- الإعلانات -

ہر شخص منہ چھپائے پھرتا ہے

آجکل دنیا ساری میں وہ کچھ ہو چکا ہے جس کا کچھ عرصے پہلے تک کسی کو یقین نہیں تھا کہ لوگ گھروں میں مقید ہو کر رہ جائیں گے ، ہائی ویز ، ایکسپریس روڈز ، سڑکیں سنسان ہو جائیں گیں ۔ پٹرول کی قیمت پانی سے سستی ہو جائے گی ۔ آسمان اور زمین کی ٹریفک رک جائے گی ۔ جن ائیر پورٹ پر ہر منٹ بعد جہاز اترا کرتے تھے اب وہاں ہفتوں میں بھی ایک جہاز آتا جاتا دکھائی نہیں دیتا ۔ سب ہوائی جہاز گراءونڈ ہو چکے ہیں ۔ جو مسافر جہاں تھے وہی کے ہو کے رہ گئے ہیں ۔ ہر جگہ ٹرین ، بسیں ،فلائیک کوچیز جہاں تھی وہی رک چکی ہیں ۔ تمام عبادت گائیں ،مسجد ، مندر ، چرچ ، سینگال ،مزارات سب دروازے سب پر بند ہیں ۔ دنیا ساری میں کرونا وائرس کا نام اب بچے بچے کی زبان پر ہے ۔ یہ وائرس اب دنیا میں ہر جگہ پایا جا رہا ہے ۔ کوئی اس وائرس کو روکنے کےلئے بند نہیں باندھ سکتا ۔ کوئی دوا کوئی دم کوئی ٹوٹکا کام نہیں آ رہا ۔ سب پیر سب ملنگ دبے بیٹھے ہیں ۔ کوئی ڈاکٹر ،حکیم اس وائرس کا علاج کرنے سے قاصر ہے ۔ بڑے بڑے شاپنگ سینٹرز ،مال ، ہوٹل ، ریسٹورینٹ ، موٹل ،چائے خانے شراب خانے ، ڈسکو کلب ، فلم ہاءوس ، اسٹیج شو ، ڈرامے بند ہو چکے ہیں ۔ ، شادیاں ، برات ،مہندی کی رسم و رواج ، پارٹیوں کے پروگرام سب کے سب دھرے رہ گئے ہیں ۔ اس دنیا سے کوچ کر جانے والا خواہ اربوں پتی ہے مر جانے پر چند گنتی کے لوگ ہی اسے قبر تک چھوڑنے اور رسومات ادا کر رہے ہیں ۔ ہر کوئی گھر سے باہر جانے پر منہ چھپا کر نکلنے پر مجبور ہے ۔ ایسے ہی آج کا انسان منہ پر ماسک لگائے ہوا ہے جیسے کبھی دیہاتوں میں اکثر جانوروں کے منہ میں وائرس لگ جانے سے جانوروں کے منہ کو ڈھاپ دیا جاتا تھا ۔ اب ایسا ہی حال انسانوں کا ہو ہے ہر کوئی خواہ جسے یہ وائرس لگ چکا ہے یا نہیں لگا ، سب ماسک پہن کر نکلتے ہیں ۔ یہ صورتحال صرف پاکستان کی نہیں پوری دنیا کی ہے ۔ جو خوف ناک سین کرونا وائرس کی وجہ سے دیکھنے میں آ رہی ہیں ۔ وہ بہت خوفناک ہے ۔ ہمارے پاس تو وہ سہولیات نہیں جو ترقی یافتہ ممالک کو دستیاب ہیں لیکن وہ ترقی یافتہ ممالک بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ۔ ذرا اپنے اپنے گریبان میں جھانکھیں ۔ اگر تو وقت قیامت کا آ گیا ہوتا تو ہم اسی کو قیامت سمجھ لیتے ۔ مجھے تو لگتا ہے جیسے وہ ذات جس نے اس دنیا کی تخلیق کی وہ ہم سب انسانوں سے نا خوش ہو چکی ہے ۔ یہ ہمارے انسانوں کے کالے کرتوت ہی ہیں جن کی وجہ سے ہر انسان منہ چھپائے پھرتا دکھائی دے رہاہے ۔ تمام مساجد ، تمام مندر ، تمام چرچ تمام سینگال ، تمام عبادت گائیں سبھی کے دروازے سبھی پر بند ہو چکے ہیں ۔ ایسے ہونایہ ہمارے جرم کی سزا ہے ۔ اس پر کسی شاعر نے خوب لکھا ہے ۔

کوئی تو جرم تھا جس میں سبھی ملوث ہیں

تبھی ہر شخص منہ چھپا ئے پھرتا ہے

دنیا میں اب بھی اچھے لوگ پائے جاتے ہیں لیکن ا ن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ برے لوگ کچرے کے ڈھیر کی طرح دور سے دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کی بد بو سے کسی کو دور بین لگا کر انہیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ سچ ہے کہ ہر کسی نے اپنے اپنے مذہب کا مذاق اڑایا ۔ خواہ کوئی عیسائی ، ہندو ،سکھ ، یہودی اور مسلمان سبھی نے وہ کچھ کیا جو اس کا مذہب انہیں کرنے سے منع کرتا ہے اور جن کاموں کو کرنے کی تلقین کرتا ہے اس پر سبھی نے عمل نہ کیا ۔ بظاہر ہم اتنے دیندار ہیں کہ چوری کی مرغی بھی تکبیر پڑھ کر ذبح کرتے ہیں ۔ سچ کے بجائے جھوٹ کی قس میں کھا کر بزنس کرتے ہیں ۔ جھوٹ یوں بھولتے ہیں کہ جیسے اگر بولا نہیں تو کھانا ہضم نہیں ہو گا ۔ جو ہ میں علما دین مذہب کی تعلیم دے رہے ہوتے ہیں ان کے اپنے قول و فعل میں کھلا تضاد دکھائی دیتا ہے ۔ جس کے دربار پر جاتے ہیں اسی کی تعریفوں کے پل باندھنے لگتے ہیں ۔ دوسروں کو سچ کی تلقین کرتے ہیں اور خود جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں ۔ جب عالم دین اور حکمرانوں کا کردار ایسا ہو گا توپھر عام آدمی کا کردار اچھا کیسے ہوگا ۔ جب معاشرے میں اوپر سے لیکر نیچے تک لوگ جھوٹ انسانوں کے ساتھ اور اس ذات کے ساتھ جو دلوں کے راز جانتا ہے ۔ نمازیں عمرے حج روزے ، خیرات سبھی دکھاوے کی کرتے ہیں ۔ بعض مساجد اس لئے بناتے ہیں کہ ان کی روزی روٹی لگی رہے ۔ اس ذات کے نام پر قس میں کھا تے ہیں وعدے کرتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے ۔ یہ اس ذات کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھنے لگے ہیں ۔ ہر گناہ کرتے ہیں عمرے حج نمازیں پڑھتے ہیں ، واپس آتے ہی پھر وہی مکروہ دھندہ شروع کرنے لگتے ہیں ۔ ہ ذات جو دلوں کے راز جانتی ہے وہ اب ان سے تنگ آ چکی ہے اس لئے اس ذات نے سب پر عبادت گاءو کے دروازے سب پر بند کر دئے ہیں ۔ سب کے چہروں کو ڈھانپ دیا ہے ۔ لگتا ہے اب وہ ذات نہیں چاءتی کہ میری یہ عبادت کریں وہ ان کے چہرے تک دیکھنا نہیں چاءتی جس کی وجہ سے ہر کوئی ماسک سے چہرے چھپائے ہوئے ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اپنے کئے پر شرمندہ ہوں او ر توبہ کریں ۔ ایسا دنیا کے تمام مذاہب کے لوگوں کو کرنا ہو گا ۔ کوئی زمانہ تھا اخبار کی ہر خبر کو سیریز لیا جاتا تھا ۔ جس کے مطلق خبر چھپتی یا کوئی کالم لکھا جاتا تھا ۔ اس خبر پر عاشیہ لگا کر باس کے سامنے رکھا جاتاتھا، جس نے خبر دی ہوتی جس نے کالم لکھا ہوتا اس سے رابطہ کرتے ،اسے یقین دلاتے سر آئندہ ایسے نہیں ہوگا لیکن اب خبر، کسی کالم کے لکھے جانے کی لگتا ہے کسی کو کوئی پرواہ نہیں ۔ اب کہہ سکتے ہیں کہ بھینس کے آگے بین بجانے والا محاوہ نافذ و عمل ہو چکا ہے ۔ ہر کوئی چیخ و پکار کر رہا ہے کہ خدرا کرونا کے علاوہ جو مریض ہیں ان کا بھی خیال رکھیں مگر کیا مجال کہ صاحب اقتدار لوگ اس طرف بھی توجہ دیں ۔ اب عام بیماریوں کے مریضوں کو اسپتالوں میں دیکھنا چھوڑ رکھا ہے ۔ جسے ہارٹ اٹیک ہوا ہو اسے کہا جاتا ہے کہ پہلے کرونا کا ٹیسٹ اس کا کرائیں ۔ اگر ٹیسٹ منفی ہوا تو پھر ہم اس مریض کو دیکھیں گے ورنہ نہیں ۔ جبکہ ایسا مریض فوری توجہ طلب ہوتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اب ہر اسپتال میں بیرونی مریضوں کو علاج کی سہولت بند ہیں ۔ آپریشن کےلئے لمبی لمبی تاریخیں دی جا رہی ہیں ۔ جس سے لاکھوں لوگ پریشان ہیں جھنیں کورونا کے علاوہ کوئی دوسری بیماری لا حق ہے ۔ وہ بچارے اب کہاں جائیں ۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ راقم تقریبا ہر کالم میں اس بارے میں لکھتے آیاہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی گزارش کر چکا ہوں کہ خدا را ملک کے تمام اسپتالوں سے کرونا کے مریضوں کو نکالا جائے ۔ انہیں الگ سے خالی ہوسٹلوں میں رکھیں ۔ ان کےلئے فی الحال علاج نہیں صرف احتیاط کی ضرورت ہے ۔ انہیں اچھا ماھول اور اچھا کھانا ، اچھی غذا دی جائے ۔ اس کے علاوہ آرمی کے ایک حوالدار کی ان پر ڈیوٹٰ لگائی جا ئے جو انہیں سختی سے عمل کرائے ۔ چیف جسٹس سے ایک بار پھر مودبانہ گزارش ہے کہ خدا را ملک کے عام مریضوں کا بھی خیال رکھا جائے جومختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں ۔ اس پر اگر آپ حکم صادر فرما دیں گے کہ کرونا کے مریضوں کو ان اسپتالوں سے فوری نکالیں اور ہر ڈاکٹر کو اپنی اپنی فیلڈ میں کام کرنے دیا جائے ۔ تمام مریضوں کو اسپتالوں میں نارمل طریقے سے وزٹ کر نے کے فوری احکامات صادرفرما جائیں ۔ ایسے احکامات سے عام شہری سکھ کا سانس لے گا ۔ ورنہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔