے، اس لیے بھارت میں مڈل کلاس اور غریب مریضوں کےلئے اس کا علاج کرانا بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ بھارت کی معروف تجزیہ نگارارون دھتی رائے کے ایک تازہ مضمون میں بھارت میں صحت کے کمزرو نظام خاص کر 60فیصد دلت و اچھوتوں اور کروڑوں یگر غریب ہندوءوں کے علاوہ پس ماندہ مسلمان، عیسائی و سکھ اقلیتوں کیلئے ادویات و علاج معالجہ کی عدم دستیابی کی جس صورت حال کا ذکر کیا گیاہے ۔ ایسی صورتحال میں جب تمام ہندو پروہت ، سادھوسنت اور اعلیٰ ذات کے برہمن سادھو جو گائے کے گوبر اور گائے موتر کو کرونا وائرس کا شافی علاج بتارہے ہیں کرونا وائرس بھارت میں پھیلا تو نہ جانے کس قدر جانی نقصان ہوسکتا ہے ۔ دوسری طرف انتہا پسند ہندو حکمرانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ، عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مودی حکومت اسپتالوں کے نظام کو بہتر بنانے اور لاک ڈاوَن میں عوام کےلئے ریلیف کا سوچتی مودی حکومت اسرائیل سے مشین گنیں خریدنے اور دارالحکومت کے ماسٹر پلان پر خرچ کرنے کا منصوبہ شروع کر رہی ہے ۔ سوا ارب ;200;بادی کےلئے صرف 40ہزار وینٹی لیٹرز ہیں جو نصف سے زیادہ ویسے ہی خراب ہیں ۔ اسرائیلی مشین گن کی قیمت پانچ لاکھ روپے بتائی جاتی ہے جبکہ ایک وینٹی لیٹر کی قیمت بھی اتنی ہی ہوتی ہے ۔ بھارتی عوام کا پوچھنا یہ حق بنتا ہے کہ کیا وبا کے ماحول میں وینٹی لیٹرز ضروری ہیں کہ اسرائیلی مشین گنیں ۔ ہمارے کئی پاکستانی بھائی بھی علاج کی غرض سے نجانے کیوں بھارت جانے کو ترجیح دیتے ہیں ، شاید انہیں کوئی سبز باغ دکھا کر وہاں جانے پر قائل کرتے ہیں ۔ جس کا انہیں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستانی ڈاکٹرز زیادہ قابل اورمحنتی ہیں ۔ ابھی حال ہی میں بھارت سے چند پاکستانی واپس لوٹے تو ان میں کورونا وائرس پازیٹو نکل آیا ، یوں انہیں لینے کے دینے پڑ گئے ہیں ،اللہ کرے وہ اب خیریت سے ہوں ۔