- الإعلانات -

لاک ڈاءون میں مزید توسیع اورہماری ذمہ داریاں

کوروناوائرس کی وباء نے پوری دنیاکوتلپٹ کرکے رکھ دیا ہے، اب ہرملک اس وباء سے نمٹنے کےلئے کوششیں کررہاہے مگراس کے اثرات کب تک رہیں گے اس کا اندازہ ابھی کسی کونہیں ۔ قومی رابطہ کمیٹی نے تا جروں اورصنعت کاروں کی طرف سے شدیدمطالبے کے بعدلاک ڈاءون میں کہیں کہیں جزوی نرمی کی منظوری دے کرایک بہت بڑامطالبہ پورا کردیا جس سے رمضان المبارک اورعیدالفطرکی خریداری میں لوگوں کو سہولت میسرہوگی کیونکہ طویل لاک ڈاءون سے گزشتہ پانچ ہفتوں سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے نہ صرف تاجرطبقہ بڑے خسارے اورمالی نقصان کاشکار ہے بلکہ عوام بھی گھروں میں قیدہوکررہ گئے ہیں ۔ اس تناظر میں قومی رابطہ کمیٹی نے ملک میں موجودہ جزوی لاک ڈاءون میں ;200;ئندہ ماہ کی نو تاریخ تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ اعلان منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر اسد عمر نے اسلام ;200;باد میں وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ رمضان المبارک میں سحر اور افطار کے اوقات کے دوران کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی ۔ وزیر منصوبہ بندی نے احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اب تک ملک بھر میں ستاون لاکھ خاندانوں میں انہتر ارب روپے تقسیم کیے ہیں ۔ شہری رمضان المبارک کے دوران احتیاطی اقدامات اختیار کریں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ڈیجیٹل میڈیا کے صحافیوں سے گفتگو میں آئی ایس آئی کی مدد سے لاک ڈاءون کیلئے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا پاکستان سمیت دنیا بھر کیلئے امتحان ہے ،ہ میں قوم بن کر اس امتحان سے نبرد آزما ہونا پڑے گا ، لاک ڈاءون کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری بڑھی، ہ میں لاک ڈاءون کے ساتھ کاروبار بند نہیں کرنے چاہیے تھے،کسی ملک یا عالمی ادارے نے ایک ڈالر بھی مدد نہیں کی، زرمبادلہ اور ٹیکس گرگیا، کاروبار بند ہوگئے پاکستان کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، ہ میں صرف غیرملکی قرضوں پر شرح سود کی ادائیگی میں ایک سال کی چھوٹ ملی ہے،جنہوں نے کرپشن سے پیسہ بنایا وہ آزاد میڈیا سے خوفزدہ ہیں تاہم کوئی کتنا بھی جھوٹ بولے، بالآخر عوام سچ ڈھونڈ لے گی،پلانٹڈپروگرامزکیلئے پیسہ خرچ کیاگیا ہالی وڈ اور بالی وڈ فحاشی پھیلا رہے ہیں اور یہ فحاشی خاندانی نظام کو تباہ کر رہی ہے ۔ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کورونا کب تک رہے گا لیکن اب ہم جدید سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ کوروناوباء کی وجہ سے بہت سے شعبے متاثر ہوئے ہیں لائیو سٹاک اور پولٹری کے شعبے کی طلب کی کمی کی وجہ سے سر گرمیاں متاثر ہوئی ہیں ، کیونکہ سماجی تقریبات بہت حد تک کم ہو گئی ہیں ۔ ایس ایم ای سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ بڑی صنعتوں کی زیادہ تر اپنی کالونیاں ہیں جو لیبر کی نقل و حرکت کا خطرہ کم کرتی ہیں ۔ سپلائی میں رکاوٹ ایس ایم ایز کا بڑا مسئلہ متوقع ہے کیونکہ بڑی صنعتوں کے مقابلے میں ا ن کی صلاحیت محدود ہے ،تاہم ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے قومی انکم اکاءونٹنگ ایس ایم ایز پر پڑنے والے اثرات کا درست ا ندازہ نہیں کر سکتا ۔ روزگار کے زیادہ تر نقصانات ایس ایم ای شعبے میں ہونگے کیونکہ ان کی کمزور مالی پوزیشن ہے جو مسلسل دو ماہ کے لاک ڈاءون کو برداشت نہیں کرسکتی ۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ جسے پہلے ہی محدودیت کا سامناتھا پچھلے 3 مہینوں سے اس میں بحالی کے آثارہیں ، خاص طور پر آٹوموبائل اور اپلائنسز میں اس کا اثر پڑے گا ۔ ٹیکسٹائل کو ایکسپورٹ سیکٹر ہونے کی وجہ سے خصو صی رعایت دی گئی ہے ۔ لاک ڈاءون کی وجہ سے سیاحت کی کم آمدن ، ٹرانسپورٹ کی کم نقل و حرکت، تجارتی سرگرمیوں کے تعطل ، تعلیم کی بندش ، ایونٹ مینجمنٹ اور کمیونٹی سروسز کی بندش سے سروسز کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ پاکستان کو بے روزگاری اور معاش کے سخت بحران کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ تعمیراتی شعبہ جو لاک ڈاءون کے پہلے چند ہفتوں میں بند تھا ، حال ہی میں اسے کھولا گیا ہے ، اس کی حوصلہ افزائی کےلئے ایک پرجوش محرک پیکج کے اعلان کیا گیا ہے ۔ خوراک ، دواسازی ، سیمنٹ ، کھاد اور کچھ برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹرپہلے ہی کھلا ہوا ہے ، جس سے روزگار پر دباءو کم ہوگا ۔ اب جبکہ رمضان المبارک کامہینہ ہے اور آج کے حالات ضرورت مند طبقوں کی بھر پور مدد کرنے کا تقاضا کرتے ہیں ماہ رمضان کی اس حوالے سے خاص اہمیت ہے اس لیے صاحب ثروت افراد اور طبقات پر لازم ہے کہ وہ نادار طبقوں کی امداد کرنے کیلئے فوراً میدان عمل میں نکلیں ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ہ میں حکومت کی طرف سے تعین کردہ قواعد و ضوابط پرعمل کرتے ہوئے اپنی ضروریات زندگی کونہ صرف پورا کیاجائے بلکہ باہمی میل جیل میں سماجی فاصلوں کاخیال رکھاجائے تاکہ کوروناسے محفوظ رہا جائے ۔ اگرخدانخواستہ ہدایات پرعمل نہ کیاگیاتوآئندہ آنےوالا ڈاک ڈاءون اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا ۔

بھارتی دھمکیوں کے خلاف پاک فوج کامنہ توڑ جواب

بھارت کی کوروناکومذہب سے جوڑنے کی مذموم کوششیں اوربھارتی فوجی قیادت کی طرف سے حالیہ دھمکی آمیزبزدلانہ اعلانات اُن کی اپنے ملک میں ناکامیوں اورخلفشارسے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے ۔ پاک فوج کی طرف سے ایسی گیدڑبھبکیوں کے منہ توڑ جواب کاپختہ عزم کیاگیا ۔ جی ایچ کیو میں آرمی چیف کی زیر صدارت پی ایس اوز کانفرنس ہوئی، جس میں افواج پاکستان کی ملک کے طول و عرض میں کی گئی تعیناتیاں اور اس حوالے سے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ مستقبل کی حکمت عملی اور ہر قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے اقدامات بھی اس کانفرنس میں زیر غور آئے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کورونا وائرس کو مذہب سے جوڑنے کی مذموم کوشش ناکام ہوگئی ہے ،بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات بھارت کی اندرونی ناکامیوں اور بڑھتی ہوئی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں حالیہ الزام تراشی کا مقصد بھی کورونا وائرس کے دوران اپنی غلط پالیسیوں سے جنم لینے والی غلطیوں کو عالمی اور اندرونی توجہ سے ہٹانا ہے ،بھارت ہندوتوا اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ بھارت کی کشمیر میں لگائی گئی نفرت کی آگ پورے بھارت میں پھیل چکی ہے، کووڈ19 سے متعلق آزاد جموں کشمیر کے حوالے سے بھارت نے جو جعلی خبریں چلانے کی کوشش کی اس کی حقیقت بھی دنیا کے سامنے کھل چکی ہے ۔ کورونا کی وباء کے خلاف فوجی وسیاسی قیادت اور پوری قوم متحدہے اسمارٹ لاک ڈاءون کے تناظر میں ٹریس ، ٹریک اینڈ کوارنٹائن کی جامع حکمت عملی پر عمل کیا جائے گاپاکستان میں کورونا کے کیسزابتدائی اندازوں سے کم ہیں لیکن آئندہ 2 ہفتوں میں کورونا کیسز کی تعداد عروج پر جانے کا خدشہ ہے عوام گھروں کو ہی عبادت گاہ بنا لیں ،ہ میں اجتماعی اور انفرادی طور پر شدید احتیاط کی ضرورت ہے ۔

ا وآئی سی کی افغان دھڑوں سے جنگ بندی کی پھر اپیل

اسلامی تعاون تنظیم نے افغانستان میں تمام رہنماءوں ا ورجماعتوں سے ایک بارپھراپیل کی ہے کہ وہ فوری اورپائیدارجنگ بندی کے لئے مل کرکام کریں ۔ ایک بیان میں اسلامی تعاون تنظیم نے تمام افغان فریقوں پرزوردیاہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران اورکوروناوائرس کی وباء کے پیش نظراپنے ملک کودرپیش مشکل حالات کومدنظررکھتے ہوئے تشدد میں کمی کریں ۔ اوآئی سی نے افغان فریقوں پرزوردیاکہ اپنے تنازعات کے حل،جامع مفاہمت پرپہنچنے اور اس عمل کے لاءحہ عمل کے تحت پائیدارامن کے قیام کےلئے جامع مذاکرات کاعمل بحال کریں ۔ قطر میں افغان طالبا ن اورامریکہ میں طویل مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدوں کے نتیجے میں افغانستان میں طویل خانہ جنگی کے خاتمے اورامن کی توقع ہوئی تھی مگرجوپوری ہوتی نظرنہیں آرہی، گزشتہ روز افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کسی قسم کی جنگ بندی سے انکارکرتے ہوئے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس سے افغانستان میں اشرف غنی حکومت اورعبداللہ عبداللہ گروپ اورطالبان میں جھڑپیں مزید تیزہونے کاخدشہ ہے ۔ ادھراسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے سعودی عرب کی زیرکمان اتحاد کی طرف سے جاری یمن میں جنگ بندی میں توسیع سے متعلق جاری بیان کا خیرمقدم کیاہے ۔