- الإعلانات -

عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتیں ،حکومت کا بڑا ریلیف

عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی بدترین بے قدری پاکستان میں مہنگائی سے ستائی عوام کے لیے بڑی خوشخبری بن سامنے آئی ہے،کیونکہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں نمایاں کمی کر دی ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اوگرا کی جانب سے وزارت خزانہ کو جوسمری بھجوادی گئی تھی اس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 20 روپے 68 پیسے کم کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 33روپے94پیسے ا ور لاءٹ ڈیزل 24روپے57پیسے جب کہ مٹی کا تیل44روپے7پیسے سستا کرنے کی سفارش کی گئی تھی ۔ تاہم وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 15روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے،اعلان کردہ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 27روپے15 پیسے، مٹی کا تیل30روپے ایک پیسہ فی لیٹر اور لاءٹ ڈیزل ;200;ئل15روپے فی لیٹر سستا کیا گیا ہے ۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گرنے کا فائدہ عوام کو منتقل کرنا ایک احسن اقدام ہے ۔ اس اقدام کی ضرورت بھی تھی کیونکہ کورونا وباء کی وجہ سے متوسط اور سفید پوش طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ ملک کی معاشی سرگرمیاں بھی ماند پڑنے سے کئی مسائل کھڑے ہو چکے ہیں ۔ تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاوَ کا اثر براہ راست عوام پر پڑتا ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کا طوفان امڈ ;200;تا ہے ۔ حتیٰ کہ چھوٹا تاجر طبقہ بھی ہل کے رہ جاتا ہے ۔ اب جبکہ تھوڑے عرصہ میں حکومت نے بڑے پیمانے پر تیل کی قیمتیں کم کی ہیں تو مہنگائی کے اس طوفان کو روکنے میں مدد ملی ہے جو چند ماہ قبل ہر کسی کے لئے درد سر بنا گیا تھا ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں غریب اور ترقی پذیر ممالک کو سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے وہاں تیل کی مسلسل گرتی قیمتیں کسی نعمت ِغیر مترقبہ سے کم نہیں ہیں اور اسے غیبی مدد تصور کرنا چاہئے ۔ پاکستان جیسے کمزور ممالک کے لئے یہ ایک شاندار موقع ہے کہ وہ اس سے ملکی معیشت کو بھی سہارا دے اور عوام کو بھی اسکا فائدہ منتقل کرے ۔ حالیہ عرصہ میں پاکستان نے یہی پالیسی اپنائی ہے ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم سطح پر رہنے سے یقینا پاکستان کی تیل کی درآمدات میں زبردست کمی ہو گی جبکہ شرح سود و پیٹرلیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی سے مہنگائی میں بھی مزیدکمی ہو گی ۔ تاہم اسکے باوجودپاکستانی معیشت کو متعدد خطرات اور چیلنجز کا بدستور سامنا ہے ۔ ماہرین کے مطابق موجودہ مالی سال میں معیشت کی شرح نمو انتہائی سست جبکہ ٹیکسوں کی وصولی، ہدف سے کم رہے گی جبکہ ترقیاتی اخراجات میں زبردست کٹوتی اور جی ڈی پی کے تناسب سے تعلیم و صحت کی مد میں انتہائی کم رقم خرچ کرنے کے باوجود بجٹ خسارہ بڑھنے کا امکان ہے ۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہیں جبکہ ملکی وبیرونی قرضوں کا حجم بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضے کا حجم کوہ ہمالیہ کی شکل اختیار رہا ہے، دوسری طرف حکومتی شعبوں کے اداروں کے نقصانات کا حجم تقریبا ً2100، ارب روپے ہے ۔ ملک میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری مالی سال 2018کے مقابلے میں گری ہے ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بغیر پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہی نہیں ہے ۔ مندرجہ بالا حقائق اس بات کی چغلی کھا رہے ہیں کہ پاکستانی معیشت کو مستقل بنیادوں پر سنبھالا دینے اور عوام کی حالت بہتر بنانے کےلئے مختلف شعبوں خصوصاً ٹیکسوں اور توانائی کے شعبوں میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کرنا ہونگی ۔ حکومت کی طرف سے تیل کی قیمتوں میں کمی تیل کے چند ماہ قبل کے سودوں پر کی گئی ہے جبکہ اگلے ایک دو ماہ میں ان قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے کیونکہ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ٹکے بھاوَ کے مصداق چل رہی ہیں ۔ اس عرصہ کے سودوں کے بعد تو عوام کو مزید ریلیف اور ملکی معیشت کے پہیے کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی ۔ حکومت کے لئے یہ ایک گولڈن چانس ہے کہ وہ عالمی سطح پر گرتی قیمتوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے تیل کے ذخیرہ کو بڑھائے ۔ دنیا بھر میں تیل کو ذخیرہ کرنے کا رجحان بڑھ چکا ہے ۔ بعض اطلاعات کے مطابق تیل کو سمندر میں ذخیرہ کرنے کیلئے ;200;ئل ٹینکروں کی بکنگ میں تیزی دیکھی جا رہی جبکہ اس سے قبل13کروڑبیرل سے زائد ;200;ئل تیرتے ٹینکرز میں موجود ہے ۔ پاکستان بھی لمبے عرصہ کےلئے تیل کے سودے طے کرلے ۔

ایل او سی پر بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار

ایک طرف کوروناوائرس کی وباء جاری ہے تو دوسری طرف بھارتی شرانگیزیاں تھمنے میں نہیں آرہیں ،موذی وبا سے نمٹنے کےلئے ممالک ایک دوسرے کے مثبت تجربات سے استفادہ کرنے اور معاونت کیلئے کوشاں ہیں مگر بھارت کی ہٹ دھرمی پربرقرارہے ۔ بھارت آئے روزایل او سی پرسیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کرتاہے اوربے گناہ شہریوں کونشانہ بناتاہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی فوج نے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیلر سیکٹر پر پاک فوج کی چوکی کو خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس سے ایک لانس نائیک شہید ہوگیا اور قریبی آبادی میں 2خواتین بھی شہید ہوئی ہیں ۔ پاک فو ج کی جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔ وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک زاہد حفیظ چوہدری کی طرف سے بھارتی ناظم الامور گورو اہلووالیا کو طلب کرکے شدید احتجاج کیاگیا ہے ۔ بھارت نے صرف 2020 میں اب تک 919 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے اور جان بوجھ کر آزاد جموں و کشمیر میں ایل او سی کے قریب رہنے والے معصوم شہریوں کو بھاری اسلحہ سے نشانہ بنا رہا ہے ۔ بھارتی فورسز کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ڈی جی جنوبی ایشیا اور سارک نے کہا کہ بھارتی اقدامات 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہیں ۔ بھارتی فورسز ایل او سی پر مسلسل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں ، بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کےلئے خطرہ ہے ۔ بھارت ایل او سی اور ورکنگ باءونڈری میں کشیدگی میں اضافہ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا ۔ مودی حکومت کی ایل او سی پرفائرنگ کی کارستانیاں کبھی کامیاب نہیں ہونگی اب تو مودی کودنیابھر میں ہزیمت کاسامنا کرناپڑ رہاہے ۔ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پرمظالم مودی کی بوکھلاہٹ کانتیجہ ہے گزشتہ روزتوامریکی کمیشن نے بھی مودی کاسیاہ چہرہ دنیابھر میں بے نقاب کردیاہے ۔ ہماری مسلح افواج بھارتی جارحیت کاجواب دینے کےلئے مکمل طورپرتیار اور چوکس ہیں ۔ پاکستان اپنے ملک کادفاع کرنا اچھی طرح جانتاہے اور بھارتی فوج کو جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیوں پر ہمیشہ منہ توڑ جواب ملے گا ۔

پولیو کے بڑھتے کیسز،ایک نظر ادھر بھی

خیبر پختونخوا اور پنجاب سے پولیو وائرس کے مزید 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، اس طرح ملک میں رواں سال کے دوران پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 44 ہوگئی جو خطرناک ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ یہ وائلڈ پولیو بیماری نہیں بلکہ یہ پولیو کی سیبن لائیک ٹاءپ2 ڈرائیوڈ(ایس ایل ٹی 2 ڈی)قسم ہے اور اس طرح کا وائرس دنیا کے متعدد ممالک میں رپورٹ ہوچکا ہے ۔ ان ممالک میں فلپائن، چین، انڈونیشیا، نائیجیریا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، اور افریقہ کے متعدد ایسے ممالک شامل ہیں جہاں پولیو بیماری کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔ وائلڈ پولیو وائرس کی 3 سیرو ٹاءپس پائی جاتی ہیں جو کیپسڈ پروٹین کے معمولی فرق کے ساتھ ٹاءپ 1، ٹاءپ 2 اور ٹاءپ 3 ہیں ۔ پاکستان میں اورل پولیو ویکسین (او پی ویز)یعنی قطروں اور انجیکشن کی صورت میں ٹاءپ 1 اور ٹاءپ 3 وائرسز دیے جاتے ہیں ۔ تاہم سال 2014 میں ملک میں ٹاءپ 2 وائرس دینا بند کردیا گیا تھا اور سال 2016 سے وہ ملک میں ماحولیاتی سطح پر بھی نہیں پایا گیا ۔ ماحولیاتی سطح پر پولیو وائرس کا مثبت آنے کا مطلب یہ ہے کہ سیوریج پانی میں وائرس پایا جائے ۔ ماہرین کے سال 2019 میں مختلف علاقوں میں رپورٹ ہونے والے کیسز سے یہ ظاہر ہوتا ہے وائرس کی کچھ باقیات کسی لیبارٹری یا کسی اور جگہ رہ گئی تھی جو انسانی غلطی کے سبب پھیلنا شروع ہوگئی ہے،جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ،چونکہ تمام تر توجہ ان دنوں کورونا وائر کی طرف لگی ہوئی ہے اور مرحلہ وار انسداد پولیو مہم بھی رکی ہوئی ہے تو خدشہ اس بات کا ہے کہیں نیا بحران نہ کھڑا ہو جائے ۔