- الإعلانات -

جسٹن سنگھ ٹروڈو

پوری دنیا اس بات کےلئے سرگرداں ہے کہ کورونا وباء سے کیسے چھٹکارہ حاصل کیا جائے ،جو اَب تک دو لاکھ سے زائد انسانی جانیں نگل چکی ہے اور ورلڈ وائیڈ معیشت کے بخیئے بھی ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں ۔ اس وائرس کی ہولناکی نے انسانوں میں جہاں باہمی ہمدردی کو نمایاں کیا ہے وہاں سیاسی تنازعات کو پس پشت ڈال کر ;200;گے بڑھنے کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے، لیکن اس ماحول میں بھی ایک ملک ایسا ہے جس نے انسانی حقوق اور ہمدردی کو پس پشت ڈال رکھا ہے ۔ خطے میں یہ ملک بھارت کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا، جس نے 76برس سے مسلم اکثریتی وادی پر جبری قبضہ کر رکھا ہے ۔ اس مقبوضہ وادی کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق یو این او نے دے رکھا ہے ۔ پون صدی سے یہ مسئلہ حل طلب ہے مگر گزشتہ برس ماہ اگست میں مودی حکومت نے نوے لاکھ کشمیریوں کو یرغمال بناتے ہوئے اسکی ;200;ئینی حیثیت کو روند ڈالا ۔ 35;65; اور ;200;رٹیکل 370کو معطل کرتے ہوئے دہلی کے قوانین کو مقبوضہ وادی تک توسیع دینے میں کوشاں ہے ۔ کشمیر کی الگ شناخت کے محافظ ;200;رٹیکل کی معطلی دراصل مقبوضہ وادی کی ;200;بادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ دنیا کووڈ نائنٹین سے نمٹنے میں مصروف ہے لیکن مودی انتظامیہ مقبوضہ وادی میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں خاموشی سے لگی ہوئی ہے ۔ اس خاموش واردات کے تحت مقبوضہ کشمیر میں انتظامیہ نے جموں وکشمیر کی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میں تین لاکھ غیر کشمیری ہندووَں کو ڈومیسائل فراہم کر دیئے ہیں ۔ اس کے بعد اب یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس علاقے میں تعینات8لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں اور 6لاکھ سے زائد غیر کشمیری مزدوروں کو بھی ;200;نے والے دنوں میں یہاں مستقل رہائش کے حقوق دیئے جائیں گے ۔ گزشتہ سال5اگست کو بھارت کی طرف سے دفعہ 370 اور 35;65;کو ختم کئے جانے کے بعد اس سلسلے میں کوششیں مزید تیز کردی گئی ہیں ۔ بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر پراپرٹی راءٹس ایکٹ کانام بھی اب تبدیل کرکے کچی ;200;بادی ایکٹ رکھ دیا ہے اور اس میں مستقل رہائشیوں کی شق خارج کردی ہے ۔ جس سے کچی ;200;بادیوں میں مقیم غیر کشمیریوں کو بھی متنازعہ علاقے میں جائیداد کے حقوق کا حصول ;200;سان ہوگیا ہے ۔ یہ ہے نام نہاد لبرل جمہوریت کا اصل ڈھونگ ہے جس سے اب پردہ ;200;ہستہ ;200;ہستہ سرک رہا ہے ۔ دنیا کے ہر کونے میں اسکی مسلم دشمن پالیسی اسلامو فوبیا پر ;200;وازیں اٹھ رہی ہیں ۔ پچھلے دنوں خلیجی ریاستوں میں اس حوالے جو سبکی ہوئی اس پر مودی انتظامیہ انگاروں پر لوٹ رہی ہے ۔ حسب عادت بھارت نے اس کا الزام بھی پاکستان پر دھر دیا ہے ۔ بھارتی حکومت کو دیئے گئے ایک جائزے کے مطابق پاکستان پر الزام لگایا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں بھارت مخالف جذبات کو ہوا دینے کےلئے سوشل میڈیا پر ایک جنگ کا ;200;غاز کردیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے سوشل میڈیا پیغامات میں اضافے کو ہندوستان اور وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کی کوشش سے جوڑ دیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں ہندوستان اور مشرق وسطی ٰکے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لئے خلیج میں قریبی اتحادیوں کے مابین فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ مودی کو دی جانے والی جائزہ رپورٹ میں پاکستان اور خلیجی ممالک میں مقیم ٹرول ہینڈلز کی ایک لمبی فہرست شامل کی گئی ہے جو اس مقصد کے لئے استعمال ہورہی ہے ۔ بھارت سیکیورٹی عہدیداروں کو یہ بھی شکایت ہے کہ گزشتہ سال بھی اسی طرح کا اضافہ دیکھا گیا تھا جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاون نافذ ہوا تھا ۔ مودی انتظامیہ اگر اپنے گریباں میں جھانک لیتی تو کورونا وائرس کی ;200;ڑ میں جو کچھ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس پر اسے شرم ;200;تی ۔ خلیجی ممالک بحرین ، کویت ، عمان ، قطر ، سعودی عرب ، اور متحدہ عرب امارات میں لاکھوں بھارتی مقیم ہیں جو ان نفرت انگیز پوسٹس کے پھیلاوَ کا خود باعث ہیں ۔ خلیجی ریاستوں کا پاکستان کےساتھ اسلامی اخوت کا گہرا رشتہ ہے لیکن مکار بھارت کی سازشوں اور کچھ ماضی کی اپنی نا اہلیوں کی وجہ سے یہ ریاستیں دور ہو چکی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلم امہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس نہیں کر سکتی ۔ بھارت کو جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ پاکستان کوسفارتی محاذ پر نقصان پہنچانے سے نہیں چوکتا ۔ امریکہ ہو یا دیگر مغربی یا یورپی ممالک بھارت نے پاکستان کےخلاف لابنگ کا ایک لمبا چوڑا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے اور اس کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کافی سرمایہ لگا رہی ہے ۔ ابھی پچھلے دنوں ایک رپورٹ سامنے ;200;ئی تھی کہ وہ کس طرح کینیڈا میں پاکستان کے خلاف لابنگ میں مصروف ہے ۔ اس بات کا انکشاف کینیڈا کے ایک اخبار گلوبل نیوز نے اپنی رپورٹ میں کیا جسے پاکستانی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیز نے بھارتی حکومت کے مفادات کی حماءت کیلئے پیسوں اور غلط معلومات کا استعمال کرکے کینیڈا کے سیاستدانوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی اور 2009 میں اس بارے بھارتی خفیہ ایجنسیوں ‘‘را‘‘ اور’’ ;200;ئی بی‘‘ نے خفیہ ;200;پریشن شروع کیا اور اس مقصد کیلئے ایک بھارتی شہری کو کینیڈین سیاستدانوں سے رابطے بڑھانے کا ٹاسک دیا تھا ۔ بھارت کے اس شہری کانام کورٹ ریکارڈ کے مطابق اے بی ہے جو غیرمعروف بھارتی اخبار کے ایڈیٹر انچیف ہیں اور اسکی بیوی اور بچے کینیڈا کے شہری ہیں ،جس پر کینیڈا میں جاسوسی کے الزام میں پوچھ گچھ چل رہی ہے ۔ دوران تفتیش اس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارتی ایجنسیاں یہ چاہتی تھیں کہ وہ غیر سرکاری لابسٹ یا سفارتکار کے طور کام کرے ۔ ان سے کینیڈا میں بھارتی حکومت کے مفادات کی خاطر بھارت کےلئے کام کرنے اور کینیڈا کے سیاستدانوں کوپیسے دینے کے علاوہ پروپیگنڈا مواد کے بارے میں سوالات پوچھے گئے ۔ اگرچہ وہ انکاری ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ دوسرا کلبھوشن ہے جو بیرون ملک پکڑا گیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کو اس نے ایران میں پاکستان کے مفادات کے خلاف بھیج رکھا تھا اور کینیڈا میں ایک میڈیا پرسن کو پاکستان کیخلاف لابنگ لئے استعمال کیا جا رہا تھا ۔ کینیڈا وہ ملک ہے جہاں سکھ تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد نہ صرف ;200;باد ہے بلکہ حکومت میں بھی اہم عہدوں پر تعینات ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق کینیڈا میں تقریبا ًپانچ لاکھ سکھ ;200;باد ہیں ۔ سکھوں اور پاکستان کے چونکہ خوشگوار تعلقات ہیں جو بھارت کو ایک ;200;نکھ نہیں بھاتے ۔ سکھوں کی کینیڈا میں اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب جسٹن ٹروڈو نے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دی تو اس میں چار سکھ وزراء کو شامل کیا گیا تھا ۔ 2015 میں جسٹن ٹروڈو نے اپنی کابینہ میں جتنی تعداد میں سکھوں کو جگہ دی تھی اتنی ہندوستان کی کابینہ میں بھی نہیں تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ جب جسٹن ٹروڈو اپنے اہل خانہ کےساتھ 2018کے اوائل میں ہندوستان کے دورے پر گئے تو انہیں ہندوستانی میڈیا نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہا گیا کہ کینیڈا میں خالصتان بنانے کے خواہشمند باغی گروپ سرگرم ہیں اور جسٹن ٹروڈو کو ایسے گروہوں سے ہمدردی ہے ۔ حتیٰ کہ انہیں جسٹن سنگھ ٹروڈو تک کہا گیا ۔