- الإعلانات -

بیرون ملک پاکستانی طبی ماہرین سے تعاون کی اپیل

کورونا وائرس کی وباء دنیا کے ہر کونے میں ایک ;200;فت کی شکل میں قہر ڈھا رہی ہے ،پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس کے وار اور اس کے اثرات نمایاں ہیں جنہیں شکست دینے کے لئے وزیراعظم خان زندگی کے ہر شعبہ سے وابستہ افراد کو متحرک کر رہے ہیں چاہے وہ اندرون ملک ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں اور پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے خلاف مصروف ِعمل ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی طبی ماہرین بھی معاونت کے لیے ’’یاران وطن‘‘ پروگرام میں اپنا اندراج کروا سکتے ہیں ۔ سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹوءٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’دنیا بھر میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستانی طبی ماہرین صف اول پر مصروف عمل ہیں وہ بیماری کے انسداد کے لیے ہمارا ہاتھ بھی بٹانا چاہتے ہیں ۔ ہم نے بیرون ملک موجود اپنے ان طبی ماہرین کے لیے یاران وطن کے نام سے ایک قدم اٹھایا ہے‘‘ ۔ حکومت کی طرف سے اس جنگ کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے جا رہے اور تمام وسائل بروکار لائے جا رہے ہیں ،وسائل کی کمی دور کرنے کے حکومت پہلے ہی ایک خصوصی فنڈ قائم کر چکی ہے جسکے لئے وزیراعظم میڈیا چینلز کے تعاون سے خصوصی ٹیلی تھون بھی کر رہے تاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم مخیر حضرات اس میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ الحمدللہ اب تک بھر پور ریسپانس ملا ہے اور تین ارب سے زائد فنڈ جمع ہو چکے ہیں ۔ یاران وطن پروگرام تحت ڈاکٹروں سے تعاون کی اپیل ایک اور قدم ہے جسکے ذریعے کورونا جنگ سے نمٹنے میں بہت مدد ملے گی ۔ یاران وطن پروگرام کی جانب سے بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی ماہرین سے کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی مدد کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ تعاون کے حوالے سے مختلف بتائے گئے اقدامات ہیں جن میں علاج کے لیے ٹیلی ٹریننگ سیشنز، ٹیلی میڈیسن اور صحت کے حوالے سے کونسلنگ اور ریسرچ میں تعاون شامل ہے ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی اس سے ایک روز قبل اسلام ;200;باد میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف اقدامات میں بیرون ملک مقیم پاکستانی طبی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے’’یاران وطن پروگرام‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بیرون ملک طبی ماہرین پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے کوئی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں یا تعاون کرنا چاہتے ہیں تو وہ کسی صورت میں بھی ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ;200;پ تربیت دینا چاہتے ہیں ، ;200;لات بھیجنا چاہتے ہیں یا مختلف اداروں سے تعاون کے علاوہ، ادویات اور حفاظتی کٹس بھیجنا چاہتے ہیں تو اس قدم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ;39;اس پروگرام کے لیے ہ میں اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ انٹرنیشنل مائیگریشن ;200;رگنائزیشن (;200;ئی ایم او)کا مکمل تعاون حاصل ہے اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)دونوں اداروں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ۔ بلاشبہ بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی اپنے وطن کےلئے ایسا جذبہ ایثار رکھتا ہے جس کی کہیں اور مثال نہیں ملتی ۔ ابھی حالیہ دنوں میں کورونا کے اس ماحول میں کئی ممالک میں پاکستانی ڈرائیورز نے ہسپتالوں کے باہر ڈاکٹروں کے لئے مفت سروس فراہم کی اور کھانے پینے کی اشیا بھی فراہم کرتے رہے ۔ یاران وطن ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانی میڈیکل سپیشلسٹ کو صحت پر کام کرنے کا اہم موقع دے گا ۔ اگر کوئی کلینکل یا نان کلینکل حیثیت میں پاکستان کے صحت کے نظام سے جڑنا چاہتا ہے تو وہ یاران وطن سے فائدہ اٹھا ئے ۔ اسی طرح کوئی پاکستانی صحت کا ادارہ، کلینک، ہسپتال اور سرکاری صحت کی تنظی میں جو پاکستان کے اندر کام کررہی ہیں وہ سب بیرون ملک مقیم افراد سے منسلک ہونا چاہتے ہیں تو وہ بھی اس پلیٹ فارم کو استعمال کرسکتے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم ہمارے نوجوان پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کےلئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنا چاہتے ہیں انکے لئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ اپنی مہارت کے مطابق اپنی خدمات پیش کریں ۔

احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے

کورونا وائرس کے پھیلنے کا سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے بلکہ معمول کے مطابق ابھی نئے کیس سامنے آرہے ہیں ،اس کے باوجود رمضان کے پہلے روزے کیساتھ ہی بعض علاقوں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرتے ہوئے مارکیٹوں اور عبادتگاہوں کا رخ کر کیا جو خطرناک ہو سکتا ہے ۔ حکومت نے رمضان کے دوران روزہ مرہ کی نماز اور تراویح کی مساجد میں ادائیگی کی مشروط اجازت دی ہے تو اس پر عمل کرنا بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے ۔ پاک فوج کی جانب سے بھی شہریوں سے گھروں میں عبادت کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاہم مذکورہ اپیل کوملک بھر میں نظر انداز کیا جا رہا ہے بڑے شہروں کی مارکیٹوں میں شہریوں کا رش دیکھنے کو ملا ہے،ان میں سے اکثر نے حفاظتی ماسک نہیں پہن رکھے تھے، ایسی ہی کچھ صورتحال چھوٹے شہروں میں دیکھنے کو ملی ہے ۔ خود دکاندار حضرات بھی حکومتی پابندیوں پر عمل نہیں کرے رہے ۔ وباء سے جلد چھٹکارے کے لئے عوام کو حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا پڑے گا ورنہ اس جنگ کا عرصہ طویل ہو سکتا ہے ۔

مہلک وائرس کے چیلنج پر جلد قابو پا لینے کی امید

برسوں سے ;200;زمودہ دوست ملک چین کے پاکستان میں سفیر یاوَ چنگ نے پاکستانی عوام کو ماہ رمضان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کورونا وائرس کے اس ;200;زمائشی وقت میں چینی حکومت کی طرف سے پاکستان کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے پاکستان اس مہلک وائرس کے چیلنج پر جلد قابو پا لے گا ۔ یہ ایک انتہائی چیلنجنگ وقت ہے اور پوری پاکستانی قوم نوول کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے، ۔ خدا ان کی زبان مبارک کرے ،چینی سفیر کا یہ بیان نہایت حوصلہ افزا ہے ۔ چینی سفیر نے کہا کہ اس ;200;زمائش کی گھڑی میں چینی حکومت، چین کے عوام اور پاکستان میں مقیم چینی کمیونٹی وبا سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے ۔ وبا کی روک تھام کے لیے طبی حفاظتی ساز و سامان فراہمی کے علاوہ وائرس سے نمٹنے کے لیے کئی چینی طبی ماہرین پاکستانی طبی عملے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس مہلک وبا کے خلاف جدوجہد میں پاکستانی حکومت، طبی ماہرین اور عوام کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور قربانیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ ادھر چینی ڈاکٹروں کی ایک بڑی ٹیم بھی بھاری طبی سازوسامان کے ساتھ پاکستان میں موجود ہے جو دو ماہ تک یہاں قیام کرے گی ۔ اس عرصہ میں وہ ایک ویکسین کے کلینکل ٹرائل کی بھی نگرانی کریں گے ۔ چین وہ ملک ہے جسے سب سے پہلے اس مہلک وائرس کا سامنا کرنا پڑا تھا،اور مکمل احتیاطی تدابیر کی بدولت اس وائرس پر اس نے تھوڑے عرصہ میں ہی قابو پایا لیکن یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ میں یہ وائرس ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور بھاری جانی نقصان بھی کر رہا ہے ۔ اب دنیا بھر میں دو لاکھ سے زائد افراد وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ29لاکھ سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے ۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ میں ہوئی ہیں جہاں تقریباً 52 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ پاکستان میں ابھی تک اللہ کا بہت کرم ہے کہ صورتحال بے قابو نہیں ہوئی ہے اور امید ہے کہ دوست ملک چین کے تجربے اور تعاون سے اس پر جلد قابو پالیا جائے گا جیسے کہ چینی سفیر نے امید کا اظہار کیا ہے ۔