- الإعلانات -

مولانا طارق جمیل کا قصور

مولانا طارق جمیل پاکستان کی معروف مذہبی شخصیت ہیں اور ان کے عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ دنیا بھر میں موجود ہے ۔ سیدھے سادھے انسان ہیں ۔ سیاسی جھمبیلوں میں نہیں پڑتے مگر بڑی سیاسی لیڈر شپ اور ہر دور کے حاکم کے در دولت پہ جانے میں باک محسوس نہیں کرتے ۔ جنرل مشرف سے لے کر نواز شریف تک سب سے ملتے ملاتے رہے ہیں ۔ جنرل مشرف سے بھی ارباب رحیم کے توسط سے جب وہ وزیراعلی سندھ تھے ملاقات کی ۔ پھر میاں نواز شریف کے ہر دور حکومت میں تو ان کا رائے ونڈ ;200;نا جانا معمول تھا ۔ حتیٰ کہ جب میاں صاحب پانامہ کرپشن کیس کی وجہ سے بدنامی کا داغ لیے ہوئے تھے اس دوران بھی مولانا طارق جمیل صاحب اکثر رائے ونڈ دیکھے جاتے تھے ۔ بیگم کلثوم نواز کی وفات پر نماز جنازہ میں صرف شریک نہیں ہوئے بلکہ نماز جنازہ بھی خود پڑھائی تھی ۔ بعدازاں وہ جب بھی بیگم کلثوم کا نام لیتے ان کے نام کے ساتھ رحم اللہ علیہ پکارتے ۔ اس قربت کی وجہ سے نون لیگی حلقوں میں مولانا صاحب کافی معزز بھی تھے مقبول بھی تھے اور تب تک سکالر بھی مانے جاتے تھے، سب ٹھیک چل رہا تھا پھر نجانے کس گناہ کی پاداش میں مولانا طارق جمیل کے دن گردش میں ;200;ئے کہ انہوں نے ماضی کے حاکموں کی طرح حال کے حاکم سے بھی ملنے کی ٹھان لی ۔ یہ ان کی عمران خان سے پہلی ملاقات نہیں تھی ۔ 2015 کے ماہ رمضان میں انہوں نے ریحام خان اور ان کے ساتھ افطار بھی کیا تھا ۔ حالیہ دنوں میں ماہ اپریل کے وسط میں بھی کورونا ایشو کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے انہیں وزیراعظم ہاوس بلوایا تھا ۔ یہ ملاقات یار لوگوں کی طبع ناز پر بھاری گزری لیکن چپ سادھے رکھی بس ہلکی پھلکی سوشل میڈیا پر ڈفلی بجائی ۔ یہاں تک بات رہتی تو ان کا گناہ بخشا جا سکتا تھا، مگر مولانا صاحب تو بالکل بغاوت پر اتر ;200;ئے اور عمران خان کے گرویدہ ہو گئے ۔ یہ ناقابل معافی گناہ ان سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے قائم کردہ کورونا ریلیف فنڈ میں عطیات جمع کرنے کے لیے لائیو ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کے انعقاد کے موقع پر سر زد ہوا ۔ لائیو ٹیلی تھون کے اختتام پر ان سے خصوصی دعا کرائی گئی ۔ احساس ٹیلی تھون کے دوران دعا میں انہوں نے کہا کہ جتنا جھوٹ میڈیا پر بولا جاتا ہے کہیں اور نہیں بولا جاتا اور اس کی وجہ سے بڑے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ٹی وی چینل کے مالک نے انھیں کہا کہ اگر میڈیا پر جھوٹ نہ بولا جائے تو میڈیا نہیں چل سکتا ۔ انہوں نے اسی دوران عمران خان کی بھی تعریف کر ڈالی ۔ بس پھر دعا کے یہ الفاظ یار لوگوں کے لئے دغا بن گئے اور مولانا صاحب معتوب ٹھہرے ۔ سوال یہ ہے کہ مولانا کا اصل قصور میڈیا پر جھوٹ بولنے اور پھیلانے کا الزام ہے یا پھر وزیراعظم کی تعریف اور بڑھتی ہوئی قربتیں ہے ۔

اگر اس وقت سوشل میڈیا یا نجی ٹی وی چینلز پر مولانا کے خلاف لعن طعن کے سونامی کا جائزہ لیا جائے تو خیر سے بھاری اکثریت نون لیگ کے سپورٹرز اور نجی میڈیا نیٹ ورکس میں پھیلے ان کے حمایتیوں کی ہے ۔ دراصل انہیں میڈیا پر الزام تراشی سے زیادہ عمران خان کے حق میں کی گئی تعریف ہضم نہیں ہوئی ۔ یہی ان کا سب سے بڑا گناہ ہے جس کی سزا میڈیا پر الزام کی ;200;ڑ میں انہی دی جا رہی ہے ۔ مولانا صاحب نے جو کچھ کہا اس کے غلط یا درست ہونے پر کسی حد تک تو سوال تمیز کے دائرے میں رہ کر اٹھایا جا سکتا ہے کہ سب چینلز پر شاید ایسا نہیں ہوتا ہے لیکن یہ سوال ان میروں ، چیموں ، چڑیوں ، طلعتوں ، مالکوں ، جاویدوں ، لبرلوں اور اس قبیل کے دیگر کئی قلم فروشوں سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ ان کے پیٹ کا اصل درد اور مروڑ عمران خان کی تعریف اور قربت ہے یا میڈیا پر تنقید ۔ ;200;زادی اظہار کے ان نام نہاد دعویداروں سے چند جملے برداشت نہ ہوئے اور اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر مولانا طارق جمیل سے معافی منگوا کر دم لیا ۔ میں مولانا طارق جمیل کے عقیدت مندوں میں سے قطعا نہیں ہوں ۔ مجھے تو اس دو رنگی سے چڑھ ہوئی ہے کہ کل تک جب وہ دربارِ شریفاں کے زائر تھے تو مولانا صاحب معزز بھی تھے ، معتبر بھی ، نامور سکالر بھی اور ان کی امیدوں کا مرکز بھی تھے ۔ منافقانہ طرز عمل کی دلچسپ انتہا دیکھیں کہ نواز شریف اور جنرل مشرف سے مولانا کی ملاقاتوں پر ان میں سے کسی کا بھی کوئی اعتراض کبھی سامنے نہیں ;200;تا تھا لیکن ;200;ج عمران خان سے ملنے پر مولانا ابن الوقت ٹھہرے ہیں ۔ ذرا دیکھیں اس گستاخی پر ان کے قلم جس طرح مایوسی کے ;200;نسو بہا رہے ہیں ۔ ایک ریلو کٹا قلمکار برٹش فنڈڈ ویب ساءٹ پر خبث باطن کا اظہار کرتے لکھتا ہے کہ ناچیز ذاتی طور پر مولانا طارق جمیل سے بہت زیادہ متاثر تھا (یہ جملہ ہر سوشل میڈیائی دانشور کی پوسٹوں میں بھی نظر ;200;تا ہے)لیکن اب سے اعتبار اٹھ گیا کیونکہ مجھے ان سے ایسی امید نہ تھی کہ وہ اس حد تک جا سکتے ہیں کہ بادشاہ کے دربار میں کلمہ حق کہنے کی بجائے ان کی تعریف کے پہاڑ کھڑے کر دیں اور پوری قوم اور مظلوم عوام کے لیے ہر دور کے ظالم حکمرانوں کے خلاف علی الاعلان حق کہنے والے ابلاغ عامہ کو جھوٹا اور قوم کو بےحیا کہیں ۔ مجھے یاد نہیں کہ مولانا صاحب نے ماسوائے حاکم وقت کی شان بیان کرنے کے ;200;ج تک کسی مظلوم کے حق اور ظالم طاقتور کے خلاف کچھ کہا ہو;238; ۔ ایک اور صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل جیسے مولانا کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ ظلم کے خلاف ;200;واز اٹھا، غاصب کو للکارو، معاشرتی اور معاشی ناہمواریوں پر بات کرو، ٹیکس ادا کرو یہ بس ہمارے اعمال کی سزا ہے ۔ جیسا مبہم فقرہ دہراتے رہیں گے ۔ دنیا کا سب سے مشکل کام معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف جہاد کرنا ہے ۔

ان موصوف سے کوئی پوچھے کہ کل جب ایک مذہبی شخصیت نے وقت کے حکمرانوں کو دھرنے کی شکل میں للکارہ تھا تو تب تمہارے قلم ان کے خلاف کیا زہر اگلتے رہے تھے ۔ یہی دو رنگی اصل زہر قاتل ہے جو معاشرے میں سرایت کی جا رہی ہے ۔ تمہیں عمران خان کی شکل پسند نہیں تو نہ ہو لیکن اس ;200;ڑ میں ایک غیر جانبدار اور اسلامی تہذیب و تمدن کا پرچار کرنے والی شخصیت کی کردار کشی تو نہ کریں ۔ خدا را ;200;نے والی نسل کے دل و دماغ میں اتنا زہر تو نہ بھریں کہ وہ دین اسلام کے نام لیوا بھی نہ رہیں ۔ یہ رویہ، یہ سوچ ، یہ بہروپ سب قابل مذمت ہیں ۔ یہ فسادی لبرلوں کا اکٹھ اور زہریلا حملہ محض مولانا طارق جمیل کی ذات پر نہیں بلکہ مثبت سوچ پر ہے، جس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ ;200;خر میں سراج اورنگ ;200;بادی کے ایک شعر کی شکل میں گزارش ہے کہ ۔ ۔

دو رنگی خوب نہیں یک رنگ ہو جا

سراپا موم ہو یا سنگ ہو