- الإعلانات -

زراعت اور خوراک کا بحران ۔ ۔ ۔ ۔ !

حقےقت ےہ ہے کہ وطن عزےز پاکستان دنےاکا اےک خوبصورت ترےن اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے ۔ وطن عزےز میں حسن بھی ہے اور نفاست بھی ہے ۔ ےہاں نزاکت بھی ہے اور رفاقت بھی ہے ۔ ےہاں محنت بھی ہے اور شجاعت بھی ہے ۔ ےہاں معدنی دولت بھی ہے اور زراعت بھی ہے ۔ پاکستان بنےادی طور اےک زرعی ملک ہے ۔ زراعت کا پاکستان کی معےشت میں اہم کردار ہے ۔ وطن عزےز کی جی ڈی پی میں 21 فی صد زراعت کا حصہ ہے اور ملکی برآمدات میں زرعی مصنوعات80فی صد ہےں ۔ 48فی صد افراد زراعت سے وابستہ ہیں ۔ اگر بغور دےکھا جائے تو پاکستان زراعت کے ستون پر کھڑا ہے لیکن حقےقت ےہ ہے کہ حکومتی اور عوامی سطح پر زراعت کےلئے ٹھوس اور عملی اقدامات کھبی نہیں اٹھائے گئے ۔ اےوب خان اور بھٹو کے زرعی اصلاحات کی وجہ سے زراعت کوعملی طور پر کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا ۔ جاگےرداروں نے زمینیں اپنے مزارعوں کے نام کردیں ےعنی صرف کاغذوں میں زمےنوں کے مالکوں کے نام تبدےل ہوئے ۔ جاگےرداروں کو اپنی محنت اور مشقت سے زمینیں نہیں ملی تھیں ،اس لئے انھوں نے زراعت کی ترقی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی ۔ جنوری 1997 ء کواےک نجی ہاءوسنگ اسکیم کا قےام عمل میں لاےا گےا اور اس کے بعد زرعی زمینوں پر ہاءوسنگ اسکیموں کا طوےل سلسلہ شروع ہوا جس سے زرعی زمین سکڑتی گئی ۔ بلاشبہ ہاءو سنگ اسکیموں سے چند لوگوں کے پاس پیسہ بہت آےا اور کچھ لوگوں کو روزگار بھی مل گےا لیکن ان اسکیموں سے ہماری زرخےر اور پیداواری زمینےں برباد ہوگئیں اورجن زمینوں سے سالانہ لاکھوں ٹن غذائی اور دےگر پیداوار ملتی تھی ،جوملکی ضرورےات پورا کرنے اور زرمبادلہ کا باعث بنتی تھی،وہ باب ہمیشہ کےلئے بند ہوگےا ۔ مزعُوم ہے کہ دراصل زرخےززرعی زمینوں پر دلفرےب ہاءوسنگ اسکی میں صیہونےت کی چال اور پلان ہے تاکہ پاکستان میں زرعی زمینیں کم سے کم ہوجائےں اور پاکستان زرعی لحاظ سے دوسروں کا محتاج رہے اور خوراک کا بحران پےدا ہو، حالانکہ ےہی ہاءوسنگ اسکی میں بنجر زمینوں پر بھی بن سکتی ہیں ۔ ہاءوسنگ اسکیموں کےلئے اےسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے جوکہ زراعت کےلئے کارآمد نہ ہو ۔ پڑوسی ملک بھارت کی کارستانےاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔ وہ پاکستان کے درےاءوں پرڈےم تعمےر کرنے سمےت مختلف ہتھکنڈے اورداءوں پیچ استعمال کرتا آرہا ہے اور بعض اوقات اچانک بغےر بتائے درےاءوں میں پانی چھوڑتارہا جو سےلاب کا موجب بنتا رہا ،اس سے بھی کھےتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوتی رہی ہیں اور زرعی زمینوں کا نقصان ہوتا رہا ہے ۔ اس سے پاکستان اور ہمارے کسانوں کو ناقابل تلافی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔ بھارت اسرائےل گٹھ جوڑ کسی سے پوشےدہ نہیں ہے جو پاکستان کو دےگر شعبہ جات میں نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ زراعت کے محاذ پرگزند پہنچا رہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دشمن کے مذموم مقاصد سے باخبر رہنا چاہیے اور دشمن کی چال کو ناکام کرنے کےلئے کوشش کرنی چاہیے ۔ ۔ وطن عزےز کےلئے بہتر ےن منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔ صرف اےک پاءو گوشت کےلئے پوری بھےنس ذبح نہیں کرنی چاہیے ۔ ےہ تو چند بنےادی مسائل ہیں جن کی وجہ سے زراعت کو نقصان ہورہا ہے اور مستقبل میں بھی خطرات ہیں ۔ مستقبل قرےب میں دنےا میں غذائی بحران پیدا ہوسکتا ہے اور اس کےلئے منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے ۔ اس کےلئے ہنگامی بنےادوں پر کام کی ضرورت ہے اور بعض سخت فےصلے بھی کرنے ہونگے ۔ اس کےلئے تےن کام ناگزےر ہےں ۔ (الف) زرعی زمین کو بچانا چاہیے ۔ (ب) ناقابل کاشت زمین قابل کاشت بنانی چاہیے ۔ (ج) زرعی پےدوار میں اضافہ کرنا چاہیے ۔ (1)زرعی زمین کو بچانے کےلئے ضروری ہے کہ زرعی زمینوں پر ہاءوسنگ اسکیموں پر مکمل پابندی لگائی جائے اور اس کو سنگےن قومی جرم قرار دےا جائے ۔ اس کی بجائے شہروں میں بلند وبالا عمارات تعمےر کی جائےں اور ہاءوسنگ اسکی میں صرف اےسی زمینوں پر قائم کرنے کی اجازت دی جائے جوکسی صورت میں زراعت کےلئے استعمال کے قابل نہ ہوں ۔ (2)وطن عزےز میں لاکھوں اےکڑ زمین ناقابل کاشت پڑی ہے ،اس کو قابل کاشت بنانے کےلئے حکومت لوگوں کی رہنمائی کرکے ان کو قابل کاشت بنائےں ۔ سرکاری زمینوں کو سو سال ےا پچاس سال پٹے پر دےنے کی بجائے اےک اےک ،دو دو سال کے پٹے پر دےا جائے تاکہ ان پر مختلف فصلیں کاشت کی جاسکیں اورحکومت ان کی نگرانی بھی کرتی رہے ۔ جو کاشتکار بہتر آءوٹ پٹ دے تو ان کو مزےد اےک ےا دوسال کےلئے زمین ٹھےکے پر دےں ،جس طرح صوبہ پنجاب میں زرعی زمینیں سالانہ بنےاد پر کاشت کےلئے ٹھےکے پر لی اور دی جاتی ہیں ۔ (3)زرعی پیداوار میں اضافے کےلئے حکومت کسانوں کی عملی اور کارآمد تربےت کا اہتمام کرےں ۔ کسانوں کو نئے کاشت کے طرےقوں اورجدےد زرعی مشےنرےوں کے فوائد اور استعمالات سکھائے ۔ واضح ہوکہ کسانوں کی تربےت کو صرف کاغذوں ےا ہوٹلوں تک محدود نہ رکھا جائے ۔ کسانوں کی تربےت کھےتوں میں کی جائے ، اس کے ہر پروگرام کی باقاعدہ وےڈےوز بنائی جائےں اوران کو وےب سائےٹ پراپ لوڈ کےا جائے ۔ وےڈےوز بنانے سے تربےت کاغذوں تک محدود نہیں رہے گی اور بعد میں بھی کسان ان سے استفادہ حاصل کرسکیں گے ۔ وطن عزےز پاکستان نے سب کو عزت، سہولت اور راحت دی ہے،اس لئے ہرشہری کا بھی بنےادی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی ملک اور ملت کےلئے اخلاص اور دےانتداری سے کام کرےں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کےلئے کچھ سخت اور ٹھوس فےصلے کرےں ۔ ( 1)وہ کرپشن کی ہرسطح پر بےخ کنی کرے ۔ کوئی کتنا بھی با اثر اور طاقت ور کیوں نہ ہو،وہ قانون کے تابع ہونا چاہیے ۔ سب کو اےک موقع دےں اوراس کے بعد جو بھی کرپشن کرے چاہے سےاست دان ہو ےا چھوٹا بڑا ملازم، فےکٹری مالک ہو ےا تاجر ےاکوئی اور، اپنا ہو ےا پراےا سب کو بالاتفرےق سزا ئےں دےں ۔ (2)حکومت آءوٹ پٹ نہ دےنے والے افسران اور ملازمین کو گھر بھےج دےں ۔ (3) حکومت درےاءوں کو صاف رکھنے کےلئے انتظامات کرےں ۔ درےاءوں کو گندا کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سزائےں دےں ۔ فےکٹرےاں پانی کو ری سائےکل کرےں ۔ (4)حکومت مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو سخت سزائےں دےں ۔ منڈےوں کے چےک اےنڈ بےلنس کا واضح نظام بنائےں ۔ (5) حکومت پھولدار اور پھلداردرخت لگانے اور بہتر فصل پیدا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے ۔ ان کو تعرےفی اسناد بھی دےں ےعنی مزدور خوش دل کُند کار بےش ۔ (6)کھےتوں سے منڈےوں تک پختہ سڑکیں بنائےں ۔ (7) حکومت کسانوں کوسستا کھاد اور بےج فراہم کرےں ۔ (8) حکومت کسانوں کو سستی بجلی دےں ۔ (9)حکومت مستقبل کےلئے خوراک کی اسٹاک رکھےں کیونکہ مستقبل میں خوراک کا بحران پےدا ہوسکتا ہے ۔