- الإعلانات -

مذہبی عدم برداشت کا چمپئن

جو سوچ ہندوستان کے دو لخت ہونے کا باعث بنی تھی وہ سات عشروں سے زائد عرصہ بیت جانے کے باوجود بھی نہیں بدلی بلکہ یہ کہا جائے کہ وہ مزید جارحانہ ہو گئی ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔ ;200;ج برسوں بعد قائد محمد علی جناح;231; کی دوراندیشی کو سلام کرنا چاہئے کہ انہوں نے ہندو نسل پرستی کے خطرے کو بھانپتے ہوئے دو قومی نظریہ پیش کر کے الگ وطن کی جدوجہد نہ کی ہوتی توخدانخواستہ مذہبی عدم برداشت کے ہاتھوں شاید ;200;ج خطے میں ہم روہنگیائی مسلمانوں کی طرح در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہوتے ۔ ;200;ج مہذب دنیا میں جب ہر طرح کی ;200;زادی ، رواداری اور مذہبی ہم ;200;ہنگی کو فروغ دینے کے جتن کئے جا رہے ہیں بھارت مذہبی عدم برداشت کا چیمپئن بن کر سامنے ;200;یا ہے ۔ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی تازہ رپورٹ اس کا ٹھوس ثبوت ہے ۔ اگرچہ گزشتہ سات ساڑھے سات عشروں کے دوران ہر بھارتی حکومت مذہبی شدت پسندی کو ہوا دیتی رہی لیکن مودی حکومت کے یہ چند سال سب پہ بھاری ہیں کہ جس نے بھارت کوپہلی بار اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک کے مقام پر لاکھڑا کیا ہے،شاباش نریندرا مودی ۔ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں بڑی صراحت کےساتھ متنازعہ بھارتی شہریت بل ، بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیے جانے کو زیر بحث لا کر شدید تنقید کی گئے ہے ۔ رپورٹ میں امریکی کانگریس کو بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سماعت جاری رکھنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے ۔ بھارت جو پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کی غرض سے عالمی سطح پر پاکستان کی اقلیتوں کے حوالے سے ہمیشہ منفی پروپیگنڈا میں مصروف رہتا ہے ، اسی رپورٹ میں پاکستان کے متعدد مثبت اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ جن میں کرتار پور راہداری کھولنا، پاکستان میں پہلی سکھ یونیورسٹی کا قیام، ہندو مندروں کی دیکھ بھال ، اوراقلیتوں کے خلاف امتیازی مواد کے ساتھ تعلیمی مواد پر نظر ثانی کے پاکستانی حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں ۔ کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ2019کی رپورٹ میں بھارت مذہبی ;200;زادی کے نقشے پر تیزی سے نیچے ;200;یا ۔ بی جے پی کے بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی ;200;ئی ہے ۔ جبکہ گاوَ کشی کے نام پر موب لنچنگ معمول ہے ۔ کمیشن کے وائس چیئرمین نیڈین مینزا نے سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انتہائی حد تک گر جانے والی سطح ہے اور بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے یہ بہت ہی تشویش ناک صورتحال ہے، گزشتہ سال دسمبر تک کے حالات کے حوالے سے مرتب کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں شہریت کے قانون کی وجہ سے مسلم آبادی کو حراست میں رکھے جانے، ڈی پورٹ کرنے، ریاست سے بے دخل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ رپورٹ میں حالیہ عرصہ کے دوران حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماءوں کی جانب سے اقلیتی آبادی کیخلاف دیے جانے والے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کو سفارش کی گئی ہے کہ ٹرمپ حکومت سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتی سرکاری ایجنسیوں اور افراد اور عہدیداروں پر ٹارگٹڈ پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کے اثاثے ضبط یا ان کی امریکہ میں انٹری پر پابندی عائد کی جائے ۔ ساتھ ہی بھارت میں امریکی سفارتخانہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھائے اور مذہب مخالف جرائم کی مخالفت کرے ۔ بھارت کے چار سالہ نیشنل رجسٹریشن پروگرام کی تکمیل کے بعد لاکھوں بھارتی مسلمانوں کو قیدوبند، جلاوطنی اور شناخت کھونے جیسے خطرات کا سامنا ہے ۔ اسی بنا پرامریکی انتظامیہ سے مذہبی آزادی پامال کرنے والے ملکوں سے کڑا حساب لینے کی سفارش کی گئی ہے ۔ در حقیقت مودی حکومت اس وقت خطے میں ناسور کی طرح ہے جس کی تشخیص اس رپورٹ میں کر دی گئی ہے ،تاہم اب اس کا بروقت علاج بھی ضروری ہو گیا ہے ۔ کورونا ایک قدرتی ;200;فت ہے جس کی ہولناکی نے مختلف کمیونٹیز میں باہمی ہمدردی کو اجاگر کیا ہے، لیکن بھارت میں معاملہ برعکس ہے اور ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلمان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ متعدد غلط اور پرانی ویڈیوز کے ذریعے یہ بات مسلسل پھیلائی جا رہی ہے کہ مسلمان تھوک کے ذریعے کورونا پھیلا رہے ہیں ۔ کئی ویڈیوز میں مسلمان ریڑھی والوں سے پھل اور سبزیاں نہ خریدنے کی اپیل کی جا رہی ہے ۔ کچھ ویڈیوز ایسی بھی سامنے ;200;ئی ہیں جہاں مسلمانوں پر حملے کر کے انھیں مارا پیٹا جا رہا ہے ۔ نفرت کی یہ جڑیں دن بدن گہری ہوتی جا رہی ہیں ، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گورکھپور کے علاقے سیکری گنج میں ایک مسجد میں اذان دیے جانے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اس پر حملہ کر دیا اور مقدس کتاب قر;200;ن کو فرش پر پھینک دیا ۔ ایسی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں جو بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتی ہیں ۔ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کا بھارت کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیکرباعث تشویش ممالک کی فہرست میں شامل کر لینا بھارت کے سنجیدہ حلقوں کی ;200;نکھیں کھول دینے کے لئے کیا کافی نہیں ہے ۔ اگر یہ سلسلہ یونہی ;200;گے بڑھتا رہا تو بھارت کو مزید تقسیم سے نہیں روکا جا سکے گا ۔ ہندو بنیا اپنے نسل پرستانہ زعم اور انتہا پسندانہ نظریات کی تقلید میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ہمیشہ ناکام رہاہے ۔ اس ضمن میں توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی شناخت ختم کرنے کیلئے جو انسانیت کش اقدامات کئے جارہے ہیں ان کے بعد مسلمانوں کیلئے بھارت ایک عقوبت خانہ سے کم نہیں ہے ۔