- الإعلانات -

کورونا :نہتے بھارتی مسلمان پولیس تشدد کا نشانہ

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ فسادات سے متعلق ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہلی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو ہدف بنایا ۔ گزشتہ ماہ دہلی میں ہونے والے بدترین مذہبی فسادات میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ ان اموات سے متعلق ہسپتال کی فہرست سے معلوم ہوا تھا کہ ان افراد میں سے 2 تہائی بھارت کی مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ حالیہ ثبوت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہلاکت خیز فسادات کے دوران مسلمانوں اور ان کے گھروں کو نشانہ بنانے میں نئی دہلی پولیس ;39;اجتماعی طور پر مسلمانوں کے خلاف گئی;39; اور ;39;متحرک طریقے سے ہندو ہجوم کی مدد کی;39; ۔ دہلی پولیس کی کئی ویڈیوز منظر عام پر آئیں جس میں انہیں مسلمان مظاہرین پر حملہ کرتے ہوئے اور ہندو ہجوم کو اس میں شامل ہونے پر زور دیتے ہوئے دیکھا گیا ۔ فسادات کے دوران مساجد میں توڑ پھوڑ اور انہیں نذر آتش کیا گیا تھا ۔ اترپردیش کے شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس گھر میں آتی ہے اور تبلیغی جماعت سے تعلق کا کہہ کر کرونا کا ٹیسٹ کروانے پر مجبور کرتی ہے ۔ پولیس نہ صرف گھروں پر چھاپے مار رہی ہے بلکہ مختلف مساجد پر بھی چھاپے مارے گئے ۔ امام مساجد پر بھی تشدد کیا گیا اور مساجد کی بھی بے حرمتی کی گئی ۔ گورکھپور پولیس نے مقامی مکہ مسجد ، اکبری جامع مسجد پر چھاپہ مارا اور آئمہ مساجد کو گرفتار کر لیا، اس کے علاوہ بھی بیس کے قریب مساجد پر چھاپے مارے گئے ۔ مسلمانوں پر پولیس نے کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کر دیا اور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریاں شروع کر دیں ۔ نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارتی پولیس کو ;39;سیاست زدہ;39; کردیا ہے ۔ حکومت پوری مسلم برادری کو اپنے گھٹنوں پر لانا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی اور ضروریات زندگی کی بھیک مانگ سکیں ۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ دہلی فساد منظم سازش کا نتیجہ تھے جس کیلئے دوسرے شہروں سے لوگوں کو بلایا گیا تھا ۔ 2 دن تک فسادیوں کو من مانی کرنے کی پوری آزادی دی گئی ۔ مقامی ہندووَں نے مسلمانوں کی دکانوں اور مکانوں کی نشاندہی کی جس کے بعد بلوائیوں نے چن چن کر مسلمانوں کی املاک کو ہدف بنایا یہ سب کچھ مقامی افراد کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔ معروف بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے حوالے سے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف بات جارہی ہے ۔ اصل بحران نفرت اور بھوک کا ہے مسلمانو ں کے خلاف نفرت کا بحران ہے ۔ کورونا کی آڑ میں مسلمان طلبا کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔ جب سے مودی حکومت آئی مسلمانوں کو جلایا گیا،ان پر تشدد کیا گیا، شہریت ایکٹ کی آڑ میں حراستی مراکز قائم کیے جارہے ہیں ۔ کورونا کوہند و مسلم سے جوڑنے کا یہ عالم ہے کہ دہلی میں ایک رکن اسمبلی کے گھر مزدور کو کام کے دوران چھینک آگئی تو ان کی اہلیہ کہنے لگی کہ اسے کرونا وائرس تو نہیں ،تو مزدور فوراً بولا’’ میں ہندو ہوں ‘‘ ۔ یعنی یہ وائرس صرف مسلمان ہی پھیلا رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے جمعہ کو شوپیاں میں شہید کیے گئے نوجوانوں کی میتیں مناسب طریقے سے تدفین کیلئے ان کے ہلخانہ کے حوالے نہ کرنے پر بھارتی حکام کی مذمت کی اور کہا کہ بھارت کورونا وائرس کی وبا کے بہانے کشمیری شہداء کی بے حرمتی اور ان کے اہل خانہ کی تذلیل کررہا ہے ۔ بھارت کشمیری شہداء کی تجہیز وتکفین سے بھی خوفزدہ ہے اور یہ ڈر وخوف اس بات کی علامت ہے کہ کشمیری عوام اور قابض بھارت کے درمیان لڑائی آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری عالمی قانون کی سخت خلاف ورزی کا نوٹس لے ۔ اسلامی تعاون تنظیم کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھارت میں مسلمانوں پر کورونا وائرس پھیلانے کے الزام پر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا پھیلانے کا بے بنیاد الزام لگا کر بھارت مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہا ہے ۔ بھارتی میڈیا میں مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کرنے اور انھیں امتیازی سلوک اور تشدد کا ہدف بنانے پر تشویش ہے ۔ بھارتی حکومت بین الاقوامی قوانین کے مطابق مسلم اقلیت کے حقوق کا تحفظ اور ملک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی روک تھام کےلئے اقدامات کرے ۔ بھارتی میڈیا کی مسلم دشمنی مہم کے باعث بھارت میں مسلمانوں کیخلاف تشدد میں اضافہ ہوا اورکئی ریاستوں میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیاہے ۔ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں کورونا کے مسلمان مریضوں کیلئے الگ کمرہ مختص کردیا گیاجہاں انہیں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہے ۔