- الإعلانات -

معاشی طور پر متاثرین کی بحالی کےلئے مزید اقدامات

کورونا وائرس کی وباء سے معاشی طور پر متاثرین کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کئی پیکج کا باقائدہ اعلان کیا جا چکا ہے ۔ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے لاک ڈاون سے متاثر ہونے والے چھوٹے تاجروں کے لیے 50 ارب روپے کے ’’وزیراعظم چھوٹا کاروبار‘‘ امدادی پیکیج جبکہ بیروزگار ہونے والے افراد اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے 75 ارب روپے کے بڑے پیکج کا اعلان کیا ہے ۔ علاوہ ملازمت سے فارغ ہونے والے افراد کے لئے بھی ایک پیکج دیا جا رہا ہے جس کے تحت ملازمت سے محروم ہونے والے افراد کو ویب پورٹل پر رجسٹریشن کرانا ہوگی جس کے بعد انہیں فی کس 12ہزار روپے ملیں گے ۔ یقینا حکومت کا یہ ایک بڑا اعلان ہے جس سے عام ;200;دمی کو ریلیف ملے گا ۔ ’چھوٹا کاروبار امدادی پیکج‘‘ کے تحت بند ہونے والے چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری اداروں کا تین ماہ کا بل وفاقی حکومت ادا کرے گی ۔ کمرشل اور صنعتی صارفین کو بجلی بلوں میں رعایت ملے گی ۔ اس طرح 80 فی صد صنعتیں بجلی بل ادائیگی کے سلسلے میں مستفید ہوں گی ۔ ان امدادی پیکج کا اطلاق چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہو گا ۔ چھوٹے ودرمیانہ درجہ کے کاروبار کوبلواسطہ طریقہ سے کیش فلو میں معاونت فراہم کرنے کے ضمن میں 50;46;69 ارب روپے مالیت کے پیکج کی منظوری دی گئی ہے، اس پیکج کے تحت چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار کو بجلی کی پری پیڈ بلوں کی ادائیگی کی مد میں معاونت کی جائے گی ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے روزگار میں معاونت اور ورکروں کوملازمتوں پر تحفظ فراہم کرنے کے ضمن میں اسٹیٹ بنک کی ری فنانس اسکیم کیلئے 30 ارب روپے مالیت کی کریڈٹ لاس زرتلافی کی منظوری بھی دی ہے ۔ حکومتی پیکج اس بات کے غماز ہیں کہ وہ عوام دوست ہے اور مصیبت کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ماضی میں اشرافیہ کی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دی جاتی تھیں کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے دوران ہم نے ملک کے تمام تر طبقوں خصوصاً غریب اور کمزور طبقوں کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر حکمت عملی تشکیل دینی ہے، کورونا سے بچاوَ اور معاشی عمل کی روانی میں توازن رکھنا ہو گا ۔ حکومت کے اعلان کردہ معاشی پیکیج میں واضح طور پر یومیہ آمدنی والے محنت کشوں اور غربت کی چکی میں پسنے والے دیگر افراد کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو اولین ترجیح حاصل ہے مگر معیشت کی ان ضرورتوں کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے جو لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور ملکی مالی معاملات کو سنبھالنے کی لازمی ضرورت ہیں ۔ لاک ڈاءون میں صنعتی و کاروباری زندگی مفلوج ہونے اور روزگار نہ ملنے کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کیلئے جو سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں ان کا تذکرہ وزیراعظم عمران خان کئی مواقع پر کرتے رہتے ہیں لیکن خوش ;200;ئند بات یہ ہے کہ وہ محض باتوں پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کی حکومت بھر پور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے امدادی نوعیت کے ان اقدامات میں اتنا انتظامی چیک ضرور ہونا چاہئے کہ ماضی کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور کئی دوسری امدادی اسکیموں کی طرح کی بے قاعدگیوں کا اعادہ نہ ہو سکے اور حق حقدار تک صحیح معنوں میں پہنچ سکے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو قومی خزانے کی بربادی کے علاوہ متاثرین کی بحالی برسوں ممکن نہیں ہو سکے گی ۔ اس حوالے سے اب تک کی حکومتی کارکردگی اطمینان بخش اور شفافیت سے ;200;گے بڑھ رہی ہے ۔ امید ہے حکومتی ٹیم اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی جس سے اس کی ساکھ پر حرف ;200;ئے ۔ اس وقت حکومت لاک ڈاوَن میں ;200;ہستہ ;200;ہستہ نرمی کر رہی ہے ، اس پر بعض حلقوں کی طرف تنقید ہو رہی ہے لیکن حکومت کوملک میں جو اقدامات بھی کرنا ہیں ان کا مقصد وبائی مرض کے پھیلاءو کو روکنا اور یہ امر بھی مدنظر رکھنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں غریب ملک کی خطِ غربت سے نیچے اور متوسط زندگی بسر کرنے والی آبادی تک بنیادی ضروریاتِ زندگی کی رسائی کا راستہ اس طرح بند نہ ہو جائے جس سے نئے المیووَں کے خدشات بڑھ جائیں ۔

خوش ;200;ئند اور بڑی تبدیلی

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کابینہ میں ردو بدل کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس اعوان کو انکے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ سابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کر دیا ہے ۔ جبکہ سینیٹر شبلی فراز کو وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات بنا دیا گیا ہے ۔ کابینہ میں اطلاعات کی وزارت میں یہ تیسری مرتبہ اہم تبدیلی کی گئی ہے ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس اعوان سے قبل موجودہ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری وزیر اطلاعات کے منصب پر فائز رہے ۔ نئے وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز تحریک انصاف کے اہم لیڈر ہیں ،پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے،اور اگست 2018 میں انہیں سینٹ میں قائد ایوان مقررکیا گیا تھا ۔ قبل ازیں 2015 میں شبلی فراز ایوان بالا میں قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل اور تجارت اور قائمہ کمیٹی برائے گردشی قرضہ کے چیئرمین کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں ۔ سینٹر شبلی فراز نہایت دھیمے مزاج ،صلح جو اور میڈیا فرینڈ لی شخصیت کے مالک ہیں ۔ دوسری جانب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ ریٹائرمنٹ سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (;200;ئی ایس پی ;200;ر)کے ڈائریکٹر جنرل، ڈی جی ;200;رمز اور کمانڈر سدرن کمانڈ سمیت دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں ۔ تمغہ بسالت اور ہلال امتیاز جیسے اہم اعزازات بھی حاصل کر رکھے ہیں ۔ نومبر 2019 سے سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین بھی ہیں ۔ ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر رہنے کی بدولت انہیں میڈیا امور کا خاصہ تجربہ ہے ۔ وزارت اطلاعات کسی بھی حکومت کا ;200;ئینہ ہوتی ہے ۔ ایک ایسے ماحول میں جب میڈیا مکمل ;200;زاد اور مضبوط ہے وزارت اطلاعات پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کا موثر طریقے سے دفاع کر ے ۔ امید ہے کہ نئی ٹیم بدلتے ہوئے چیلنجز سے عہدہ بر;200; ہونے کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کرے گی اور میڈیا حکمت عملیوں کے ماہر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی موجودگی سے بھر پور فائدہ اٹھائے گی ،عاصم سلیم باجوہ ہر قسم کے میڈیا ٹولز کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے اور کرانے کا فن اچھی طرح جانتے ہیں ، ماضی میں آئی ایس پی آر کو بام عروج تک پہنچانے میں ان کا ہی بنیادی کردار رہاہے،جس کی گونج سرحد پار بھارت میں بھی سنائی دیتی رہی ۔ ان کی تقرری سے حکومتی سوشل میڈیا ٹیم مستحکم و متحرک ہوگی اور حکومت کےخلاف پھیلائے گئے منفی پروپیگنڈا کا موثر طریقے سے جواب دے گی ۔

لائن آف کنٹرول کی بار بار بھارتی خلاف ورزیاں

اپنی شیطانی روش پر گامزن بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جس سے ایک خاتون شہید اور ایک بچی زخمی ہوگئی ۔ اشتعال انگیز حرکت پربھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج بھی کیا گیا ۔ چند روٹ سیکٹر کے گاءوں ریڈ کھٹار میں 26 سالہ نوجوان یاسمین بی بی بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہوئی ۔ بھارتی فوج نے کھوئی رٹہ اور جندروٹ سیکٹرز پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی اور خود کار ہتھیاروں اور راکٹوں سے جان بوجھ کر شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ۔ بھارت جو مقبوضہ وادی پر جبری اور ناجائز طور پر قابض ہے نے لائن ٓف کنڑول پرسیز فائر معاہدہ کی خلاف ورزیوں کو معمول بنا رکھا ہے ۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اس قسم کے غیر ضروری اقدامات دونوں ممالک کے درمیان مقررہ اصولوں اور فضائی معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاک فوج لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارت کے چارڈرون طیارے گرا چکی ہے، بار با ر کی مہم جوئی کے پیچھے مذموم بھارتی عزائم واضح ہیں ۔