- الإعلانات -

عوامی جمہوریہ چین پر بے سروپا تنقید ۔ مسترد !

امریکی،مغربی،بھارتی اورجاپانی میڈیا کے ذریعہ دنیا میں ’’کورونا کویڈ انیس‘‘کے حوالے سے گمراہ کن‘ بھٹکانے والی اور سر اسر مغالطوں پر مبنی اطلاعات کی بھرمار میں ماضی اور حال کی ان استعماری طاقتوں کوشرم آنی چاہیئے وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’کوروناوائرس‘‘ کی یہ وبا چین نے دنیا بھر میں پھیلائی ہے امریکا،مغرب،بھارتی اور جاپانی میڈیا کا یہ کھلا ہوا بیوہودہ جھوٹ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، انسانی اموات پر دنیا کی یہ سامراجی استبدادی ممالک اپنے معاشی وسیاسی اور سفارتی مفادات کا کھیل کھیلنا چاہ رہی ہیں گمراہ کن یہ اطلاعات ہم پاکستانیوں کے نزدیک کبھی قابل قبول نہیں ہوسکتیں چین کے خلاف عالمی جذبات کو اکسانے،مشتعل کرنے اور چین کی عالمی ترقی کی مخاصمت میں دنیا کوبرانگیخہ کرنے والی ایسی جھوٹی خبروں کو کل بھی پاکستانیوں نے قبول نہیں کیا آج بھی اس حالت میں جبکہ ’’کویڈ انیس‘‘کے عفریت میں انسانیت اپنی بقا اوراپنے تحفظ کی جنگ لڑی رہی ہے عالمی معاشی تباہ کاروں کے گروہوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور چین کے خلاف تشہیری محاذ بنانے کی مذموم ترجیح کے توسط سے یہ ثابت کردیا کہ اْن کے فرسودہ اور فیل شدہ نام نہاد ’’ورلڈآرڈرکے غبارے‘‘کی ہوا پل بھی میں نکل گئی دنیا کی سوچ یکدم سے بدل گئی ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے براہ راست جب اپنے بیان میں چین پر اس خطرناک عالمی وبا کے پھیلانے کا الزام عائد کیا توچینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڑاو لی جیان نے کورونا وائرس کے حوالے سے امریکی قیادت کے اس الزام کی تردید ہی نہیں کی بلکہ خاصا عقابی انداز اختیار کرتے ہوئے امریکی اعلیٰ حکام کی اْن فاش غلطیوں کو نمایاں کیا کہ اْنہوں نے اس عالمی مہلک وبا کے خطرات سے اپنے عوام کو آگاہ کرنے میں اپنی بیوقوفیوں اور نا اہلیت کا ثبوت دیا ابتدائی مراحل میں امریکی سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مہلک وبا خطرات کی کیسی گھنٹیاں بجاگئیں اورہم ہوشیار نہیں ہوپائے اور’’ چینی مخاصمت‘‘ کا شکار بنے رہے خوفناک عالمی وبا کا مذاق بناتے رہ گئے، امریکی صدر نے مضحکہ خیز بیانات دینے میں کتنا قیمتی وقت صرف کردیا ’’بروقت احتیاطی اقدامات‘‘کرنے میں امریکیوں نے بہت زیادہ دیر کردی، جبکہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت ’’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیش نے کورونا کویڈ 19 کو ’’عالمی وبا‘‘تسلیم کرلیا تھا اس وبا نے عالمی معیشت کو دیکھتے ہی دیکھتے زوال پذیر کردیا خود چین سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں غیر معمولی دھچکا کھا گئیں چین کے پڑوسی دوست ملک پاکستان جیسے ممالک کےلئے بھی اس وبا نے معیشتی سطح پر مشکلات بڑھادیں ایسے میں مغربی دنیاکے میڈیا امریکی‘بھارتی اور جاپانی میڈیا سے کوئی یہ سوال کیوں نہیں کرتا’’اگر اس خوفناک عالمی وبا کی سازش کے پیچھے چین ہے تو کیا چینی معیشت آسمان پر جاپہنچی ہے;238; ایک طرف دنیا نے چین سے کنارا کشی اختیار کرنا شروع کردی ہے پوری دنیا کو اپنی پڑگئی ہے اس کا واضح یہی مطلب ہوا کہ چین کے خلاف امریکا اور اْس کے چند اتحادی چین کا گھیراو کرنے کی پلاننگ کررہے ہیں دیکھ لیجئے کہ چین نے اس حوالے سے صاف لفظوں میں بتا دیا ہے کہ امریکا نے اس مہلک عالمی وبا کے اس معاملے کو سیاسی رنگ دیا ہے چین کے ایک سرکاری اخبار کےلئے تجزیے میں مسٹر چینگ نے یہ لکھا ہے کہ امریکا نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے حوالے سے اپنا جو طرزِ فکروعمل اپنایا وہ خوف،تقسیم اورنفرت کوجنم دے رہا ہے وائرس اپنی جگہ خطرناک سہی،مگر اسِ کے نتیجے میں امریکا سمیت پوری دنیا کی سیاسی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے اس عالمی مہلک وبا سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا;238; چینی ترجمان نے بروقت بلکہ برحق جارحانہ طرز عمل اپنے جوابی بیان میں اپنایا کہ امریکا کوپہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے اْس کی ریاستوں کی صورتِ حال کیا ہے;238; ایک عالمی وبا سے بچاوَ کے لیے واءٹ ہاوس نے اب تک کیا اقدامات کیے;238;‘‘چینی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں ’’ملٹری ورلڈ گیمز‘‘ کےلئے امریکی محکمہ دفاع نے 17ٹی میں بھیجی تھیں ،جن میں 280 ایتھلیٹ تھے دنیا بھر سے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پرلوگوں کا چین آنا جانا معمول کی بات ہے یہاں اگر یہ کہاجائے تو کیا غلط ہے کہ چین شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے جس نوعیت کی عالمی بدحواسی کو جنم دیا فروغ دیا ہے کیونکہ یہ اپنی ہیت میں پہلا اس قدر خطرناک وائرس ثابت ہوا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی دنیا کواس نئی عالمی وبا سے بہت کچھ سیکھنے کی اشد ضرورت ہے ہر معاملے میں ’’امریکیوں ، بھارتیوں اور جاپانیوں ‘‘کی طرح نظریہ سازش کی باتیں کرنے والوں نے کورونا وائرس کے حوالے سے بھی نظریہ سازش کو بروئے کار لانے کی اپنی بڑی کوشش کی، کوئی کہتا ہے چین نے کوئی تجربہ کیا تھا، مگر ’’بھنڈ‘‘ہوگیا;238; عین ایسے اگر چینوں نے اپنا جوابی ردعمل پیش کیا ہے تو اس میں کسی کومعترض ہونے کی کیاضرورت ہے;238;کہ’’امریکا نے اپنے اتحادیوں سے مل کر چین کو محدود رکھنے کے لیے کچھ کیا ہے ;238; ‘‘ بالفرض اگر یہ مان لیا جائے کہ واقعی ایسا ہے تو پھر امریکیوں کو بھی سوچنا پڑے گا کہ اب اس نوعیت کے کسی بڑے تجربے کی کوئی گنجائش نہیں ، کیونکہ سبھی آپس میں جڑے ہوئے ہیں کوئی بھی ملک خود کو اس سمندر میں جزیرہ قرار نہیں دے سکتا اگر چین کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ’’انکل سام کا یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا کیونکہ اس کے نتیجے میں پورے یورپ کی معیشت بھی داوَ پر لگ گئی‘‘اور خود امریکا کو بھی بہت سے اندرونی اور بیرونی معاملات میں فی زمانہ اورآئندہ بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے امریکی میڈیاہو یا مغربی میڈیا، بھارتی ہو یا جاپانی میڈیا ہم پاکستانی سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جو قوتیں عوامی جمہوریہ چین پرہمہ وقت تنقید کرنے میں خاصی بدنام ہیں اْنہیں ہم یاد دلادیں کہ سن انیس سوچار میں ممتاز عالمی تسلیم شدی جغرافیہ داں سر ہیلیفرڈ میکنڈر نے اپنے ایک تحقیقی مضمون میں آنے والی نسلوں کی رہنمائی کردی تھی کہ ’’جو طاقتیں اپنے زعم میں روس کو اب تک ایشیا میں بھرپور طاقت کا کردار ادا کرنے روکتی رہیں بالفرض وہ کامیاب ہوجاتی ہیں تو اْنہیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ وہ ہی طاقتیں چین کو ایسا کرنے سے روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں کیونکہ چین اپنی طاقت کے ہر جوہر کوحیرت زدہ انداز میں ہرقیمت پر ضرور منوالے گا ،چین کے ’’لوئے جیسے مضبوط دوست ‘‘پاکستان کا یہی پختہ عزم ہے ۔