- الإعلانات -

امن دشمنوں کو پاک فوج کاکڑاجواب

شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران 9 دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دو سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ علاقے میں سرچ ;200;پریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری مقدار بھی برآمد کر لی گئی ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقوں خیسورا اور دوسالی میں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر یہ ;200;پریشن کیا گیا ۔ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 9 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک کو گرفتار کر لیا گیا ۔ دو سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ شہید ہونےوالے 29سالہ لانس نائیک عبدالوحید کا تعلق مظفرآباد سے تھا جن کے پسماندگان میں بیوہ 3 بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے جبکہ 33سالہ شہید سپاہی سکم داد کا تعلق ایبٹ آباد کے ایک گاءوں تاجوال سے تھا اور انہوں نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور بیٹی سوگوار چھوڑے ہیں ۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی بھرپور قربانیوں کی وجہ سے جو امن و استحکام آیا ہے وہ ہمارے دشمنوں سے برداشت نہیں ہو رہا ۔ وہ اپنے بچے کھچے زرخرید کارندوں کی مدد سے کہیں نہ کہیں کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔ گزشتہ روز پاک فوج نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد دہشت گردوں کے ایک ایسے ٹھکانے پر کامیاب کارروائی کی جہاں یہ وطن دشمن عناصر کسی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔ اس کارروائی میں 9 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 2جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستانی قوم اپنے فوجی جوانوں کی قربانیوں پر انہیں سلام اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔ گزشتہ تین دہائیوں سے وطن عزیز نے دہشت گردی کے ناسور میں لپٹا ہونے کے سبب نہ صرف اندرونی طور پر کمزور ہوا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ناموافق حالات کا ابھی تک مقابلہ کر رہا ہے ۔ ملک میں قیام امن اور دہشت گردی سے پاک کرنے کےلئے پاک فوج نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ۔ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے میں پاک فوج ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ سرگرم اور مخلص رہی ہے ۔ ان دہشت گردی کی کارروائیوں میں پاکستان کے ہزاروں معصوم شہری جان سے گئے اور لاکھوں افراد اس سے متاثر ہوئے ان تین دہائیوں میں آنے والی جمہوری حکومتوں کے سامنے بھی دہشت گردی پر قابو پانا پڑا چیلنج بنارہا ۔ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والی ملک دشمن قوتوں نے ان دہشت گردوں کے ذریعے ملک کو عدم استحکام کی جانب لے جانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ پاک فوج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن پاک فوج کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ان تمام تر مشکلات کے باوجود ثابت قدمی اور قومی جذبے سے وطن عزیز کی حفاظت میں جو لازوال قربانیاں دیں ۔ پاک فوج نے ہمسایہ ملک میں ان کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کردیا ۔ پاکستان محدود وسائل اور ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود عسکری اور نظریاتی طورپر دہشت گردوں کے خلاف کامیاب ہوا ۔ پاکستانی عوام کی سیاسی اور سماجی آگاہی ، پاک فوج اور سیکورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دہشت گردی ختم ہوئی ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہر ضلع میں پولیس کا نظام انتہائی متحرک اور فعال ہے ۔ پنجاب اور سندھ رینجرز، فرنٹیئر کور، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور لیویز پاک فوج اور پولیس کی پشت پر چوکس کھڑی ہیں ۔ خفیہ ادارے دہشت گردوں اور دشمنوں میں موجود ان کے لیڈران کی بدمعاشیوں اور ریشہ دوانیوں کو روکنے کےلئے ہر وقت چوکس ہیں ۔ اب تو اقوام متحدہ بھی پاک فوج کے کردار کی معترف ہے ۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کام کرنےوالے پاکستان کے امن دستوں نے افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ، شدید بارشوں اور سیلاب میں پھنسے دو ہزار سے زائد شہریوں کا انخلا کر کے انہیں محفوظ مقامات تک پہچایا ۔ پاکستان کے امن دستوں نے متاثرہ علاقہ میں سیلاب کا زور توڑنے کیلئے پتھروں کا بند بھی بنایا جس کے باعث وہاں سے لوگوں اور گاڑیوں کا انخلاء ممکن ہو سکا ۔ متاثرین کو کھانا اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی ۔ کانگو اور اقوام متحدہ کے حکام نے پاکستان کے امن دستوں کی ریلیف کوششوں کی تعریف کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کانگو میں پاکستان کے چار ہزار امن فوجی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پاکستان کے امن دستون کے مجموعی طور پر ایک سو ستاون فوجی، ان امن کوششوں کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں ۔ اندرونی وبیرونی ہرسطح پرپاک فوج کاکردارلائق تحسین ہے ۔

سمارٹ لاک ڈاءون مگراحتیاط کادامن نہ چھوڑئیے

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاون کا آغاز کر دیا گیا ہے، نمازیں اور تراویح بھی گھروں پر ادا کرنی چاہئیں تاکہ وائرس کا پھیلاءو روکا جا سکے، ڈاکٹرز اچھی تجاویز دے رہے ہیں ، ہمارے پاس کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت محدود ہے ، پچھلے دس روز میں وینٹی لیٹرز پر موجود مریض سٹیبل ہیں وینٹی لیٹرز کی تعداد آئندہ چند روز میں بڑھ جائے گی، خریداری کرتے وقت سماجی دوری کا بھی خیال رکھا جائے، یہ کہنا کہ سارے ملک میں یکساں فیصلے کئے جائیں تو یہ غیر منطقی ہے، ہم بار بار کہتے ہیں توازن کے ساتھ فیصلے کریں ہمارے پاس مزدوروں کی مکمل معلومات ہی نہیں ہیں ۔ حکوت تو اپنی طرف سے مکمل اقدامات کررہی ہے اب عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سمارٹ لاک ڈاءون میں احتیاط کادامن نہ چھوڑے ۔ اب اس کےلئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، بلاضرورت گھروں سے نکلنے سے اجتناب کیا جائے ۔ ڈاکٹرز تنظی میں بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کرچکی ہیں لہٰذا عوام کو چاہئے کہ حکومتی ہدایات پر عملدر;200;مد اور رجوع الی اللہ کو یقینی بنائیں ۔ اللہ کاشکر ہے کہ ابھی تک پاکستان میں صورتحال بہتر ہے مگر کسی بھی صورت اسے اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ مرکز اور صوبوں نے کورونا سے تدارک کی ہرممکن کوشش کی ، لاک ڈاءون کیا، اس وقت ہمارے پاس مطلوبہ طبی سہولتوں کا فقدان ہے ۔ اب صرف اورصرف عوام کی طرف سے تعاون کی ضرورت ہے، پاکستان میں خدانخواستہ کورونا بے قابو ہوا تو بدترین انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے ۔

امریکہ کی افغان متحارب گروپوں سے جنگ بندی کی اپیل

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے افغان متحارب گروپوں سے لڑائی ترک کرنے کی اپیل کی ہے، ان کاکہناتھا افغان متحارب گروہ ;200;پس میں لڑنے کی بجائے کوروناوائرس سے لڑیں ، ہر افغانی کو اپنی پوری توانائیاں کورونا سے لڑنے کیلئے لگانی چاہئیں ، طالبان کو چاہئے کہ کورونا پر قابو پانے تک اپنی جنگی کارروائیاں روک دیں ۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے بھی تنازعات کو ایک طرف کر کے کرونا پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے ۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امن معاہدے پر عملدر;200;مد میں کابل انتظامیہ رکاوٹ ہے، امن معاہدے کے تحت دس روز کے اندر قیدیوں کا تبادلہ ہونا تھا، کابل انتظامیہ پہلے دن سے قیدیوں کے تبادلے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، قیدیوں کے تبادلے سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہونا تھی، مذاکرات شروع ہو جاتے تو اب تک امن سمیت بڑے مسائل پر پیشرفت ہو جاتی، امریکہ نیٹو اور ان کے اتحادی بھی امن معاہدے پر عمل میں ناکام ہو گئے ۔ افغان امن عمل میں دشمنوں کی طرف سے رکاوٹیں ڈالنے کی بہت کوششیں کی گئیں مگر امریکہ اور طالبان کی سنجیدگی کے باعث مذاکرات نشیب و فراز کی کیفیت سے گزر کر بال;200;خر کامیاب ہوئے اور امن معاہدہ طے پا گیا ۔ افغان حکومت امن معاہدے کے مطابق اب بھی طالبان قیدیوں کی رہائی میں رخنے ڈال رہی ہے جس کے باعث طالبان نے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ اس پر امریکہ کو تشویش ہے ۔ اس وقت امریکہ کا تو فوکس کورونا پر ہے مگر افغان امن معاہدے پر بھی اسے مکمل عملدر;200;مد کےلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ امن معاہدے کے حوالے سے گیند بدستور امریکہ کی کورٹ میں ہے اسے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے درپے سرگرم قوتوں سے خبر دار رہنا ہوگا ۔