- الإعلانات -

نام میں کیا رکھا ہے

اس کورونائی دور میں جب ہر بندہ گھر بیٹھا یا تو بور ہو رہا ہے یا دوسروں کو بور کر رہا ہے، ہم نے سوچا اسی کرونائی عہد کے ایک تازہ ترین لطیفے ےا واقعے سے اپنا کالم سجایا جائے، تا کہ کرونا وائرس سے جس طرح میڈیا پر ہم سب کو ضرورت سے زیادہ ڈرایا جا رہا ہے اس کا کچھ ازالہ ہو جائے ۔ اس کالم کو بھی آپ روزنامہ پاکستان کے ادبی صفحے کی نگران اور روز ٹی وی کے چینل کی اینکر وومن محترمہ عائشہ مسعود کے اسی مشن کی ایک توسیع سمجھ سکتے ہیں جس کا آغاز انہوں نے ادبی صفحے سے کیا اور ایک نہ دو،پورے تین مسلسل ادبی صفحات شعراء کی کرو نا پر کی گئی شاعری سے سجائے ۔ برسبیلِ تذکرہ، ہم نے انہیں یہ مشورہ بھی دیا کہ اس عہد کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کےلئے اس تمام شاعری کو کتابی صورت میں بھی شاءع کر دیا جائے توبہت اچھا ہو گا جس میں ہم اس سے مکمل تعاون کریں گے ۔ اخبار کے علاوہ انہوں نے ایک خالص قہقہہ آوار مزاحیہ مشاعرہ روز ٹی وی پر صرف کروناپر کی جانے والی شاعری کے حوالے سے بھی سجایا اور چند شعراء کے ساتھ ساتھ ایک ماہر طبیب کو بھی کرونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ناظرین کو آگاہ کیا ۔ اور چونکہ وہ طبیب شاعر بھی ہیں ، انہوں نے بھی کرونا پر اپنامزاحیہ کلام پیش کیا ۔ بہرحال اس کالم کا مقصد کسی قسم کی طبی نصیحت نہیں بلکہ مختلف ناموں کے بارے میں ہمارے عام پڑھے لکھے طبقے کا جو محدود علم ہے اس پر اظہارِ حیرت بھی کرنا ہے ۔ اس کا سلسلہ حال ہی میں ہ میں ایک دوست کے فون سے شروع ہوا جس نے کہا کہ بھائی،آپ نے ایک شاعر دوست کا لطیفہ دیکھا;238;چونکہ ہم لطیفے تو روز ہی دیکھتے رہتے ہیں اس لیے کہا کہ کس لطیفے کی بات کررہے ہو، جس پر اس نے کہا کہ حضرت فلاں فلاں نے آج فیس بک پر بہت معروف اور سینئیر شاعر جناب توصیف تبسم کے حوالے سے بزعمِ خود یہ ’’انکشاف‘‘ کیا ہے کہ وہ صوفی غلام مصطفی تبسم کے صاحبزادے ہیں ۔ اس پر پہلے تو ہم ہنس دیے ہم چپ رہے، منظور تھا پردا ترا، لیکن جب سنبھلے تو سخت افسوس ہواکہ اچھے بھلے پڑھے لکھے شاعر بھی کہاں کہاں کی چھوڑتے ہیں ، اس دوست نے کہا کہ آپ اس فلاں فلاں کو فون کر کے بتائیں کہ صوفی غلام مصطفی تبسم تو پنجاب سے تعلق رکھتے تھے جبکہ توصیف تبسم صاحب تو غیر منقسم ہندوستان کے ایک علاقے سے ہیں اور خالصتاً اردو سپیکنگ ہیں ۔ خیر ہم نے کسی طرح ان کو ٹال دیا کہ آخر کس کس کی غلط فہمیاں یا لغزشیں دور کریں گے جبکہ خود ہمارے ساتھ اس سلسلے میں اتنے واقعات پیش آ چکے ہیں کہ ان سب کا تذکرہ یہاں بہت طوالت اختیار کر لے گا ۔ اتنی عمر ادب و صحافت کے میدان میں گزری، درجنوں کتابوں اور سینکڑوں کالموں پر بھی ہماری تصویر شاءع ہوئی، چنانچہ اس کے باوجود ابھی جو تازہ ترین لطیفہ ہمارے ساتھ پیش آیا، وہ بھی سن لیجیے، ایک ٹی وی چینل نے ہ میں گھر بٹھے آڈیو کے ذریعے اپنا کلام کرونا کے بارے میں سنانے کی دعوت دی ۔ ہم نے منظور کر لیی اور اسے اپنی سکرین پر لگائی جانے والی تصویر، اپنا نام اور فون نمبر وغیرہ سب بھیج دیا ۔ وقت مقررہ پر وہاں سے ایک صاحب نے فون کیا اورکہا کیا میں نسیم سحر سے بات کر سکتا ہوں ۔ ہم نے جواب دیا جی بول رہا ہوں ، اس پر اس نے کسی قدر حیرت کے ساتھ کہا آپ ہی نسیم سحر ہیں ، میں تو سمجھا تھا یہ کسی خاتون کا نام ہے ۔ ہم نے اسے جوجواب دیا شاید گھر جا کر بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا ہو گا، ہم نے عرض کیا بھائی اب ساٹھ سال تک ہم مرد ہو کراس نام کے ساتھ چل رہے ہیں تو اب نام یا جنس بدلنا تو ممکن نہیں ۔ آپ میری مردانہ شخصیت سے ہی گزارا کر لیں ، تو خیراب ہم دوبارہ جناب توصیف تبسم کی طرف آتے ہیں جن سے ہماری اور اس دوست کی بھی جس نے ان کے اور صوفی تبسم صاحب کے رشتے کا ’’انکشاف‘‘ کیا تھا ۔ ہ میں خیال آیا کہ جب لوگ’ تبسم‘ کے نام کی مناسبت سے یہ رشتہ ملا سکتے ہیں تو کہیں کسی دن تبسم ملیح آبادی کو بھی توصیف تبسم کی بہن نہ بنا دیا جائے ۔ اسی طرح روحی کنجاہی کنجاہ سے تعلق رکھنے والے اور لاہور میں کئی عشروں سے رہنے والے معروف شاعر ہیں لیکن اکثر لوگ انہیں خاتون سمجھتے ہیں ۔ کراچی کی معروف شاعرہ ریحانہ روحی ہیں ، یاد آ یاکہ ہم نے ریحانہ روحی اور روحی کنجاہی کے بارے میں اسی غلط فہمی کے پس منظر میں ایک مزاحیہ قطعہ بھی لکھا تھا ۔ جب ادبی تاریخ پر ہم نظر کرتے ہیں تو ایسے لطیفے بہت سے ادیبوں کے ساتھ ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں ، ایک بہت مشہور تاریخی ناول لکھنے والے ادیب تھے رشید اختر ندوی (رشید ۔ ۔ ۔ اختر ۔ ۔ ۔ ندوی ۔ ۔ تین الفاظ) ۔ ان کے بہت سے ناول پڑھنے والے ایک دوست نے ہ میں کہا یار، یہ عورت بڑے کمال کے ناول لکھتی ہے، بندہ ان میں ڈوب ہی جاتا ہے اور اردو بھی اس کی مضبوط ہو جاتی ہے ۔ ہم نے کہا کس کی بات کر رہے ہو، تو اس نے کہا ارے بھائی رشیدا، ختروندی کی ( رشیدہ ۔ ۔ ۔ ختروندی ۔ ۔ دو لفظ) ۔ ہم نے کہا عزیزم یہ مرد ہیں اور ندوہ سے تعلق رکھتے ہیں نہ تو یہ رشیدہ ہیں نہ ختروندہ نام کے کسی مقام سے ان کا تعلق ہے کہ ختروندہ نام کا کوئی قصبہ یا شہر موجود ہی نہیں ہے ۔ اصل میں ہم لوگ تحاریر تو پڑھ لیتے ہیں لکھنے والوں کے بارے میں کچھ معلوم کرنے کا تجسس نہیں کرتے ۔ کیا آپ یقین کریں گے ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہَ اردو کے سربراہ سے ہماری فون پر سلام دعا ہوئی اور ہم نے انہیں کہا کہ یونیورسٹی کی لائبریری کےلئے اپنی کتابیں بھیج رہا ہوں انہوں اس نے کہا بصد شوق بھیجیں ۔ ہم نے تین چار کتابوں کا پارسل بنا کر انہیں روانہ کر دیا، یاد رہے اکثر کتابوں کے بیک تاءٹل پر ہماری تصویر بھی ہوتی ہے ۔ کوئی پندرہ دن کے بعد ان کے دستخطوں سے جواب ملا محترمہ نسیمِ سحر;207; صاحبہ، آپ کی کتابیں ملیں ، ہم نے لائبریری میں رکھوا دی ہیں امید ہے آپ آیندہ بھی اپنی تصنیفات بھیجتی رہیں گی ۔ اپنی بات ہم ختم کرتے ہوئے بس اتنا عرض کرتے ہیں کہ اس اس عمر میں جب ہم نے سات دہائیوں کے بعد نصف دہائی مزید بھی عبور کر لی ہے (پون صدی کہہ لیجیے) اور ہماری کتابوں پر شاءع ہونے والی تصویروں سے ہماری اچھی خاصی ’’بزرگی‘‘ بھی نظر آ رہی ہے، اسلام آباد ہی کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں ایک مشاعرہ ہوا جس میں ناظمہ خاتون سمیت تمام لوگوں سے پہلے تعارف ہوا،چائے شائے پی اور پھر ہم مشاعرہ گاہ میں پہنچے ۔ اس کے باوجود جب اس نے ہ میں سٹیج پر بلایا تو بڑی محبت کے ساتھ کہا کہ اب میں اس سٹیج پر بطور مہمان خصوصی رونق افروز ہونے اس واحد خاتون شاعرہ کو ماءک پر تشریف لانے اور اپنا کلام سنانے کی دعوت دیتی ہوں ۔ خیر، ہمارے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا، مگر اس پر ہم نے فوری طور پر ایک قطعہ لکھ دیا جس کے ساتھ ہی اس کالم کا اختتام کرتے ہیں ، اور امید ہے کہ اس ہلکے پھلکے بے مقصد سے کالم سے آپ کا آج کا روزہ بھی اچھا گزرا ہو گا اور کرونائی وحشت میں بھی کچھ کمی آئی ہو گی ۔ قطعہ ملاحظہ ہو :

میرا نام پکارا گیا تو سب لوگوں نے یہ سمجھا

آئے گی اب ماءک پر اِک ساڑھی والی شخصیت

میں جب ماءک پرآیاتو لوگ بڑے مایوس ہوئے

دیکھ کے اپنے سامنے چِٹّی داڑھی والی شخصیت