- الإعلانات -

کرپشن ختم کرنے کا آخری موقع

گزشتہ سے پیوستہ

اس نظریاتی جماعت کے ایک سابق امیر سید منور حسن صاحب نے کرپشن کے حوالے سے ایک دفعہ میڈیا میں بیان دیا تھا کہ اس نظریاتی جماعت کے بلدیاتی،صوبائی، قومی اسمبلی اور سینٹ میں مختلف وقتوں میں تقریباً ایک ہزار کے قریب لوگ الیکشن میں کامیاب ہوئے ۔ اللہ کاشکر ہے کہ ان میں سے ایک پر بھی کرپشن کا الزام نہیں لگا ۔ اسی طرح پاکستان کی سپریم کورٹ میں نواز شریف کے مقدمے کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریماکس دیے تھے کہ اگر پاکستان کے آئین کی دفعہ ۲۶ ۔ ۳۶ پر پاکستان کے سیاستدانوں کو پرکھا جائے تو صرف جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب ہی پورے اتر سکتے ہیں ۔ یہ نظریاتی سیاسی دینی جماعت ہمیشہ سے پاکستان کے عوام کو کرپشن فری پاکستان کے لیے قریہ قریہ بستی بستی بلاتی رہتی ہے ۔ سابق امیر قاضی حسین احمد صاحب نے پورے پاکستان میں کرپشن فری مہم چلائی ۔ آئی جی آئی اتحاد کے وقت قاضی صاحب نے نواز شریف صاحب سے بھی التجا کی تھی کہ آپ اپنے اثاثہ جات کو ڈکلیئر کردو ۔ نواز شریف نے اپنے والد مرحوم محمد شریف سے مشورے کے بعد قاضی صاحب کو جواب دیا تھا کہ ہم تجارت پیشہ لوگ ہیں ایسا نہیں کر سکتے ۔ اس کے بعد سراج الحق صاحب نے بھی کرپشن فری پاکستان آگاہی کےلئے ٹرین مارچ، سیمینار، ریلیاں اور جلسے کیے ۔ مگر عوام کے اندر اتنی پذیرائی نہیں ملی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستانی عوام کرپشن فری پارٹی کے لوگوں کو منتخب کر کے پارلیمنٹ میں بھیجتے ۔ مکمل طور پر وہی سیاسی پارٹی کرپشن ختم کرسکتی ہے جو خود ختم کرپشن فری ہیں اور اس کے پاس ایک ٹیم بھی موجود ہے ۔ لیکن اللہ کی مشیت کے سامنے کسی کی بھی نہیں چل سکتی ۔ انبیا ء کی سنت ہے کہ ایک ایک بندے کے پاس جا کر پر امن طریقے سے اصلاح کی کوشش کی جائے ۔ اسی پر یہ نظریاتی جماعت عمل کر رہی ہے ۔ جب اللہ نے چاہا کامیابی ملے گی ۔ عمران خان صاحب نے تحریک انصاف کے پیلٹ فارم سے کرپشن کے خلاف مہم چلائی ۔ عوام نے عمران خاں کی حوصلہ افزائی کی ۔ ۸۱۰۲ء کے قومی الیکشن میں پاکستان کے عوام نے عمران خان صاحب کو کرپشن فری پاکستان کے منشور پر ووٹ دیے ۔ عمران خان نے وزیر اعظم پاکستان کا حلف اُٹھایا ۔ اب عمران خان صاحب ملک چلا رہے ہیں ۔ حکومتی اخراجات میں ممکن حد تک کفایت شعاری کو راج کیا ۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور صوبائی گورنر ہاءوسزکو عوام کے لیے کھول دیا ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے اللے تللے اخراجا ت کو لگام دی ۔ عمران خان صاحب نے کرپشن فری پاکستان کےلئے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کےخلاف جاری مقدمات کی مکمل حمایت کی ۔ اعلان کیا کہ عوام سے لوٹا ہوایک ایک پیسا وصول کر کے پاکستان کے غریب عوام کے خزانے میں داخل کرے گا ۔ عمران خان کا دامن کرپشن سے پاک ہے ۔ نہ بیرون ملک میں جائیداد ہے نہ کاروبار ۔ عمران خان صاحب کے خلاف مخالوں نے کرپشن کا مقدمہ قائم کیا ۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان صاحب کو بری کرتے ہوئے، صادق و امین کا سرٹیفکیٹ دیا ۔ عمران خان خودتو کرپشن فری ہے ۔ مگر اس کے ارد گرد کھوٹے سکے ہیں ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لوٹوں کوساتھ ملایا ہوا ہے ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے ۵۳ سال سے پاکستان پر حکومت کرنے کےلئے باریاں بانٹی ہوئی تھیں ۔ سارے بیروکریٹس ان کے لگائے ہوئے ہیں ،جو آئے دن عمران خان کے راستے میں روڑے بچھاتے رہتے ہیں ۔ عمران خان کو اپنے اردگرد کرپٹ لوگوں سے بتدریج جان چھڑاکر اپنی پارٹی کے ایمان دار لوگوں کولگانا چاہیے ۔ چینی آٹے کے مصنوئی بحران پید ا کرنےوالوں کیخلاف کاروائی کرنی چاہیے ۔ انکوائری کمیشن نے مزید تین ہفتے کا وقت مانگا ہے جسے کابینہ نے دے دیا ہے ۔ تحقیق شفاف طریقے سے ہونی چاہیے ۔ قصوار وار کو قرار واقعی ہی سزا ملنی چاہیے ۔ ذراءع کہتے ہیں عمران خان سخت قسم کا ایڈمنسٹریٹر ہے ۔ جو سینیٹ انتخاب میں پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ کاسٹ کرنےوالوں درجوں صوبائی اسمبلی کے ممبران کیخلاف ایکشن لے سکتا ہے ۔ خیبر پختونخواہ کے تین وزیروں کی پارٹی پالیسی سے روگردانی کرنے پر عہدوں سے فارغ کر سکتا ہے ۔ وہ آٹے چینی کا مصنوی بہران پیدا کرنے والوں کو بھی نہیں چھوڑے گا ۔ عمران خان کوکرپشن پکڑنے کےلئے لمبے عدالتی نظام کے قانون میں کوئی تبدیلی لانا چاہیے تاکہ جلد از جلد کرپٹ لوگوں سے پیسا واپس لے غریب عوام کے خزانے میں داخل کیا جا سکے ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے مضبوط سوشل میڈیا ٹیموں نے عمران خان کےخلاف منفی پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کیا ہوا ہے ۔ پہلی حکومتوں کا مراعات یافتہ میڈیا بھی یہ کام زور و شور سے کر رہا ہے ۔ عمران خان کو اس کا موثر توڑ کرنا چاہیے ۔ کرپشن کوختم کرنے کا عمران خان کے پاس آخری موقع ہے ۔ خدا نخواستہ عمران خان کرپشن ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا اور آیندہ الیکشن میں کرپٹ سیاست دان پھر سے اقتدار میں آجاتے ہیں توپاکستان کو دیوالہ کرکے چھوڑیں گے ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے کرپشن کی طرف پر دھان ہلکا ہو گیا ہے ۔ اللہ کرے پاکستان کو کررونا سے جلد از جلد نجات ملے تاکہ کرپشن کیسزپر عمران خان کی توجہ کا موقع ملے ۔ ملک میں کرپشن ختم کرنے کے خواہش مند سارے عناصر کو بھی سیاست کوایک طرف رکھ کرعمران خان کی کرپشن ختم کرنے کے مشن کا ساتھ دینا چاہیے ورنہ تاریخ انہیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔ اللہ پاکستان میں کرپشن کو جڑ سے اُکھار دے آمین ۔