- الإعلانات -

کورونا تیری شامت آئی

لاک ڈاءون اور سماجی رابطوں میں دوری بھی اتنی کارگر نظر نہیں آتی اور تمام تر حفاظتی تدابیراور ڈاکٹری نسخے بھی کچھ مناسب نتاءج دکھانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو رہے اور اب کئی ہفتوں بعد نتاءج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں وہ جو چھابڑی ، ریڑھی ، ٹھیلہ لگاکر بچوں کا رزق روٹی کماتے تھے اور ان کےساتھ وہ جو دوکانوں پر سیلز مین اور کارخانوں میں مستریوں مزدورں والا کام کر کے وقت چلاتے تھے اور اسی نوع کے دیگر دیہاڑی دار بچارے تو پہلے ہی خط غربت کی لکیرسے نیچے ڈبکیاں کھا رہے تھے کیساتھ ساتھ دوکانداروں اور چھوٹے تاجروں سے لیکر درمیانے اور اس سے کچھ اوپر درجے کے تاجر بھی اب مالی مشکلات کا شکار ہیں یہ تو وہ طبقے تھے کہ جنکا ا کثر و بیشتر کسی نہ کسی حوالے سے ذکر اخباروں لیکر حکومتی ایوانوں تک ہوتا رہتا تھا لیکن اب ملک کا سب سے قیمتی اور باو قارطبقہ وکلاء بھی اس لاک ڈاءون سے شدید متا ثر ہو چکے ہیں وکلاء کے پچاسی فیصد کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ دفاتر اور مکان کے کرایہ سے لیکر دیگر ضروریات تک کیلئے محتاج تو نہیں کہوں گا لیکن شدید پریشان ضرور ہو چکے ہیں وکلاء اپنے پیشے اور مقام کی وجہ سے اپنی سفید پوشی اور وضعداری پر بھی مجبور ہیں اور ہاتھ پھیلانے کی پوزیشن میں بھی نہیں اس طرح وہ دو چکیوں میں پس رہے ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اس طبقہ کیلئے کوئی با وقار مراعاتی پیکج کا اعلان کرتی یا پھر پاکستا ن بار اور صوبائی بار کونسلز اس کا م میں فوراً سے پہلے آگے بڑھ کر اس کار خیر میں حصہ لیتیں میری معلومات کیمطابق ان کونسلز نے ایسے کچھ انتظامات کئے تو ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ ہاتھی کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں وکلاء کا اپنا پراویڈنٹ فنڈ موجود ہے تفصیلات اور اختیارات بھی بار کونسلز کے پاس موجودہیں ہر وکیل کو خاص طور پر ینگ لائرز کو اور ساٹھ سالہ وکلاء کے گھروں میں انکی ضرورت کے مطابق دو دو تین تین لاکھ کا چیک فورا سے پہلے بھجواتے یہ کوئی خیرات نہیں تھی وکلاء کا حق تھا مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک صوبہ کی بار کونسل کے کسی افلاطون دماغ نے صوبہ بھر کے وکلاء کیلئے ایک ڈیڑھ کروڑ روپے کا فنڈ بنا کر وکلاء سے درخواستیں طلب کرنے کا طریقہ اختیا رکیا ہے اگر صوبہ بھر کے وکلاء کی تعداد کو اس فنڈ پر تقسیم کیا جائے تو یہی کوئی پانچ سو سے ایک ہزار تک بنتا ہے سنا ہے کہ اب ہائی کورٹ میں اس سلسلہ میں ایک رٹ بھی فائل ہوئی ہے مگریہ رٹ کرنے اور درخواستیں مانگنے کی ضرورت کیا تھی جب ہر وکیل کا ریکارڈ متعلقہ صوبے کی بار کونسل کے پاس موجود ہے تو پھر اسی ریکارڈ کی بنا پر ہر وکیل کے گھر اسکے ماہوار بجٹ کو مد نظر رکھ کر چیک ارسال کردیا جاتا ہاں درخواستیں مانگنے کا جواز یہ رکھا گیا ہو گا کہ شاید بعض وکیل یہ رقم نہ لینا چاہتے ہوں تو اسکا جواب یہ ہے کہ بار کونسلز ایک سرکلر جاری کرتیں کہ جو وکیل رقم نہیں لینا چاہتا وہ اپنی رفیوزل بار کو ارسال کریں اسطرح غیر ضرورت مند انکاری بھیج دیتے اور جو خاموشی اختیار کرتے انہیں رقم ارسال کردی جاتی مطلب و مقصدیہ تھا کہ وکلاء کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور جس پروفیشن آ ف لارڈز کا یہ حصہ ہیں اس پروفیشن کی عزت و وقار بھی برقرار رہتی وکلاء کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ظلم اور نا انصافی کیخلاف آواز اٹھانے ، مظلوموں ،بے سہاروں ،کمزورں کی مدد کرنے لاٹھیاں اور گولیاں کھانے،قیدیں کاٹنے میں ہمیشہ ہر اول دستے کا کام دیتے ہیں مگر سچ یہ بھی ہے کہ وکیل بھوکا رہ سکتا ہے مگر پیٹ کی بھٹی کا ایندھن لینے کیلئے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا ایسے میں یہ بار کونسلز کی ذمہ داری تھی کہ وہ وکیل اور وکالت کی عزت نفس کیلئے باروقار مالی پیکج دیتی راولپنڈی سے ہمارے دوست وکیل ریاض احمد اور اسی طرح کے دوسے بیشمار دوستوں نے فیس بک پر اپنی پوسٹوں میں اسی قسم کے خیالا ت کا اظہار کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ حکومت اور بار کونسلز کے ارباب اختیارابھی تک وکلاء کی معاشی حالت سے کچھ زیادہ با خبر نہیں اسکے علاوہ وہ دس فیصد بڑے بڑے ناموں اور بڑے بڑے کاموں والے کروڑوں روپے انکم ٹیکس ادا کرنےوالے وکلاء جو ہمارے لیڈر بھی بنتے ہیں خود الیکشن لڑتے یا اپنے ساتھیوں کو الیکشن لڑواتے ہیں یہ نوے فیصد وکیل انکے جلسے جلوسوں اور میٹنگوں میں نعرے لگانے اور انہیں ووٹ دیکر کامیاب کرانےوالی ووٹر مشینوں کے طور پر کام آتے ہیں ان دس فیصد سے بھی کچھ اسی قسم کی شکایات ہیں پچھلے دنوں کسی دل جلے نے ایک صوبہ کے ان ممبران بار کونسل کی فہرست فیس بک پر ڈا ل رکھی تھی کہ جس میں ان ممبران کے ٹی اے ڈی اے بلوں اور مراعات کی رقم لاکھوں میں درج تھی ٹھیک ہے کہ بطور ممبر انہیں مراعات لینی چاہئیں لیکن ضرورت کی اس گھڑی میں انہیں ان نوے فیصد وکلاء کی مالی معاونت پر بھی اسی طرح فراخدلی ظاہر کرنی چاہیے تھی لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا مشکل کی اس گھڑی میں وکیل امداد تو چاہتے ہیں لیکن مستحق کا لفظ اپنے نام کے ساتھ لکھوانا برداشت نہیں کرتے اس لئے کہ یہ پیشے کا تقدس ہے اور وکلاء نے بار میں رہنا بھی پریکٹس بھی کر نی ہے الیکشن بھی لڑنے ہیں اور کالا کوٹ بھی پہننا ہے آجکل صوبائی بار کونسل کے الیکشن بھی ہیں امیدوار بھی میدان میں ہیں کیا یہ مناسب نہیں کہ یہ ووٹ مانگنے میں پی ایچ ڈی امیدوار اپنے ووٹرز کیلئے کو ئی مالی پیکج بھی ساتھ لائیں اوراپوزیشن کے بڑے بڑے لیڈر اور سیا سی جماعتیں بھی اس سلسلے میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں ۔ مشکل کی یہ گھڑی آج نہیں تو کل گزر جائے گی پھر سے عدالتیں بھی آباد ہونگی اور وکلاء کے چیمبرز بھی پُر رونق ہو جائیں گے لیکن وکیل کی یاداشت ہی اسکا خزانہ ہو تا ہے وہ ہزاروں عدالتی نظیروں کو اگر یا د رکھ سکتا ہے تو اس بُرے وقت میں اچھوں اور بُروں کو بھی نہیں بھولے گا ۔ آخر میں ان تما م لوکل بار ایسوسی ایشنز کو سلا م کہ جنہوں اپنے اپنے طور پر اپنے وکلاء ساتھیوں کیلئے کچھ نہ کچھ انتظام کیا وہ ہر لحاظ سے مبارکباد کے مستحق ہیں ۔