- الإعلانات -

یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کانہیں

گزشتہ روزوزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ثابت کیا کہ وہ اشرافیہ کے نمائندے ہیں مزدوروں اور محنت کشوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ،انہوں سندھ حکومت کی نا اہلی وفاق پر تھونپنے کی بھونڈی کوشش کی، کورونا قومی مسئلہ ہے اس پر سیاست کرنے والوں کو قوم معاف نہیں کریگی، دن میں سونے والے حقیقت سے نابلد ہیں ،بلاول صاحب کی لاعلمی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے بلاول صاحب سیاست نہیں کام کریں ، یہ قوم کی خدمت کا وقت ہے، بدقسمتی سے بلاول بھٹو کورونا کے معاملہ پر سیاست کھیل رہے ہیں ،لاک ڈاءون کے معاملہ پر وفاق کا پہلے دن جو موقف تھا آج بھی وہی ہے ،سندھ حکومت لاک ڈاءون کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار رہی کراچی میں لاک ڈاءون پر حکومت کیخلاف لوگ نکل آئے،صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے وفاق جس حد تک مدد کرسکتا تھا کی ہے،بلاول بھٹو بہت عرصے بعد خاموشی تو ڑکر نکلے ہیں دوسرے ملکوں کی نسبت ہمارے ملک میں کورونا کی صورتحال بہتر ہے ، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کو ایس او پیز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے ۔ دوسری جانب ایک پریس کانفرنس میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بھٹوزرداری نے عالمی اداروں سے ملنے والی کورونا امداد سے سندھ حکومت کی مالی مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے اورکہاہے کہ کوئی وزیر اعظم کو سمجھائے کہ وہ اب کنٹینر پر نہیں ہیں ۔ وزیراعظم کام نہیں کرنا چاہتے تو استعفیٰ دیکرگھرجائیں کسی اور کو کام کرنے کا موقع دیں اگر پی ٹی آئی کیخلاف کوئی سازش کر رہا ہے تو وہ خود کر رہے ہیں ہمارے پاس وسائل نہیں ڈر ہے کہ کراچی کے حالات اٹلی اور نیو یارک جیسے نہ ہو جائیں ہماری مدد کریں ۔ اگر ہم کامیاب ہونگے تو آپ کامیاب ہونگے ،وزیر اعظم سے پوچھتا ہوں کہ کون سی ایلیٹ کلاس ہے جس نے یہ لاک ڈاءون کرایا، وفاقی حکومت صوبوں کی کوئی مدد نہیں کر رہی ۔ کوئی اٹھارہویں ترمیم یا این ایف سی کوچھیڑے گا اس کوصوبوں کوپہلے سے زیادہ دینا پڑے گا ۔ اس وقت دنیابھر میں عالمی طاقتیں کوروناجیسی وباء سے لڑرہی ہیں اورکوروناتھمنے کانام نہیں لے رہا،عالمی ماہرین صحت بھی سرتوڑکوششیں کررہے ہیں ، تویہ وقت آپس میں لڑنے جھگڑنے یاسیاسی بیان بازی کانہیں ہے کیونکہ کوروناجس تیزی سے پھیل رہاہے اس سے بچنے کےلئے ہ میں ایک دوسرے کاساتھ دینا ہوگا ۔ افسوس ناک امر ہے کہ ;200;ج ;200;زمائش کی اس گھڑی میں وفاق اور سندھ حکومت باہمی تعاون کے بجائے ایک دوسرے سے سبقت لینے میں مصروف ہیں ۔ اس وقت ملک کسی بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کامتحمل نہیں ہوسکتاجس سے سیاسی نظام کو خطرہ لاحق ہو ۔ جہاں جس کو تحفظات ہیں وہ مل بیٹھ کرحل کریں اورآپس کے مسائل کواناکامسئلہ نہ بنایاجائے کیونکہ یہ وقت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کانہیں بلکہ اتحاداوریکجہتی کاہے ۔ اگر وفاق اور سندھ حکومت آپس میں تعاون کریں تو مشکل وقت کامقابلہ کیاجاسکتاہے ۔ اگراٹھارہویں ترمیم کامسئلہ ہے تو وہ بھی حل کیاجاسکتا ہے مگراس مسئلے کےلئے موجودہ وقت کاتعین کرنادرست نہیں ہوگا کیونکہ یہ وقت صرف اورصرف اپنے آپ کومحفوظ کرنے کاہے ۔ موجودہ حالات میں سیاستدانوں کی پوائنٹ سکورنگ غریبوں پرنمک پاشی کے مترادف ہے ۔ اس موقع پر ذاتی اور سیاسی اختلافات کو فراموش کر دیا جائے تو ہم قومی یکجہتی کی مثال بن کر کورونا وائرس کی ;200;زمائش سے نکل سکتے ہیں ۔ ہ میں وقتی طور پر سیاسی ترجیحات سے باہر نکل کر مشترکہ حکمت عملی کے تحت اور ایک دوسرے کا تعاون حاصل کرکے کورونا وائرس کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے خود بھی اس صورتحال میں سب کے یکجا ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے اس لئے ہماری اولین ترجیح کورونا وائرس کا پھیلاءو روکنے کی ہی ہونی چاہیے ۔ سیاست دانوں کو بھی سیاسی سوچ سے بالاتر ہو کر متحد ہونا چاہیے ۔ افسوس ہے کہ ان نازک حالات میں بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش ہو رہی ہے ۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ کورونا سے نجات کیلئے سب کو متحد ہونا ہوگا ۔ لہٰذا قومی سیاست میں ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ کی سیاست ترک کرنے ہوگی اور مل بیٹھ کر عوامی مسائل کا ادراک کرنا ہوگا ۔

ایک ہی دن میں 47اموات کاہونالمحہ فکریہ!

ملک بھر میں کوروناوائرس سے ایک ہی دن 47اموات کاہونالمحہ فکریہ ہے جسکے بعد مجموعی ہلاکتیں 408ہوگئیں ۔ ملک بھر میں ریکارڈ 1226 نئے مریضوں کے بعد تعداد 17699 ہوگئی، ایک ہفتے میں ہیلتھ ورکرزکے انفیکشن میں 75فیصداضافہ ہوگیا، اب تک 216 ڈاکٹر، 67 نرسز اور 161اسٹاف وائرس کاشکارہوئے ۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق ملک بھر میں ابتک 182131 افراد کے ٹیسٹ مکمل ہوگئے جبکہ 4315 افراد مہلک وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ۔ ابتک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 161 افراد انتقال کر چکے ہیں جبکہ سندھ میں 118 اور پنجاب میں 106 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایاجائے لوگوں کو چاہیے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں کیونکہ جیسے ہی لوگ گھروں سے نکلتے ہیں تومریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے ۔ اس مر ض کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ،عالمی ماہرین کوشش کررہے ہیں کہ جلد اس بیماری کاعلاج دریافت کیاجائے ۔ اب تک اس کا بیماری سے بچنے کابہترین علاج یہی ہے کہ اپنے آپ کوگھر میں محفوظ کرلیں اگر آج آپ یہ مشکل وقت نکال لوگے توآنے والاکل تمہارے لئے فائدے کاہوگا ۔ خدانخواستہ تھوڑی سی غفلت سے آپ اس بیماری میں مبتلاہوگئے توپھریہ جان لیواثابت ہوسکتی ہے ۔ لہٰذا ملک بھر میں حکومت کی طر ف سے کئے گئے اقدامات پرعمل کرکے احتیاطی تدابیراختیارکی جائیں کیونکہ اس بیماری سے بچنے کایہی واحد طریقہ ہے ۔

مہنگائی میں کمی خوش آئندخبر

قومی ادارہ شماریات کے مطابق مارچ کی نسبت اپریل کے مہینے میں مہنگائی کم ہوئی لیکن رمضان میں پھر بے قابو ہوگئی، دالیں ، پھل، گوشت ، ادویات، چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ سبزیاں ، دودھ، ٹماٹر، گندم، پٹرول، بجلی کی قیمتوں میں کمی آئی ۔ مارچ میں مہنگائی11;46;2 تھی اپریل میں کم ہو کر 8;46;5فیصد ہوگئی ۔ دوسری جانب تاجررہنماءوں کا کہنا ہے کہ حکومت موجودہ صورتحال میں شرح سود میں کمی لائے تاکہ تاجر و صنعت کار لاک ڈاءون سے متاثرہ کاروبار میں بہتر ی میں لاسکیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ کرونا وائرس کی وباء نے دنیا بھر کی معیشتوں کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے جس کے باعث ترقی یافتہ ممالک کے عوام کیلئے بھی بے روزگاری سمیت بے شمار اقتصادی مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ پاکستان ایک کوکوروناوائرس کے پھیلاءو کوروکنے کےلئے جزوی لاک ڈاءون کے اٹھائے گئے اقدامات سے بہت سے مسائل کاسامناکرناپڑا ، جہاں ایک طرف بے روزگاری کا طوفان کھڑا ہوا تودوسری طرف غریب عوام کےلئے نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ۔ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مشکل حالات کا ادراک کرتے ہوئے متعددریلیف پیکجز کا اعلان کیا جس پر فوری طور پر عملدرآمدشروع ہوا اور ریلیف لوگو ں تک پہنچنے لگا ۔ اھررمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزبھی متحرک ہیں ۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری بلاشبہ ایک لعنت ہے اور ان کے مرتکب افراد معاشرے کےلئے ناسور ہیں ایسے لوگوں کو نشان عبرت بنا دینا ہی ان کے کرتوتوں کا تقاضا ہے کیونکہ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور جہاں حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کو سبوتاژ کرتے ہیں وہیں انسانوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کا سبب بھی بنتے ہیں ۔ ان لوگوں کے بدترین کردار کے باعث حکومتی پالیسیوں کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پاتے اس لیے معاشرے میں ایسے گھناءونے کرداروں کی نشاندہی اوران کوسخت سزائیں دینا ضروری ہے ۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ریکارڈ کمی ہوچکی ہے ۔ عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کومدنظررکھ کر ہمارے ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخ کم کئے جائیں تو ملک کے فاقہ کش عوام خوشحالی کے نئے دور میں داخل ہو سکتے ہیں مگر پھر بھی حکومت غریبوں کا احساس کرتے ہوئے ریلیف پیکیجز بھی دے رہی ہے جوخوش آئند ہے ۔ ہماری معیشت استحکام کی جانب گامزن ہوگی تو عوام کے مسائل بھی بتدریج کم ہونگے اورمہنگائی میں بھی کمی آئیگی ۔