- الإعلانات -

کورونا وباء کے ماحول میں عالمی یوم مزدوراں

200;ج یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے جو ہرسال کی طرح پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے ۔ یکم مئی اس برس اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ یہ ایسے ماحول میں منایا جا رہا ہے جب کورونا وباء کی وجہ سے پوری دنیا کا معاشی و سماجی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس مہلک وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ وہی طبقہ یعنی دیہاڑی دار متاثر ہوا ہے جسکی خاطر یہ دن منایا جاتا ہے ۔ ہر طرح کے موسم کی شدتوں میں اوقات کار اور اجرت سے بڑھ کر محنت مشقت کا بوجھ اٹھاتے مزدوروں کے لیے اس دن کو منانے کا مقصد ہی یہ رہا ہے کہ اس محنت کش طبقے کے استحصال کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی جائے بلکہ عملی اقدامات بھی کیے جائیں ،لیکن وباء نے ;200;جر اور اجیر دونوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ۔ ایسے میں اس دن کو منانے کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔ مزدوروں کا عالمی دن کارخانوں ، کھیتوں کھلیانوں ،کانوں اور تعمیراتی شعبوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے کروڑوں محنت کشوں کا دن ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ;200;ج بھی پوری دنیا میں بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک میں محنت کش استحصال کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں 62ملین کے قریب مزدور ہیں جو مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی لیبر قوانین موجود ہیں تاہم ان پر عمل نہ ہونے کے برابر نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مزدوروں کی بڑی تعدادجبری مشقت اور خطرناک حالات میں ایک زبانی معاہدے کے تحت کام کرنے پر مجبور ہوتی ہے ۔ پیداواری عمل فیکٹریوں سے نکل کر گھروں تک پہنچ گیا ہے جس کا گھریلو عورتیں اور بچے حصہ بن گئے ہیں ۔ انہیں نہایت کم اجرت پر منافع کمانے کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے بین الاقوامی ادارے ;200;ئی ایل او کے کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن اس پر عملدر;200;مد سوالیہ نشان ہے ۔ صورت حال تو یہ ہے کہ 90فیصد سے زائد مزدور حکومت کی متعین کردہ تنخواہ سے بھی کم تنخواہ وصول کر رہے ہیں ۔ کئی کارخانوں میں جبری مشقت سے ٹھیکے داری کا نظام چلایا جا رہا ہے ۔ کارخانے اور فیکٹریاں لیبر انسپکشن سے مبرا ہیں ۔ ہیلتھ اور سیفٹی جیسے قوانین نظر انداز ہو رہے ہیں ۔ روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی معاشی بدحالی کا سب سے بڑا سبب ہے ۔ بجلی، گیس، پانی، ٹرانسپورٹ وغیرہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ لاکھوں محنت کشوں کی بے روزگاری کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ۔ جو سماجی بنیادوں کو ہلانے کا موجب بنتی ہے ۔ اب کورونا بحران نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے ۔ عالمی اداروں نے خبردار کر رکھا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے دنیا کی نصف ;200;بادی شدید معاشی مسائل سے دوچار ہو سکتی ہے جس نمٹنے کے لئے ابھی سے تیاری کی ضرورت ہے ۔ کورونا بحران کی وجہ سے پاکستان میں بھی بے روزگاری کا سونامی امڈ ;200;یا ہے ماہرین کے اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد افراد ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں ۔ دریں حالات حکومت کے لئے کئی چیلنجز کھڑے ہو گئے ہیں جن سے اسے نمٹنا ہے ۔ کورنا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں مختلف شعبوں کی سپورٹ کے لئے 1;46;2 کھرب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جس میں سے دیہاڑی دار مزدروں کو ریلیف کی فراہمی کے لئے دو سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ کمزور طبقوں اور پناہ گاہوں کےلئے ایک سو پچاس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ پٹرول اور ڈیزل کی مد میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ستر ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لئے پچاس ارب روپے دیئے گئے ہیں ۔ گیس اور بجلی کے بلوں کی مد میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے ایک سو ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں ۔ ایکسپورٹرز کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ایک سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ یہ وہ اقدامات ہیں جوحکومت اٹھا چکی ہے یہ سب احسن اقدامات ہیں لیکن جتنا بڑا بحران سر اٹھا چکا ہے اس کے لئے حکومت کو ابھی مزید بہت کچھ کرنا پڑے گا ۔ ;200;ج عالمی یوم مزدوراں ہے تو امید کرنی چاہیے کہ حکومت اس دن کی مناسبت سے مستقبل کے لاءحہ عمل کےلئے ایسی خصوصی پالیسی مرتب کرنے کا اعلان کرے گی جو برسوں سے پسے ہوئے طبقے کو جینے کی امید دلا دے ۔ پاکستان میں یومِ مزدوراں دوسرے ایام کی طرح ایک تقریب اور تہوار بن کر رہ گیا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا تقریبات، جلسے جلوس، ریلیاں جو اس سال وہ بھی نہیں ہو رہی ہیں ،یہ سب مزدور کے دکھوں کا مداوا ہیں ۔ مزدوروں کو تو عزت کےساتھ دو وقت کی روٹی درکار ہے، پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں ;200;یا کیا ایک مزدور کو اس کا یہ بنیادی حق مل پاتا ہے ۔ اسلام نے تو آج سے چودہ سو سال پہلے ہی مزدور کے حقوق متعین کر دیے تھے ۔ پاکستان میں اس پسے ہوئے طبقے کی جو حالت اس وبائی بحران میں ہے اسے ایک مزدور ہی جان سکتا ہے ۔ ہر سال اس دن کی مناسبت سے بڑے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن ایک دیہاڑی دار اور کم تنخواہ دار ملازم کے حالات نہیں بدلتے ۔ اب تک تو ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہنے کا امکان ہے اگر حکومتِ وقت نے اس طرف توجہ نہ دی ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاویدباجوہ نے بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی قابض افواج کے وحشیانہ مظالم اور آزاد جموں و کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی اشتعال انگیزی علاقائی امن اور استحکام کےلئے خطرہ ہے ،ہندوستانی فوج کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر منہ توڑ جواب ملے گا ۔ سربراہ بری فوج نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاک فوج لائن آف کنٹرول کےساتھ رہنے والے بے گناہ شہریوں کی حفاظت اور ہر قیمت پر مادروطن کی عزت، وقار اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرے گی‘‘ ۔ بلاشبہ بھارتی افواج وحشیانہ پن کی وجہ سے خطے میں بدنام ہیں ۔ اس کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ لائن ;200;ف کنٹرول پر ہر روز وحشی پن کا مظاہرہ کرتی ہیں جس سے بے گناہ اور نہتے شہری جاں بحق ہو رہے ہیں ۔ ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا جہاں انہیں تازہ ترین صورتحال، بھارتی فوج کی جانب سے بار بار سیز فائرکی خلاف ورزیوں میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور پاک فوج کی بروقت جوابی کارروائیوں سے متعلق آگاہی حاصل کی اور لائن ;200;ف کنٹرول پر کھڑے ہو کر دشمن افواج کو پیغام دیا کہ تمہیں ہر خلاف ورزی پر دندان شکن جواب دیا جائے گا ۔ اس موقع پرجنرل قمر جاوید باجوہ نے آپریشنل تیاری اور فوجی دستوں کے اعلیٰ حوصلوں کی تعریف کرتے ہوئے جوانوں اور افسران کی بہادری اورپیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی ۔ 24اپریل کو پاک فوج کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ26فروری سے لے کر اب تک 456مرتبہ بھارت سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے ۔ ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے کہا کہ سیز فائر خلاف ورزیوں میں بھاری ;200;رٹلری کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں سے بچنے کےلئے وہ ;200;بادی کا استعمال کرتی ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاسکے ۔