- الإعلانات -

بھونڈا مذاق !

مودی سرکار کی بھارتی مسلمانوں کیخلاف مظالم پر دیدہ دلیری اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ گزشتہ روز گلف نیوز کے ہندوستانی نژاد ایڈیٹر مظہر فاروقی کو بی جے پی کے آئی ٹی سیل کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر انھوں نے مسلمانوں کے استحصال کے بارے میں خبریں چھاپنا بند نہیں کیں تو انھیں اس کے سنگین نتاءج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ مظہر فاروقی نے بھارت میں تیزی سے بڑھ رہے اسلامو فوبیا کی بابت رپورٹ شاءع کی، علاوہ ازیں انھوں نے خلیجی ممالک میں ملازمت کرنے والے ہندوستانیوں کے اسلام مخالف پیغامات کو بھی منظم عام پر لانا شروع کیا ۔ ان کی ان رپورٹس پر ایکشن لیتے ہوئے کچھ خلیجی ممالک نے ایسے ملازموں کیخلاف کاروائی بھی کی مگر اپنی اس نفرت میں کمی لانے کی بجائے بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے سیدھے سیدھے مظہر فاروقی کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں جن میں ان کے خاندان کے ساتھ بد سلوکی، ان کے پاسپورٹ کی منسوخی، انھیں جیل میں ڈالنے اور ان کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے تک کی دھمکی شامل ہے ۔ مظہر فاروقی نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں کہا کہ مجھے فیس بک، انسٹا گرام، ٹویٹر اور واٹس ایپ سے اب تک 5000 سے زائد دھمکی آمیز پیغامات وصول ہو چکے ہیں ، بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے یہ لوگ مجھے بے تحاشہ دھمکیاں دے رہے ہیں اور یہ تمام وہ ہیں جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بھی ایکٹیو فالورز ہیں ۔ ماہرین کے مطابق اپنے اس قسم کے اقدامات سے مودی سرکار اپنی کارستانیوں پر کسی طور پردہ نہیں ڈال سکتی ۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارتی فوج اور سیاست کو مذہبی انتہا پسندی کے رنگ میں رنگنا‘ ایسا افسوسناک واقعہ ہے جس کی دنیا اس وقت متحمل نہیں ہو سکتی، بھارت کی کرونا وائرس کو مذہب سے جوڑنے کی مذموم کوشش ناکام ہوگئی ہے ۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سال اب تک ہندوستان نے 848مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور جان بوجھ کر کنٹرول لائن کے ساتھ آباد آزاد کشمیر کے پر امن شہریوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ 26فروری کو پاکستان میں کرونا کے پہلے کیس کی تشخیص سے اب تک 456مرتبہ ہندوستان کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کر چکا ہے جس میں ایک شیرخوار شہید اور 31 لوگ زخمی ہو ئے جبکہ زخمیوں میں 7خواتین اور8بچے شامل ہیں ۔ یاد رہے کہ جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں میں ہیوی آرٹلری کا استعمال کیا گیا ۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ نمازوں کی ادائیگی پر پابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں اذانوں پر بھی پابندی لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔ ہندوستانی صوبے اترکھنڈ کی سرکار نے اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے رمضان المبارک کے دوران اذان دینے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دہلی کے پریم نگر علاقے میں پولیس نے جبرا مساجد سے لاءوڈ سپیکر اٹھا لئے ۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں تھانہ پریم نگر دہلی کے کئی پولیس والے مساجد سے زبردستی لاءوڈ سپیکر اٹھا رہے ہیں اور کہہ رہے کہ ’’خبردار کسی نے اذان نہیں دینی کیونکہ تم لوگوں (بھارتی مسلمانوں ) کی وجہ سے کرونا وائرس بھارت میں پھیلا ہے ‘‘ ۔ بھار ت کے مسلم حلقوں کی جانب سے اذانوں پر پابندی کیخلاف صدائے احتجاج بلند کی گئی اور کہا کہ رمضان کے مہینے میں سحر اور افطار کیلئے اذانوں کی آواز نہ آنے سے مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گا ۔ اس پر بھارتی میڈیا نے یہ لغو بیانی شروع کر دی کہ ’’اگر 1400 سال پہلے لاءوڈ سپیکر نہیں تھے تو پھر یہ بھی کوئی لازمی نہیں ہے کیونکہ بھارتی مسلمانوں کی وجہ سے ہی ہندوستان کو کرونا کا عذاب جھیلنا پڑ رہا ہے اس لئے انھیں اس کے نتاءج بہرحال بھگتنے پڑیں گے‘‘ ۔ اس تلخ حقیقت سے بھی سبھی آگاہ ہوں گے کہ مودی سرکار نے تبلیغی جماعت والوں پر کرونا وائرس پھیلنے کی سازش کا الزام لگا کر جیلیں بھر دیں مگر امر ناتھ یاترا کو منسوخ کرنے کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا ۔ یاد رہے کہ یہ یاترا 43 دنوں کی ہوتی ہے جو ہر سال 23 جون سے 3 اگست تک جاری رہتی ہے تاہم گزشتہ برس یہ یاترا مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کیلئے کی جانےوالی سازش کے تحت منسوخ کر دی گئی تھی ۔ 23 اپریل کو دہلی کے ’شری امر ناتھ شرائن بورڈ‘ (ایس اے ایس بی) نے اعلان کیا کہ اس سال عالمی وبا کووڈ 19 کے خطرے کے پیشِ نظر مذکورہ مذہبی یاترا کو منسوخ کر دیا جائیگا مگر آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے دباءو ڈالے کے جانے کے کچھ ہی منٹ بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ چونکہ اس یاترا کے منسوخ ہونے سے بڑی تعداد میں ہندو طبقے کے احساسات مجروح ہونے کا احتمال ہے اس لئے اس یاترا کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پورے بھارت میں مسلمانوں کے ہر قسم کے اجتماع پر مکمل پابندی ہے اور کرونا وائرس اور غیر قانونی تعمیر کا بہانہ بنا کر نظام الدین تبلیغی مرکز کی 9 منزلہ عمارت کو بھی مسمار کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے ۔ ایسے میں بھارتی حکمران اگر یہ دعویٰ کریں کہ وہ سیکولر ہیں تو اسے بھونڈا مذاق ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔