- الإعلانات -

یکجہتی کی ضرورت!

کوروناوائرس کے ڈرامے کی آخری قسط کب تک آئیگی پوری دنیا کے عوام بیزار ہو چکے ہیں اور وہ اس کے اختتام کے منتظر ہیں اورچاہتے ہیں کہ اس کاڈراپ سین جلد ہونا چاہئے ۔ کورونا کے بعد ملکی اور عالمی صورت حال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ جھوٹ اور سچ کی تمیز ختم ہوگئی ہے اورعام آدمی کےلئے جینامشکل ہو گیاہے ۔ متضاد نظریات سامنے آرہے ہیں میڈیا پر غوغا آرائی ہورہی ہے مختلف ٹاک شوز کے ذریعے تماشا لگا یا جاتا ہے لوگو ں کو الجھایا جارہاہے اور ڈرایا جا رہا ہے ۔ مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے ۔ بے بسی ہے اور لفاظی ہے ۔ اس مشکل حالات میں بھی ہمارے سیاست دان سیاست سیاست کھیل رہے ہیں ایک دوسرے پر الزامات کا بازار گرم ہے ۔ ، زبان درازی کو خوب فروغ مل رہا ہے اور کبھی کبھی گالی گلوچ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے اور اوراس طرح میڈیا عوام کے ذہنوں میں خلفشار پیدا کر رہا ہے جس کے باعث ایماندار اور ذمہ دار شہریوں میں پایہ جانے والا اضطراب اور بے چینی فطری ہے ۔ اس خوفناک ماحول نے حساس او ربا شعور لوگوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان نے رمضان پیغام میں اللہ سے معافی کے طلب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں *پالیسیوں *کا محور صرف *ایلیٹ کلاس* ہے ۔ ملک کا بیشتر طبقہ مزدور اور غرباء ان کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی جاتی ۔ مشکل حالات میں اپوزیشن کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ محض تنقید کی بجائے حکومت کی ہنمائی کرے مگر یہاں معاملہ الٹا ہے عوام سے ووٹ ہتیانے والے حکومتی ہوں یا اپوزیشن کے منظر سے غائب ہیں ۔ سفید پوش طبقہ نوالے نوالے کیلئے ترس رہا ہے اور سیاست دان صرف ٹاک شو اور میڈیا پر حاضر ہو کر عوام کا خون گرماتے ہیں اور اگر ماحول اسی طرح رہا تو خلاف توقع واقعہ رونما ہوسکتا ہے جو شاید اس بوسیدہ نظام کو دھڑام سے بھی گراسکتا ہے، لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا ایک خطرناک علامت ہے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی اور سیاسی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ موجودہ سنگین صورت حال میں عوام کو حوصلہ دیں ان کی داد رسی کریں اور درپیش چیلنجوں اور بین الاقوامی سازشوں سے ہوشیار رہنے اور ہر حال میں ہم آہنگی، امن و بھائی چارہ، پیار و محبت اور مشترکہ تہذیبی اقدار کی حفاظت کےلئے عوام کو بیدار رکھنے کےلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ اسلام خدا سے رشتہ مضبوط کرتا ہے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ اسلام کے اس عالمگیر انسانیت کے پیغام کو عام کرنا ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے ۔ اس پوری دنیا میں بد امنی کا ماحول ہے اور خاص کر ہمارے خطے میں سامراج نے پہلے مقدس عنوان کے تحت دہشت گردی کو عام کیا اور کلاشنکوف کلچر کو پروان چڑھادیا جس سے لوگ ابھی تک مضطرب، بے چین اور پریشان ہیں ۔ اور اب کورونا کے عذاب کے لپیٹ میں ہیں ۔ عالمی اقتصادی نظام تباہی کی جانب گامزن ہے ۔ اس وقت پوری دنیا حالت جنگ میں ہے ۔ لاک ڈاءون کے مفادات کون سمیٹ رہا ہے یہ وقت بتائے گا ، لیکن من حیث القوم ہماری بقا کا راز قومی وحدت میں ہے ۔ اس وقت پبلک مقامات پر عوام کو جمع کرنے والے سیاسی فنکار اور دکاندار منظر سے غائب ہیں اور یا آپس کی لڑائیوں میں مصروف ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو حوصلہ دیا جائے ، مشکل حالات کا مقابلہ کرنا زندگی ہے ۔ چائنا کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ کیسے انہوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا یہ ہمارے لیئے مثال ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ملک میں صالح نظام موجود ہو جہاں انارکی ہو وہاں یہ نسخہ کارگر نہیں ہے وہاں انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انقلابی جدوجہد کے دوران ’’ہاتھوں کو مسلح کرنے سے پہلے دماغ کو مسلح ‘‘کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہاں پر کنفیوژن پھیلایا جا رہا اور عوام میں مایوسی کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے نا موافق حالات میں بھی انسانیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے او رہر دور میں وہ محبت و انسانیت کی شمع جلاتے رہے ہیں اور انسانیت کے مابین تفریق کو ختم کرکے ان کو صرف ایک محبوب کے رنگ میں رنگ جانے اور اس کے آگے سر جھکا دینے کا درس دیا ہے اور سچائی پر مبنی یہ پیغام دیا کہ’’ پیار و محبت امن کا راستہ ہے‘‘ ۔ انسا نیت کا یہ درس دیتا ہے انسان کا احترام ہونا چائیے ۔ اس پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی بھی کوشش ریاستی اداروں اور سماجی اور سیاسی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے ۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی اصلی طاقت اتحاد اور یکجہتی ہے ۔ دلوں کو جوڑنے والے لوگ ہر دور میں رہے ہیں آج بھی موجود ہیں اور رہیں گے ۔ محبت کی شمع نہ کبھی بجھی ہے او رنہ کبھی بجھے گی ۔ اور اس کے مقابل دلوں کو توڑنے والے لوگ بھی ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں اوران کی سازشوں سے دنیا تنگ ہے ایسے لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ دلوں کو جوڑنے اور محبت کا چراغ روشن رکھنے کی مہم کو مسلسل جاری رکھا جائے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جیت بالآخر روشنی کی ہی ہوتی ہے ۔ ملک کو مورثی سیاست نے تباہ کر دیا ہے اور مسلک اور فرقہ کے نام پر جو سیاست ہو رہی ہے اس کے نہایت ہولناک نتاءج نکل رہے ہیں ملک میں فرقہ پرست سب سے پہلے دوسرے مسلک کے ماننے والوں کیخلاف نفرت پھیلاتے ہیں حالانکہ دین لوگوں کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں ہے ، مگر آج کی سیاست لوگوں کو ذات پات ، مسلک اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’جب سیاست لڑکھڑاتی ہے تو ادب اسے سنبھالتا ہے ۔ ‘‘ یہ جملہ آج پوری طرح سچ ثابت ہو رہا ہے ۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جہاں ایک طرف کچھ لوگ سیاست کو پراگندہ کر تے ہیں اور مسلک، فرقہ، ذات اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرکے مفاد پرستی کی سیاست کر تے ہیں ایسے حالات میں ادیب، شاعرو ادیب اورصحافی اورقلم کا روں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ محبت اور انسانیت کا پیغام عام کرنے میں اپنا مثبت کر دار ادا کریں نہ کہ ٹاک شو پر آکر عوام کو ڈرائیں اور ایک دوسرے پر الزامات اور گالم گلوچ کا حصہ بنیں ۔ قوموں کی تعمیر و تخریب میں اھل علم کا کردار ہوتا ہے اور کردار عمل اور جد و جہد اور مشکل حالات کے ساتھ مقابلے کا نام ہے یہ ۔ کسی ٹی وی شو پر آکر کسی کے حق میں بد دعا کرنا یا قصیدہ خوانی کرنا یا کسی پر الزام لگانا اور یا عوام میں خوف و ھراس اور مایوسی پھیلانا اھل علم اور دانشورووں کا شیوہ نہیں بلکہ یہ لوگ سماجی ہم آہنگی کیلئے انسانیت، محبت، رواداری اور اتحاد و اتفاق کی شمع روشن کرکے ملک کے شیرازہ کو بکھیرنے کی سیاسی سازش میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے اور شعوری بیداری کا فریضہ پورا کرتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کراتے ہیں کہ انسانیت کے مابین محبت رشتے کا قومی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے اس لیئے اس رشتے کو مضبوط بنایا جائے ۔ محبت کی طاقت جیسے جیسے کمزور ہوتی ہے، اسی تناسب سے نفرت کا اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے دلوں کو جوڑنے میں اہل علم نے ہردور میں اپنا حصہ ڈالا ہے اورفرقہ پرستی اور فسطائی قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایاہے اور آج بھی اس کی ضرورت ہے ۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ سماجی درد رکھنے والے اس مشکل حالات میں اپنا مثبت کر دار ادا کر رہے ہیں ۔