- الإعلانات -

کانگو میں پاک فوج کی خدمات

قوام متحدہ کے بانیوں نے ستر سال قبل دنیا کو ایک اور جنگ سے بچانے کےلئے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی ۔ اقوام متحدہ جنگ اور قدرتی آفات کے متاثرین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے علاوہ تنازعات کو روکنے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس وقت دنیا بھر کے 192 کے قریب آزاد ممالک و ریاستیں اقوام متحدہ کی ممبر ہیں ۔ پاکستان 1960 میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ بنا جب کانگو میں ایک آپریشن کے لیے پاکستان نے اپنا ایک دستہ بھیجا ۔ گزشتہ 60 سالوں میں دنیا کے تمام براعظموں میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ رہا ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے 41 امن مشنز میں اب تک 23 ممالک کےلئے ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی جوانوں کی خدمات فراہم کی ہیں ۔ اس وقت بھی اقوام متحدہ کے مختلف امن مشنز کےلئے پاکستان کے 7500 اہلکار تعینات ہیں ۔ پاک فوج اقوام متحدہ امن مشنز کے تحت غیرممالک میں امدادی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہے ۔ حال ہی میں کانگو کے دور افتادہ علاقوں میں پاکستانی امن مشن دستوں نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے سیلاب میں پھنسے دو ہزار افراد کو ریسکیو کیا ۔ کانگو میں ایک ہفتے سے جاری شدید بارشوں کے بعداویریا کے علاقے میں آنےوالے سیلاب نے تباہی مچا دی جس سے ہزاروں مکانات تباہ جبکہ 75 ہزار سے زائد افراد شدید متاثر ہوئے ۔ پاکستانی امن دستے متاثرہ علاقوں میں موقع پر پہنچے، سیلابی ریلا روکنے کیلئے پتھروں سے بند بنایا، دور دراز علاقوں میں متاثرین کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ساتھ طبی امداد اور راشن بھی فراہم کیا ۔ پاکستانی امن دستے کی خدمات کی اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے بھی تعریف کی جبکہ مقامی افراد نے بھی ان کوششوں کو بے حد سراہا ۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں بہتر کارکردگی دکھانے والے ممالک ا ور ان کی افواج اور مددگار دستوں کو سراہا بھی جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ باور کرا یا جا تا ہے کہ فلاں ملک کی فوج اور دستوں میں بہتر امن قائم کرنے کی صلاحیت ہے ۔ اس موقع پر امن مشن کی افواج کے شہیدوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام شورش زدہ علاقو ں میں امن و استحکام کے قیام کےلئے خدمات سرانجام دیتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ پاکستان کئی برسوں تک اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ اہلکار فراہم کرنےوالا ملک رہا جبکہ اس وقت بھی پاک فوج کے 7500 جوان اور افسر اقوام متحدہ کے 6 مشنز میں حصہ لے رہے ہیں ۔ دنیا میں قیام امن کےلئے پاک فوج کے 23 افسروں سمیت 144 جوان اب تک جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کی بے مثال خدمات کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت دنیا کے اہم رہنماؤں نے ہمیشہ کیا اور اب پاک فوج کو اقوام متحدہ کے امن مشن کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے زیر انتظام امن مشن میں پاکستان ہراول دستے کی طرح شریک ہے ۔ یہ عمل اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کےلئے اقوام متحدہ بہترین ذریعہ ہے ۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے ۔ خطے میں دیرپا امن اور ترقی کےلئے اس مسئلے کا حل ضروری ہے ۔ پاکستان نے جنوبی ایشیائی خطے میں دیرپا امن کےلئے کشمیر کے مسئلے کے حل پر زور دیا ۔ پاکستان خطے میں امن کےلئے کشمیر کے مسئلے کا جلد حل چاہتا ہے ۔ پاک فوج کے عالمی امن میں کردار کی پوری دنیا گواہ ہے اور اسکی سند اقوام متحدہ کئی بار جاری کرچکا ہے ۔ دنیا کی دیگر افواج کی نسبت پیشہ وارانہ صلاحیتیں پاک فوج نے زیادہ بہترادا کی ہیں ۔ اسکے پایہ کا کوئی اور نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ اپنے عالمی دن کے موقع پر پاک فوج کی صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کی بے مثال خدمات کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت دنیا کے اہم رہنماؤں نے ہمیشہ کیا اور اب پاک فوج کو اقوام متحدہ کے امن مشن کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے ۔ پاکستان نے اس سلسلے میں بوسنیا، صومالیہ، سیرالیون، کانگو اور لائیبریا میں اہم خدمات سر انجام دیں جہاں پاک فوج کے جوانوں نے محنت اور لگن سے دکھی انسانیت کی خدمت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ امن مشن میں شریک ہونےوالے پاکستانی فوجیوں کو ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مقامی لوگوں سے ان کے حسن سلوک کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ممبر بننے سے لے کر آج تک اقوام متحدہ کے اصولوں کی بڑی سنجیدگی سے پابندی کی ہے اور بین الاقوامی معاملات میں ہمیشہ امن پسندی کا ثبوت دیا ہے ۔ پاکستان نے ایٹمی ملک ہونے کے باوجود ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاوَ کو روکنے کی اقوام متحدہ کی پیش کردہ قراردادوں کی ہمیشہ حمایت کی تا کہ ایٹمی توانائی کو ہمیشہ پر امن مقاصدکےلئے استعمال کیا جا سکے ۔ پاکستان نے فلاحی خدمات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فلاحی اداروں سے ہمیشہ تعاون کیا اور جہاں کہیں اور جب کبھی بھی پاکستانی ماہرین کی ضرورت پیش آئی تو فراخدلی سے اپنی خدمات پیش کیں ۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں قیام امن کےلئے پاک فوج کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے اقوام متحدہ میں خصوصی تقریب میں سابقہ سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو بڑی اہمیت دیتا ہے ۔ پاکستان کے ڈیڑھ لاکھ فوجی 23 ممالک میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جب کہ 7 ہزار سول سیکیورٹی اہلکار بھی اقوام متحدہ کی امن فورس کا حصہ ہیں ۔ پاکستانی فوجیوں کی امن کےلئے خدمات کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔ اقوام متحدہ میں تعینات پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ امن کےلئے پاکستان اور عالمی ادارے کے مقاصد یکساں ہیں اور اس مقصد کے حصول کےلئے سب کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئے ۔ ہ میں امن مشنز میں پاک فوج کے کردار پر فخر ہے ۔