- الإعلانات -

امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی رپورٹ اوربھارت

رسوائی اور سبکی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فاشسٹ حکومت کی قسمت میں لکھی ہے ۔ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے جو تازہ رپورٹ جاری کی ہے وہ مودی کے بھیانک چہرے کی اصل تصویر ہے ۔ رپورٹ میں بھارت کو پہلی بار اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے ۔ سالانہ رپورٹ میں متنازعہ بھارتی شہریت بل ، بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیے جانے پر شدید تنقید کی گئی ہے ۔ امریکی کانگریس کو بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سماعت جاری رکھنے کا اہم مشورہ بھی دیا گیا ہے، جس سے بھارت کے لئے مزید مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اسی رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ جن میں کرتار پور راہداری کھولنا، پاکستان کا پہلی سکھ یونیورسٹی کھولنا، ہندو مندر کو دوبارہ کھولنا، توہین مذہب الزامات اوراقلیتوں کے خلاف امتیازی مواد کے ساتھ تعلیمی مواد پر نظر ثانی کے پاکستانی حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں ۔ کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی ;200;زادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے ;200;یا تھا ۔ 2019 میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ۔ گاوَ کشی کے نام پر موب لنچنگ معمول بن گئی، بھارتی حکومت تاحال اقلیت مخالف پالیسیوں پر کاربند ہے ۔ کمیشن کے وائس چیئرمین نیڈین مینزا نے سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انتہائی حد تک گر جانے والی سطح ہے اور بھارت میں مذہبی حالات اور آزادی کے حوالے سے یہ بہت ہی تشویش ناک صورتحال ہے، گزشتہ سال دسمبر تک کے حالات کے حوالے سے مرتبہ کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں شہریت کے قانون کی وجہ سے مسلم آبادی کو حراست میں رکھے جانے، ڈی پورٹ کرنے، ریاست سے بے دخل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ حالیہ عرصہ کے دوران حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماءوں کی جانب سے اقلیتی آبادی کیخلاف دیے جانے والے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کو سفارش کی گئی ہے کہ امریکی حکومت سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتی سرکاری ایجنسیوں اور افراد اور عہدیداروں پر ٹارگٹڈ پابندیاں عائد کرے ، ان کے اثاثے ضبط یا ان کی امریکہ میں انٹری پر پابندی عائد کی جائے ۔ بھارت میں امریکی سفارتخانہ پر بھی خصوصی طور پرزور دیا گیا ہے کہ وہ اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھائے اور مذہب مخالف جرائم کی مخالفت کرے ۔ بھارت کے چار سالہ نیشنل رجسٹریشن پروگرام کی تکمیل کے بعد لاکھوں بھارتی مسلمانوں کو قیدوبند،جلاوطنی اور ریاست کی شناخت کھونے جیسے خطرات کا سامنا ہے ۔ اسی بنا پرامریکی انتظامیہ سے مذہبی آزادی کو پامال کرنے والے ملکوں سے کڑا حساب لینے کی سفارش کی گئی ہے ۔ در حقیقت مودی حکومت اس وقت خطے میں ناسور کی طرح ہے جس کی تشخص اس رپورٹ میں کر دی گئی ہے ، اب اس کا بروقت علاج بھی ضروری ہے ۔ کورونا جیسی قدرتی ;200;فت پر بھی مسلمان نشانہ بنائے جا رہے ہیں ۔ متعدد غلط اور پرانی ویڈیوز کے ذریعے یہ بات مسلسل پھیلائی جا رہی ہے کہ مسلمان تھوک کے ذریعے کورونا پھیلا رہے ہیں ۔ کئی ویڈیوز میں مسلمان ریڑھی والوں سے پھل اور سبزیاں نہ خریدنے کی اپیل کی جا رہی ہے ۔ کچھ ویڈیوز ایسی بھی سامنے ;200;ئی ہیں جہاں مسلمانوں پر حملے کر کے انھیں مارا پیٹا جا رہا ہے ۔ اس نفرت کی جڑیں دن بدن گہری ہوتی جا رہی ہیں ، اسی سلسلے میں ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گورکھپور کے علاقے سیکری گنج میں ایک مسجد میں اذان دیے جانے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اس پر حملہ کر دیا اور مسلمانوں کی مقدس کتاب قر;200;ن کو فرش پر پھینک دیا ۔ ایسی ڈھیروں کئی مثالیں ہیں جو بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتی ہیں ۔ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کا بھارت کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیکرباعث تشویش ممالک میں شامل کر لینا بھارت کے سنجیدہ حلقوں کی ;200;نکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے کہ انکے سر پر کس طرح کی حکومت مسلط کر دی گئی ہے ۔ انہیں اپنی فاشسٹ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا پڑے گا اگر یہ سلسلہ یونہی ;200;گے بڑھتا رہا تو بھارت ایک اور تقسیم سے دو چار ہو سکتا ہے ۔ ہندو بنیا اپنے نسل پرستانہ اور انتہا پسندانہ نظریات کی تقلید میں اقلیتوں کوتحفظ فراہم کرنے میں ہمیشہ ناکام رہاہے ۔ اسی ضمن میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ بھارت میں بالخصوص مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی شناخت ختم کرنے کیلئے جو انسانیت کش اقدامات کئے جارہے ہیں اس سے یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے بھارت ایک عقوبت خانہ سے کم نہیں ۔ کمیشن کی رپورٹ انتہائی خوش ;200;ئند ہے مگر اب اصل سوال یہ کہ اقوام متحدہ سمیت امریکہ اس کا سدباب کیسے کرتا ہے ۔

دراندازی کا بھونڈا الزام،بوکھلاہٹ کا اظہار

بھارت جب مقبوضہ کشمیر میں داخلی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہوتا ہے تو وہ پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا کر دنیا کی ;200;نکھوں دھول جھونکتا ہے ۔ اگلے روز بھی بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے گھسے پٹے الزامات کو دوہرایا تو پاکستان نے ان الزامات کو وہم وفریب قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا اور کہا کہ بھارت غلطی نہ کرے ہم جواب دینے کیلئے تیار ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے دراندازی کے بے بنیاد الزامات اور لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنانے کے احمقانہ بھارتی دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کا وہم وفریب نیا نہیں ، نہ ہی پاکستان مخالف ان کی جنگجوانہ سوچ نئی ہے،باربار کے بھارتی الزامات کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹائی جائے ۔ بھارت ان الزامات کو اپنے کسی فالس فلیگ آپریشن کے بہانے کے طورپر استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان دراندازی کی کوششوں کے بے بنیادبھارتی الزامات اور لائن آف کنٹرول کے پار لانچنگ پیڈز کونشانہ بنانے کے من گھڑت احمقانہ دعوءوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس سے یہ امر واضح ہورہا ہے کہ بھارتی پراپیگنڈہ مشین نے جھوٹ بولنے کی اپنی رفتار بڑھادی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ صرف 2020 میں بھارت جنگ بندی کی882مرتبہ خلاف ورزی کرچکاہے ۔ ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کی آڑ میں بھارتی قابض افواج خاص طورپر کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنارہی ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال مزید پیچیدہ اورمشکل ہوگئی ہے ،ڈومیسائل رولز میں ترمیم آرایس ایس،بی جے پی حکمران جتھے کی ایک اور موقع پرستانہ کوشش ہے تاکہ مقبوضہ خطے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے اپنے مذموم ارادے پر عمل کرسکے، بھارت کے بالا کوٹ مس ایڈونچر پر فوری اور موثر جوابی کارروائی پاکستان کے اس عزم کا واضح اظہار ہے کہ ہم تیار ہیں اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ کسی بھی جارحیت کوناکام بنانے کے پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے عزم کو بھارت کسی کمزوری پر محمول کرنے کی غلطی نہ کرے، پاکستان کشمیری عوام کی مکمل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا ۔ بھارت کے من گھڑت دعوے اور دھمکیاں اس کی بوکھلاہٹ اور کشمیریوں کے دلوں کو فتح کرنے میں ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں ۔ نو ماہ کا طویل لاک ڈاوَن بھی اسے وہ کامیابی نہیں دلا رہا جس کا خواب وہ برسوں سے دیکھ رہا ہے ۔ بہتر یہی ہے بھارت اپنے گھر کی خبر رکھے ۔