- الإعلانات -

کورونا، عبادات اور عبادت گاہیں

المی وبا ۔ کورونا ۔ (covid;46;19)پوری دنیا میں اسوقت عروج پر ہے، روزانہ کی بنیاد پر لاتعداد متاثرین اور بے شمار ہلاکتیں سننے کو مل رہی ہیں ، ہندسے لاکھوں میں جا چکے ہیں اور ;200;ج قدرت کی ۔ طاقت لازوال ۔ کے سامنے اسوقت بڑے بڑے انٹرنیشنل ۔ ریسلرز ۔ چاروں شانے چت پڑے دکھائی دیتے ہیں ،ہاں البتہ کچھ ممالک میں تو اسکی باقاعدہ اب گراوٹ بھی شروع ہو چکی ہے جیسے چین، نیوزی لینڈ وغیرہ، لیکن اس خوفناک صورت حال میں کچھ خاص قسم کی بالمقابل ;34;تھیوریز;34; اور ;34;کانسپائریسیز;34; بھی چل رہی ہیں کہ یہ سب کچھ ایک ۔ سکریپٹڈ ۔ ہے، یہ وہ سوچا سمجھا، لکھا لکھایا ۔ صیہونی ناٹک ۔ ہے جسکا انجام اس ۔ سکرپٹ راءٹر ۔ ۔ کو پہلے سے معلوم ہے اور جس بھی دنیاوی طاقت نے یہ سب قیامتیں ڈھائی ہیں ، انکے ٹارگٹ ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگ چکے ہیں ، جیسے تمام کی تمام عبادت گاہوں حتیٰ کہ حرم کعبہ کو بھی مقفل یا بالکل محدود کر دیا گیا ہے، مندر مسجد، معبد گردوارہ میں عبادات پر پابندی عاید ہے ، بالکل ویسے جیسے ۔ دجالی ۔ منصوبہ میں یہ تمام نشانیاں بیان کی گئی ہیں اور جسے بیان کرتے ہوئے اگر اسے زید حامد صاحب کی زبانی سنیئے تو روح کانپ اٹھتی ہے کہ مذہبی انتہا پسندی، غلبے اور اقتدار کے زعم میں انسان اتنا کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ غزوہ ہند پر مستند حدیث مبارکہ، ;200;رماگیڈان وغیرہ پر اگر گفتگو کریں تو یہ سب کچھ بھی حقیقت لگتی ہے جس نے بال;200;خر ہو کر رہنا ہے ۔ قیامت کی چند نشانیوں پر اگر غور کریں تو بھی یہی صورتحال بنتی نظر ;200;رہی ہے کہ کچھ نا کچھ بڑا ہونےوالا ہے اور یہ میں کوئی کسی گہرے علمی فلسفے، منطق یا دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرے جیسے ایک عام ;200;دمی کے ذہن میں جو کچھ چل رہا ہے میں اسکی اسی طرح منظر کشی کر رہا ہوں ۔ بحرحال اسوقت مساجد اور اللہ کے گھر جو کسی بھی صورت میں روئے زمین پر موجود ہیں ، ;200;ج عملاً;34; بند ہیں ، کئی روز تو یہ مقدس مقامات مقفل رہے لیکن بھلا ہو ریاست کے ان ذی شعور افراد خصوصا علما کرام کا کہ جنہوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں بھی اللہ تعا لیٰ کے گھروں کو ;200;باد کرنیکا عہد کیا اور رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ساتھ ایک ۔ مخصوص ضابطہ کار ۔ کے تحت اللہ کے گھروں کی رونقیں پھر سے ;200;ہستہ ;200;ہستہ ;200;باد ہونا شروع ہو چکی ہیں ، قر;200;ن کی تلاوت اور مساجد میں ذکر و اذکار بھی ہو رہا ہے اور اپنے گناہوں سے معافی کے ساتھ ساتھ اس مصیبت سے بھی چھٹکارے کی فریادیں مختلف انداز اور مختلف عقائد کے مطابق اب قدرے کھل کر کی جا رہی ہیں جبکہ جیسے میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ ;200;سیب یا وبا اس وقت اپنے پورے عروج پر ہے ۔ اپنے ایک سابقہ طویل کالم (کرونا، عبادات اور اعتقاد( میں میرا ۔ حاصل بحث ۔ سوال بھی یہی تھا کہ جس خدا کے گھر کو ;200;جکل ہم کرونا یا ایسی کسی بھی مصیبت سے متقابل یا مساجد میں نماز پر مکمل پابندی جیسے فلسفے کے پرچار پر زور دے رہے ہیں ،،،،،کیا کوئی مجھے یہ بتا سکتا ہے کہ اس ذات پاک کے علاوہ ہ میں اس مصیبت سے نجات دلانے والا کوئی اور کون ہے;238; میرا ایمان ہے کہ مصیبت ;200;تی بھی اللہ کی طرف سے ہمارا امتحان لینے کیلئے اور جاتی بھی اسی کے فضل و کرم سے ہے لیکن مصیبت کی ان گھڑیوں میں اپنے خالق و مالک سے تو منہ نہیں موڑا جاتا سکتا ۔ یہ وبا تو ایک امتحان ہے اور اللہ کے امتحانات میں توصرف صبر و شکر اور اسی کے سامنے سرجھکانے پر ہی کامیابیوں کی اسناد عطا ہوتی ہیں نہ کہ اس سے مقابلے اور اسکی ذات کو چیلنج کرنے سے ۔ قر;200;ن کریم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس مسئلے جس مشکل سے ;200;پ دوچار ہیں اس مقدس کتاب سے کسی نہ کسی صورت رہنمائی ضرور مل جاتی ہے چاہے یہ براہ راست اس مسئلے پر ۔ ۔ نص ۔ ۔ کی صورت میں موجود احکامات الٰہی ہوں یا اس میں کسی قوم کے حالات پر بحث کی گئی ہو جس سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہو، غرض پیاسا کبھی یہاں سے خالی واپس نہیں جاتا ۔ عزیزم پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی صاحب، سرسید کالج راولپنڈی روزانہ اپنے گروپ میں قر;200;ن پاک کی ;200;ڈیو کی صورت میں تفسیر ارسال فرماتے ہیں ، ;200;ج کے درس نے مجھے موجودہ صورتحال پر چونکا کر رکھ دیا ۔ ;200;ج کی تلاوت و تفسیر سورہ البقرہ کی ;200;یت نمبر 114 اور 115 تھی جو ;200;جکل کے حالات کی بالکل متقاضی ہے اور میرے خیال میں تو ان تمام ;200;ذاد منش قوتوں ، میڈیاء فرعونوں جو ;200;جکل نماز، جمعہ یا دیگر مذاہب کی اجتماعی عبادات کو شاید ملک کا سب سے بڑا جرم قرار دینے پر تلے رہتے ہیں اور اس ملحد طبقے کو جو روشن خیال، روشن دماغ یا عرف عام میں ۔ موم بتی گروپ ۔ ہےجو مذہب کو کوئی اہمیت نہیں دیتے جن کے نزدیک صرف انسان اور اسکے انسانی حقوق ہی شاید دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہیں انکے بے جا اور بلاجواز سوالات کے مکمل جواب موجود ہیں ۔ اللہ تعالی نے اپنے پاک کلام میں ان تمام لوگوں کی بھرپور مذمت کی ہے جو اللہ کی عبادات کیلئے ;200;نے والوں پر عبادت گاہوں اور مساجد کے رستے بند یا بند کرنے کی تلقین یا تدابیر پر زور دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں ظالموں سے تشبیہ دی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے;34; اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے منع کیا یا روکا مساجداللہ سے یعنی اللہ کے گھروں سے تاکہ ان میں اس کے نام کا ذکر نہ کیا جائے اور کوشش کی انکو ویران کرنے کی ۔ ;34; اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ظالموں کیلئے دنیا میں رسوائی اور عذاب کا وعدہ کیا ۔ چند مفسرین نے ان احکامات کو ۔ بخت نصر ۔ کے بیت المقدس کو تباہ و برباد کرنے سے بھی جوڑا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یہ ;200;یات اس موقع پر اتریں جب ;200;پ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے 1400 ساتھیوں کے ساتھ مشرقین مکہ نے عمرے سے منع کر دیا جانتے بوجھتے ہوئے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے ۔ اس صورتحال میں ;200;پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر پڑاءوفرمایا اور عمرہ ادا کئے بغیر واپس چلے گئے جبکہ اگلے سال پھر تشریف لاکر ;200;پ نے عمرہ ادا کیا ۔ میں اس موقع پر طبی ماہرین کی رائے کو یکسر نظر انداز نہیں کرنا چاہتا کیونکہ جب ایک دفعہ ایک بیمار نے ;200;پ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کا کہا تو ;200;پ نے دعا کے ساتھ ساتھ علاج کروانے کی بھی تلقین فرمائی ۔ میں اس موقع پر فرنٹ لائن میں اس وبا سے بر سر پیکار اپنے مشکل ترین فراءض سر انجام دینے والے تمام طبی عملے، فارماسسٹ، سپیشلسٹ اور ڈاکٹرز خواتین و حضرات، بیالوجی، وائرالوجی کے تمام ماہرین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، اور انکے ماہرانہ مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ان جیسے مخصوص حالات میں ان کی رائے کو ہی اولین ترجیح ملنی چاہئے لیکن ڈاکٹر صاحبان بھی تو عام ;200;دمی کی طرح سوچتے ہوں گے، وہ بھی اپنے اپنے عقیدے کے مطابق سارے اللہ ہی کے بندے ہیں ، اسلئے وہ کبھی اللہ کے گھروں کو اس مصیبت میں ۔ ٹارگٹ ۔ کر کے وبا میں اضافے کا سبب نہیں بنائیں گے جبکہ ہر طرف مارکیٹیں اور بازاروں میں معمول کا رش جاری ہے، وہ کبھی کھل کر اللہ تعالیٰ کی طاقت کے سامنے بغاوت نہیں کریں گے،وہ کبھی مساجداللہ اور تمام مقامات مقدسہ کی حرمت و عصمت کو نشانہ نہیں بنائیں گے، وہ یقینا اپنے سائنٹیفک علم اور سوچ سے اس پر ہر طرح سے قابو پانے کی بات ضرور کریں گے لیکن وہ کوئی ایسی رائے نہیں دیں گے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنے گی اور نہ ہی اسکی ذات کو براہ راست چیلنج کرنےکا کبھی وہ راستہ اختیار کریں گے ۔ جس سے مسجد و معبد، خانقاہوں اور تمام عبادت گاہوں کی کسی طرح بھی تضحیک و توہین ہو ۔ کیونکہ یہ اٹل ہے کہ الہم باقی ۔ من کل فانی ۔ ( یہاں باقی اگر نام رہے گا تو صرف اللہ کا باقی ہر چیز کو فنا ہونا ہے)