- الإعلانات -

کرپشن ختم کرنے کا آخری موقع

سب پاکستانی جانتے ہیں کہ کرپشن نے پاکستان کو گنگال کر دیا ہے ۔ اس کی واحد وجہ مقتدر لوگ ہیں ۔ چاہے وہ سیاست دان ہوں ، بیوروکریٹس ہوں یا فوجی ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جن کے ہاتھ میں اقتدار ہوتا ہے،وہ جتنی چاہیں کرپشن کریں ،انہیں کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے;238; ۔ ہ میں یاد ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اپنے دور حکمرانی میں سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق صاحب کو کرپشن پر طنز کرتے ہوئے ایک دفعہ کہا تھا’’ کہیں ساری کراچی نہ بیچ دینا‘‘بے نذیر بھٹو صاحبہ نے اپنے دور حکمرانی میں بیان دیا تھا کہ سیاستدان پاکستان میں سرمایا اس لئے نہیں رکھتے، کیوں پاکستان میں سرمایا محفوظ نہیں ۔ اس سے سیاست دانوں کو شہ ملی ۔ ہم نے دیکھا کہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل نے آصف علی زرداری صاحب کی درجنوں بیرون ملک پراپرٹیز کی لسٹ شاءع کی ۔ زرداری صاحب کے سوس اکاونٹس کا چرچا تو عدالتوں میں بھی سنا جاتا رہا ۔ زرداری صاحب بین القوامی طورمسٹر ٹین پرسنٹ بھی مشہور ہوئے ۔ زرداری صاحب کے دور میں امریکا نے کہاتھا کہ حکومت کو امداد نہیں دیں گے، کیونکہ حکومت کرپٹ ہے ۔ ہم این جی اوز کے ذریعہ امدادخرچ کریں گے ۔ پھر اسی آڑ میں امریکا نے اپنی این جی او’’ سیف دی چلڈرن‘‘ کے ذریعے ڈاکڑ شکیل آفریدی کو استعمال کر کے، شیخ اُسامہ بن لادن تک ایبٹ آباد اس کی رہائش تک رسائی حاصل کی ۔ یہ تو صرف ایک کیس سامنے آیا، نہ جانے اور کتنی این جی اوز کے ذریعے امریکا اورمغرب امداد کی آڑ میں پاکستان میں کہاں کہاں کا نقصان پہنچاتے رہے ہیں ۔ نواز شریف کا بیان بھی پریس میں آیا تھا کہ کرپشن کرنےوالے ثبوت نہیں چھوڑا کرتے ۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف صاحب کو بھی سعودی حکمرانوں نے قیمتی فلیٹ کےلئے پیسے دیے، یہ بھی کرپشن ہے ۔ کئی فوجی جرنلوں کی کرپشن کے واقعات پریس میں آئے ۔ فوجی قانون کے مطابق انہیں سزائیں بھی ہوئی ۔ جب ملک میں ا یسا ماحول پیدا ہو ا، تو سیاست نے ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی ۔ الیکشن لڑنے کے لیے کروڑوں لگا ءواور الیکشن جیتنے کے بعد کرپشن کرکے اربوں کماءو ۔ یہاں نون لیگ کے ایک سیدھے سادھے ممبر قومی اسمبلی بوٹا صاحب کا واقعہ بیان کرنا بڑا سبق آموز ہے ۔ بوٹا صاحب پر عدالت میں کرپشن کامقدمہ چل رہا تھا ۔ ایک دن ملتان کے مقامی اخبار میں عدالت کے باہر بوٹا صاحب کی ہتھکڑی لگی تصویر اس شہ سرخی کے ساتھ لگی ۔ کہ ’’کیا میں بے وقوف ہوں کہ اپنا لگایا ہوا پیسہ واپس نہ وصول کروں ‘‘خبر میں بوٹا صاحب نے تفصیل بیان کی ،کہ نون لیگ نے دو قومی اسمبلی کی سیٹوں پرمجھ سے کروڑوں روپے خرچ کروائے ہیں ۔ کیا میں اب اپنے پیسے واپس وصول نہ کروں ;238; پتہ نہیں بوٹا صاحب کی کرپشن کا عدالت نے کیا فیصلہ کیا;238;ہم نے نون لیگ کے ایک ممبر قومی اسمبلی کا صرف ایک واقعہ بیان کیا ہے، تاکہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے ۔ ساری سیاسی پارٹیا ں ایسا ہی کرتی ہیں پھر انویسٹمنٹ کرنے والے کو کرپشن کی کھلی اجازت دیتی ہیں ۔ پرمنٹ،پلاٹ، نوکریوں ، ٹھیکوں اور ترقیاتی فنڈ میں کرپشن کر کے غریب عوام کے ٹیکسوں میں سے پیسہ وصول کیا جا تاہے ۔ ہم نے کرپشن کے طریقے سمجھنے کےلئے، پاکستان کے ٹاپ کے سیاستدانوں اور حکمرانوں اور کی سوچ کی عکاسی اور ایک ٹسٹ کیس عوام کے سامنے رکھا ہے ۔ صاحبو! پاکستان میں ایک ایسی نظریاتی سیاسی دینی جماعت بھی موجود ہے، جیسے ہم پچھلے پچپن برسوں سے قریب سے مشاہدہ کرتے رہے ۔ اس کے لاکھوں چاہنے والے اس جماعت کو ماہ وار اعانت دیتے ہیں ۔ اسی اعانت اور الیکشن کے وقت خصوصی الیکشن فنڈ کی بنیاد پر اپنے لوگوں کو الیکن لڑاتی ہے ۔ اس کا کوئی فرد خود سے الیکشن میں کھڑا نہیں ہوتا ۔ اس کی شوریٰ الیکشن لڑنے والوں کے ناموں کا اعلان کرتی ہے ۔ کراچی کی ایک یوسی میں راقم کو ناظم کا الیکشن لڑایا گیا ۔ برسوں سے ماہوار اعانت دینے کے علاوہ ہم نے بھی خصوصی الیکشن فنڈ اپنا حصہ ڈال کر الیکشن لڑا ۔ اسی طرح کراچی میں این اے ۰۵۲ پر عبدالستار افغانی;231; مرحوم، جو اس سے قبل دو ٹرم کراچی کے میئر رہ چکے تھے، کو اس جماعت نے الیکشن میں کھڑا کیا ۔ راقم کو عبدالستار افغانی صاحب کے الیکشن انچارچ کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ مقابلے میں دہشت گرد لسانی تنظیم ایم کیو ایم کی نسرین جلیل صاحبہ تھیں ۔ عبدالستار افغانی صاحب این اے ۰۵۲ کا الیکشن جیتا ۔ الیکشن کے سارے اخراجات راقم کے ہاتھوں سے خرچ ہوتے تھے ۔ مخالفوں کے جلسے لاکھوں کے خرچے سے ہوتے تھے ۔ اس کے مقابلے میں اس نظریاتی جماعت کے جلسے ہزاروں میں ہوتے تھے ۔ خصوصی الیکشن فنڈ بھی نظریاتی لوگوں ہی سے لیا جاتا ہے ۔ اس نظریاتی جماعت کے امیدوار نہ اپنے پلے سے کروڑوں خرچ کرتے ہیں ۔ نہ ہی الیکشن جیت کر اربوں کی کرپشن کرتے ہیں ۔ دو دفعہ کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر کامیئر رہنے والا اور ایک دفعہ قومی اسمبلی کا ممبر رہنے والا، عبدالستار افغانی;231; لیاری میں اسی گز کے خاندانی فلیٹ میں رہتا تھا ۔ جب فوت ہوا تو اسی فلیٹ سے اس کا جنازہ نکلا ۔

(;224224;جاری ہے)