- الإعلانات -

بھارتی اقلیتوں بارے امریکہ کا اظہار تشویش

عالمی سطح پر آزادی مذہب پر نظر رکھنے والے امریکی کمیشن ’یو ایس سی آئی آر ایف‘کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بھارت میں مذہب کے نام پر استحصال کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت میں پورے ملک میں احتجاج ہو رہے ہیں ۔ اسے بھی بھارت میں مذہب کے نام پر ہونے والی تفریق کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ امریکی کمیشن مذہبی آزادی کی رپورٹ میں بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے بھارت کو سی پی سی ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ۔ بھارت 2019 میں مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا ۔ سالانہ رپورٹ میں متنازع بھارتی شہریت بل پر شدید تنقید کی گئی ۔ 2019 میں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ۔ بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کی گئی ۔ امریکی کمیشن نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے پر بھی تنقید کی ۔ بھارت میں سی اے اے کے نفاذ کے بعد وہاں اظہار مذہب کی آزادی متاثر ہوئی ہے ۔ سی اے اے کے وجود میں آنے کے بعد بھارت کے مختلف حصوں میں بڑی سطح پر احتجاج ہوئے ہیں اور حکومت نے مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائی کی ہے ۔ رپورٹ میں ’این پی آر‘ یعنی نیشنل پاپولیشن رجسٹر پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے ۔ مودی حکومت نے اپریل 2020 سے پورے ملک میں این پی آر اپڈیٹ کرنے کا کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن اس کے بارے میں لوگوں کو تشویش ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں این پی آر دراصل این آر سی کا پہلا قدم ہے اس لیے وہ اس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں ۔ امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت حکومت شہریوں کا مذہب کی بنیاد پر رجسٹر تیار کرے گی جس سے مسلمانوں کو نقصان ہوسکتا ہے ۔ ریاست آسام میں این آر سی کی آخری فہرست جاری کی گئی جس کے بعد 19 لاکھ لوگوں کی شہریت پر سوالیہ نشان لگ گیا کیونکہ ان کا نام شہریوں کی فہرست میں نہیں ہیں ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این آر سی مسلمانوں کے ساتھ تفریق کےلئے بنایا گیا قانون ہے ۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمان میں کہا تھا کہ پورے ملک میں این آر سی کا نفاذ کیا جائے گا لیکن جب پورے ملک میں سی اے اے اور این آر سی کیخلاف احتجاج تیز ہوئے تو وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک انتخابی ریلی اور بعد میں حکومت نے پارلیمان میں بیان دیا کہ حکومت کا فی الحال پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ کمیشن کے وائس چیئرمین نیڈین مینزا نے سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بالکل ٹھیک کہا کہ یہ شاید انتہائی حد تک گر جانے والی سطح ہے اور بھارت میں مذہبی حالات اور آزادی کے حوالے سے یہ بہت ہی تشویش ناک صورتحال ہے ۔ بھارت میں شہریت کے قانون کی وجہ سے مسلم آبادی کو حراست میں رکھے جانے، ڈی پورٹ کرنے، ریاست سے بے دخل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ حالیہ عرصہ کے دوران حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماءوں کی جانب سے اقلیتی آبادی کیخلاف دیے جانے والے بیانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کرونا کی آڑ میں بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ جو بھارت پاکستان پر الزامات لگاتا تھا خود اقلیتوں کو نشانہ بنارہا ہے ۔ کورونا وائرس کے مسلمان مریضوں سے بھی امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ بھارت میں مسلمان مریض اسپتال جاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے واپس جائیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں اب بھی انٹرنیٹ بند ہے لوگوں کو رسائی نہیں دی جارہی ۔ بھارت میں مسلمانوں کی دکانوں سے خریدوفروخت نہیں کی جارہی ہے ۔ او آئی سی کی جانب سے بھی بھارتی رویے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل اوآئی سی اوررکن ممالک کے وزرائے خارجہ کوخط لکھا ہے جس میں انہوں نے بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کیا ہے ۔ وزیر خارجہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاوَ کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو انسانی بم قرار دے کر ان کی کردار کشی کی جارہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اسلام سے نفرت کے عنوانات کی بھرمار ہے ۔ کورونا وائرس کیلئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانا انتہائی خطرناک ہے ۔ ہندوتوا نظریے کے طویل مدتی نتاءج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں ۔ وزیرخارجہ نے خط میں او آئی سی کی جانب سے بھارتی مسلمان دشمنی کی مذمت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کو ایچ آر سی سمیت عالمی فورمز میں اٹھایا جائے اور او آئی سی اسلاموفوبیا آبزر ویٹری کو مزید تقویت دی جائے ۔ عالمی و مقامی ذراءع ابلاغ گلیوں ، دکانوں اور مساجد پر مسلمانوں پر حملوں کے مناظر دکھارہے ہیں ۔ یہ مہم مشرق وسطی سمیت بیرون ملک بھارتی باشندے بھی پھیلارہے ہیں ۔ کمیشن کی رپورٹ میں 13 دیگر ممالک کا بھی ذکر ہے اور امریکی محکمہ خارجہ کو سفارش کی گئی ہے کہ ان ممالک کو ’’تشویش کا باعث ممالک‘‘ کی فہرست میں شامل کیا جائے کیونکہ ان ممالک کی حکومتیں منظم، جاری اور قابل اعتراض حد تک خلاف ورزیوں کو برداشت کر رہی ہیں ۔ رپورٹ میں پاکستان کو سی پی سی ممالک کی فہرست میں برقرار رکھاگیا جبکہ نائیجیریا، روس، شام اور ویتنام کو بھی ’’تشویش کا باعث ممالک‘‘ کی فہرست میں شامل کرلیاگیاہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کو سفارش کی گئی ہے کہ امریکی حکومت سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتی سرکاری ایجنسیوں اور افراد اور عہدیداروں پر ٹارگٹڈ پابندیاں عائد کرے ۔ ان کے اثاثے ضبط یا ان کی امریکا میں انٹری پر پابندی عائد کی جائے ۔ بھارت کے برعکس کمیشن کے کمشنر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے مذہبی آبادی سے جڑے تحفظات کو دور کرنے کیلئے مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔ امریکی کمیشن کی جانب سے اقلیتوں کےلئے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی گئی ہے ۔ اس ضمن میں پاکستان کی متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ۔ کرتارپور راہداری کھولنے پر پاکستانی اقدامات کی تعریف کی گئی ۔ سکھ یونیورسٹی، تعلیمی مواد پر نظرثانی کے حکومتی اقدامات کو سراہا گیا ۔