- الإعلانات -

پروفیسر آپا صدیقہ انور کے احسانات اور مہربانیاں

سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں اسلئے کہ عقیدت و عزت کارشتہ چا ر دہائیوں سے کچھ اوپر تک پھیلا ہوا ہے اور اس طویل عرصے میں سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں واقعات ہیں لیکن غم کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ نہ قلم ساتھ دے رہا ہے اور نہ ہی حواس بحر حال لکھنا تو ہے لکھنا کیا ہے بس خراج تحسین پیش کر نا ہے اور احسانات ،مہربانیوں اور اُن نوازشات کا قرض اُتارنے کی کوشش کر نا ہے یہ جانتے ہوئے بھی ایک کالم کا حجم ہو تا ہی کتنا ہے کہ اس سے یہ اتر سکے بحرحال یونہی سہی کہ آپ سب کو ان یادوں ،احسانات اور مہربانیوں میں شامل کر کے اپنے غم کا بوجھ ہی ہلکا کر سکوں ۔ میری اُن سے ملاقات تقریباً چار دہائیاں پہلے باجی عزت پروین کے گھر این 761سمن آباد لاہور کے ایک گھر میں ہوئی گھر کیا تھا علم و ادب ،مذہب اور تہذیب کا گہوارہ تھا میرے لئے یہ گھر اجنبی تھا لیکن مستقبل میں مجھے بھی اس گھر کا فرد ہو نے کا اعزاز ملنے والا تھا ۔ باجی عزت پروین ماہرہ تعلیم ہو نے کے علاوہ سماجیات میں اپنا منفرد مقام رکھتی تھی اُنہیں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سیکر ٹری ہو نے کا بھی اعزاز حاصل تھا اور اُنکے میاں پروفیسر ارشاد احمد صدیقی اپنی جگہ پر ایک نامور ہمہ جہت شخصیت تھے علم و ادب سے لے کر مذہب اور اخلاقیات تک اللہ تعالی نے اُنہیں لاتعداد صلاحتیں ودیعت کر رکھی تھی میں اُن میاں بیوی سے بڑا متاثر تھا کہ اسی دوران پروفیسر آپا صدیقہ انور اور اُنکے میاں پروفیسر انور مسعود سے بھی ملاقات ہو گئی گھر کیا تھا شعبہ اردو ،پنجابی ، فارسی نظر آرہا تھا اور پھر میں اس گھر کی ایک نایاب لڑکی نجمہ شاہین سے شادی کے بندھن میں بندھ گیا نجمہ شاہین بھی اردو میں ماسٹر ڈگری رکھنے کے علاوہ پنجاب یو نیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی سیکرٹری اور صوبہ بھر میں کشتی رانی کے مقابلوں میں سب سے بڑا اعزاز کوئین آف ریور رکھنے کے علاوہ صوبائی سطح پر بیڈ منٹن کی چیمئن تقریری مقابلوں میں صوبے کا سب سے بڑا اعزاز رکھنے کے علاوہ تہذیب اور اخلاقیات میں بھی کمال کی شخصیت تھی اور میں ٹھہرا پنجابی ڈھگا جسکی اردو کا لہجہ مجموعہ اغلاط اور تحریر میں بھی سو نقص تھے جوں جوں میں اس گھر کے قریب ہو تا گیا انکشافات اور عجائبات مجھ پر کھلتے گئے ۔ میں سسر شیخ شفیق احمد صدیقی مولوی فاضل اردو فاضل اور نجانے کیا کیا ڈگریاں رکھتے تھے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ بھارت کے ضلع مظفر نگر سے آزادی کی فضا میں سانس لینے کیلئے خاندان سمیت پاکستان منتقل ہو ئے تھے اور قیام پاکستان کی تحریک میں اُنکے خاندان کا نہ صرف خون شامل تھا بلکہ مال اور املاک تک سبھی اس پاکستان کی نذر کر چکے تھے اور غلامی کی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو کے مصداق پاکستان مسلم لیگ میں قائد اعظم ;231; کی قیادت میں نہ صرف شامل تھے بلکہ جو بچا تھا وہ لُٹانے کیلئے آزادی کی تحریک میں لُٹا رہے تھے اُنکا جوش خطابت اور انکی سچی جدوجہد نے انہیں قائد اعظم ;231; کے بہت قریب کر دیا تھا اور وہ مسلم لیگ کے سیکرٹری تھے گھر بار تو پہلے ہی لُٹ چکا تھا اور جو باقی بچا تھا وہ جدوجہد آزادی کی تکمیل پر خرچ ہو رہا تھا لیکن اسکے ساتھ اپنے جو بچوں ،چھ بیٹیوں اور تین بیٹوں کو انہوں نے وراثت میں صرف مذہبی اخلاقی اور تعلیمی اثاثے دئیے کیوں نا دیتے اسلئے کہ اس گھر سے رشتہ داریاں جسٹس مولانا تقی عثمانی سے لے کر مولانا حامد میاں تک ایک سے بڑھ کر ایک عالم دین اور ایک ایک گھر میں ایک سے زیادہ حافظ قرآن تھے ۔ مجھے اپنے سسرالی گھر میں باز دفعہ یوں لگتا تھا کہ میں کسی یونیورسٹی یا کسی دینی مدرسے میں آگیا ہوں ۔ بحرحال جس ہستی کا ذکر کر نا تھا وہ آپا پروفیسر صدیقہ انور تھی پنجابی کے بمثل شاعر معروف ماہر تعلیم پروفیسر انور مسعود کی اہلیہ محترمہ جو اپنے نو بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہو نے کی وجہ سے میری خواہر نسبتی تھی لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ میرا ان سے پہلے دن سے ہی خواہر نسبتی کی بجائے ماں بیٹے جیسا رہا آپا صدیقی نے تعلیم مکمل کر نے کے فوراً بعد تدریس کا شعبہ چنا اور وہ اردو ،فارسی اور لسانیات میں اعلیٰ ڈگر یاں رکھنے کے علاوہ بہت اعلیٰ اور شفیق انسان تھی ما ل و دولت کبھی اُنکی خوا ہش نہ تھی ہمیشہ وضعداری سے اپنی ضرورت سے زیادہ اپنے رشتے داروں ،عزیزوں اور اردگرد کے لوگوں پر نچھاور کر تی اُنکا دسترخوان عام زندگی میں اتنا وسیع تھا کہ جیسے ہم کسی قدرتی نعمت خانے میں پہنچ گئے ہیں ۔ آپا نے بطور اسسٹنٹ پروفیسر ریٹائرمنٹ کے بعد اچانک ایک نام معلوم بیماری کے سبب اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں داخل ہوئیں ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اُنہیں کینسر ہو گیا ہے اور ڈاکٹر کینسر کا ہی علاج کر تے رہے لیکن بیماری کچھ اور نکلی لیکن چند ماہ کی اس بیماری نے آپا کی زندگی کو کچھ اس طرح سے بدلا کے وہ صحتیاب ہو نے کے بعد قرآن کی طرف راغب ہو گئیں آپا تب آئی نائین اسلام آباد میں رہتی تھی انہوں نے اپنے گھر پر خواتین کیلئے درس قرآن کا نیک کام شروع کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام آباد کے طول و عرض سے فوجی افسران سے لیکر سول سروسز کے بڑے بڑے افسروں کی بیگمات تک اور ڈرائیور ،باورچی ،مالی ،چھابڑی ، ریڑھی ، والوں کی بیگمات تک سبھی اس درس میں شامل ہو نے لگیں ۔ درس کے بعد آپا کھا نے کا مستقل انتظام کرتی اور کمال کی بات یہ ہے کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز کے مصداق سبھی خواتین ایک ہی جگہ پر تعلیم قرآن لیتیں اور ایک ہی جگہ پر کھانا کھا تیں ۔ آپا ہر سٹوڈنٹ سے ایک درخواست کیا کر تی تھی کہ روشنی سے اس چراغ کو بجھنے نہ دینا اور ہوا یہ کہ اُن سے تعلیم قرآن حاصل کر نے والی لاتعداد خو ش نصیب خواتین نے اپنے اپنے گروپ بنا کر اسے کچھ اس طرح سے جاری رکھا کہ یہ سلسلہ اسلام آباد سے نکل کر دوسرے شہروں میں بھی پھیل گیا آپا جب ڈی ایچ اے میں منتقل ہو ئی تو انہوں نے آن لائن تعلیم قرآن کا سلسلہ شروع کر دیا اور یہ سلسلہ انکی وفات کے آخری روز تک جاری رہا اندازہ کریں نا ں کہ پچاسی سال کہ اس بڑھاپے میں بھی نہ وہ نماز روزہ چھوڑتی اور نہ ہی تعلیم قرآن کو مجھے اچھی طرح یا د ہے کہ زندگی کے آخری دن بھی آپا نے دیگر طالبات کے علاوہ میری بیوی نجمہ کو قرآن پڑھایا ۔ نجمہ نے متعدد دفعہ آپا سے قرآن پاک مکمل کر نے کے باوجود پڑھنے کا یہ سلسلہ نہ صرف جاری رکھا ہوا ہے بلکہ آگے اور بہت سے عورتوں کو نجمہ آن لائن قرآن پاک پڑھا رہی ہیں اسطرح آپا نے تعلیم قرآن کا جو مشن شروع کیا تھا وہ اب لاتعداد خوش نصیب عورتوں کے ذریعے آگے ہی آگے پھیل رہا ہے کس نے کتنے انسانوں کو تعلیم قرآن سے منور کیا اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے آپا چند روز قبل خاموشی سے ہم سے بچھڑ کر مٹی کی چادر اوڑھے اطمنان سے سو رہی ہیں ۔ پروردگار کے حضور التجا ہے کہ وہ آپا کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور آپا تعلیم قرآن کا مشن رہتی دنیا تک جاری و ساری رہے بھائی انور مسعود عزیزم عاقب انور ،عمار مسعود ، جواد ظفری ،لینہ ،عدیلہ سب بچوں کے ساتھ تعزیت کے یہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ دراصل میرے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی آواز ہے اگر قبول ہو ۔