- الإعلانات -

کتنے محاذوں پر جنگ لڑیں گے

وزارتِ اطلاعات میں ایک بار پھر تبدیلیاں کی گئیں ۔ محترمہ فردوس عاشق کو تبدیل کر دیا گیا ۔ ان کے کندھوں پر بہت زیادہ بوجھ تھا ۔ کورونا، کشمیر، مودی، اپوزیشن اور پھر نیب اور میڈیا کی جنگ ۔ ان سب چیزوں کو اس اکیلی نے سامنا کرنا ہوتا تھا ۔ بدقسمتی سے انہیں جو دو پی آئی او ملے خوشنود صاحب اور طاہر حسن صاحب ضرورت سے کئی درجے تک شریف تھے ۔ وہ کسی ایک محاذ پر بھی جنگ کی مد میں وزیراطلاعات کےلئے مددگار ثابت نہ ہو سکے ۔ ہر روز تازہ ہو کر اپوزیشن کے کم و بیش دس رہنماؤں کے الزامات کے جواب دینا ۔ کورونا کے حالات سے ہر وقت باخبر رہ کر عوام کو آگاہ اور بچنے کی تلقین کرتے ۔ مودی کے بیانات اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بچوں اور ماؤں کی چیخیں ہر وقت سنائی دیتی ہیں ۔ ادھر حکومت کے اندر الگ گرپوں کا سامنا ۔ بحرحال اب تبدیل کر ہی دیا ہے تو پھر ذکر کیا کرنا ۔ اب نئی پرنسپل انفارمیشن آفیسر محترمہ شاہیرہ شاہد نے چارج سنبھال لیا ہے ۔ میڈم اپنے کام میں بہت ہی ماہر اور با اصول خاتون ہیں ۔ میرا ان سے 2012ء سے واسطہ ہے ۔ لوک ورثہ کی ملازمت چھوڑنے کے بعد کسی نہ کسی طریقے سے ان سے واسطہ رہا ۔ میں نے انہیں نظم و ضبط میں انتہائی با اصو ل پایا ۔ جب انہوں نے لوک ورثہ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا چارج سنبھالا تو اس ادارے کے حالات سخت خراب تھے ۔ نالائقوں ، نا اہلوں ، چاپلوسوں اور چغل خوروں نے ادارے کا ستیا ناس کر رکھا تھا ۔ لیکن محترمہ نے چارج سنبھالتے ہی ایسے کرداروں کا اپنے دفتر میں آنا بند کر دیا ۔ واضع احکامات جاری کر دئیے کہ میرے آفس کام کے بغیر ایک منٹ بھی بیٹھنا منع ہے ۔ کام کی بات سنتیں ، کام کرنے والا ہوتا تو فوراً حکم جاری کر دیا جاتا نہ ہونے والا ہوتا تو بغیر کوئی دقیقہ ضائع کئے اسی وقت جواب دے دیا جاتا ۔ چغل خوروں کو بات کرنے کی جراَت نہیں ہوتی تھی ۔ ان کے دور میں دو سالانہ دستکاروں کے میلے لگے ۔ کسی کو بھی ایک آنے کی کرپشن کرنے کی جراَت نہ تھی ۔ بظاہر نرم لہجے میں گفتگو کرنے والی خاتون اصولوں پر ڈٹ جانے والی تھی اور ایسا بھی نہیں تھا کہ ادارے میں کسی قسم کی افراتفری ہو ۔ ہر شخص کو اندازہ ہوگیا تھا کہ غلط کام کی اجازت نہیں اور ٹھیک کام میں رکاوٹ نہیں ۔ ہر بگڑے ہوئے انسان اور کام کو سیدھے راستے پر ڈال دیا ۔ میں اگر یہ کہوں کہ محترمہ شاہیرہ شاہد نام ہی اصول کا ہے ، ہر کام میں دل لگا کر محنت کرنا اور محنتی لوگوں سے کام لینے میں انتہائی ماہر ہیں ۔ امید ہے کہ وہ اپنی اس پوسٹ سے انصاف کرینگی ۔ یہ حقیقت ہے کہ اب میڈیا کے بہت ہی زیادہ ادارے بن گئے ہیں اور پھر ان میں ہر قسم کے لوگ آگئے ہیں اس لئے یہ ادارہ پھولوں کی نہیں کانٹوں کی سیج بن چکے ہیں اور ان پر ننگے پاؤں چلنا ہوتا ہے ۔ اپنی زندگی تو ایسے گزری ۔ جب شفقت کی ضرورت تھی گود چھن گئی ۔ سہارا تلاش کیا بیساکھیاں ٹوٹ گئیں ۔ اس ذاتِ کریم نے پاؤں میں سکت، ہاتھوں میں طاقت اور خون میں حرارت دے دی ۔ معاشرتی رشتوں کا سہارا ڈھونڈا تو منافقت اور خود غرضی سے واسطہ پڑا ۔ تو اس وقت ذاتِ اقدس نے جراَت نمو دے دی ۔ خودداری کا ذوق دے دیا ۔ جدوجہد کی ٹھانی تو عزتِ نفس پر حملے ہوئے ۔ ٹانگیں کھچی تو خود اعتمادی نے اپنا رنگ دکھایا ۔ خون کی گرمی نے کروٹ لی تو تکبر کا منظر دیکھا ۔ فوراً احساس ندامت کے جذبے نے اپنی نفی کاجذبہ ابھارا ۔ جھوٹ، مکاری اور منافقت کے اس دور میں شرافت ، دیانت اور خلوص کے مذاق اڑاتے دیکھا ۔ انتقامی جذبے ابھرے ۔ اس انداز کو اپنانے کی ٹھانی تو شان کبریا کی جھلک نے شرارت اور شیطانی ارادے کافور کر دئیے ۔ انسانیت کے دشمن خودغرض و چالاک کھوٹے سکوں کی جھنکار دیکھی تو رزق حرام، بددیانتی اور مکاری کی بو آئی جس سے جذبہ نفرت ابھرا ۔ سب کچھ کیوں ہوا ۔ اس خاک کے پتلے میں یہ اندھیرے ، یہ روشنیاں کہاں سے پھوٹیں ۔ کون ہے جو انسان کو اس گندگی اور دلدل سے نکالتا ہے کس کے قبضہَ قدرت میں عفو و درگزر کا میزان ہے ۔ وہ کس طرح انسان کے اندر انسان کو چوکس رکھتا ہے ۔ وہ کس طرح مشکلات اور آسانیوں میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے ۔ وہ کس طرح جذبات کی مضبوطی ، احساسات کی درستگی اور پختگی انسانی سوچ میں ابھارتا ہے ۔ وہ کس طرح نیتوں کی درستگی میں اپنی رہنمائی فرماتا ہے ۔ صبر کی توفیق دیتا ہے ۔ عمل کی سوچ دیتا ہے ۔ یہ اس ذات قدوس کی خصوصی عنایت ہے کہ انسان اپنے ضمیر کی آواز سے واقف ہو اپنا احتساب خود کرے ۔ انسانی حقیقت کا احساس ہر وقت اس کی زندگی کا ساتھ دے ۔ شیطانی عمل کو پہنچاننے کی کوشش کرے ۔ اپنے اندر جھانکے ۔ گردونواح میں تاریکیوں اور ظلمتوں کے تلخ جھونکوں کو محسوس کرے ۔ استقامت کی راہ میں جدوجہد کو شعار بنائے ۔ مقابلے کے مثبت رویے اپنائے ۔ کانٹوں میں الجھ کر زندگی کی خو پیدا کرے ۔ انسانوں میں اتفاق اور اتحاد کی روشنیاں جلائے ۔ نفرتوں کے جھنکوں سے کنارہ کشی اختیار کرے ۔ دست قدرت کو تھامے، اپنے آپ پر بھروسہ کرے ۔ کسی کے مٹانے سے انسان کبھی نہیں مٹتا ۔ میں تحریر کے وقت اپنی آواز کی بے بسی سے غافل نہیں ، مجھے اس دہر میں انسانیت کی بے حسی کا بھی احساس ہے ۔ مجھے معاشرتی ستم ظریفیوں کا بھی ادارک ہے ۔ مجھے سوچو فکر سے خالی مصنوعی اور نمائشی جادوگری کے پیچ و تاب بھی نظر آ رہے ہیں ۔ مجھے مصنوعی ماحول میں آسروں کے دھوئیں بھی منڈلاتے نظر آ رہے ہیں ۔ مجھے اپنی سوچ اور فکر کے دائروں کی ہلچل کا انجام طوطی کی آواز نقار خانے میں گم ہوتی نظر آرہی ہے ۔ لیکن جو دھڑکن اس مادروطن کے زخم خوردہ لاشے پر آ ہ و فغاں میں سرگرداں آنسووَں کا نذرانہ پیش کرنے کی فکر میں بے چین ہے ۔ بے حسی کے عالم میں درد اور تڑپ میں پگھل رہی ہے ۔ اسے رواءتی سوچ کے حوالے کرنا اور ڈوبنے کے خدشے سے آنکھیں بند کرنا زندگی دینے والے کی مہربانی سے روگردانی ہے ۔ ارباب اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے پیچیدہ راستے اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ۔ میں خودداری کے آداب سے بھی ناواقف نہیں ۔ حاضریوں کے شوق سے اپنی فطرت نا آشنا، اخلاص کی بھٹی میں سلگتی ہوئی سوچ سب اسی راستے کی رکاوٹیں ہیں ۔ مگرروشنیوں کے وہ جذبات جو اس وطن کے دکھ درد میں اپنے ساتھ ہیں ، کبھی کبھی خود بخود پھوٹنے پر مجبور کرتے ہیں اور کچھ کہنے اور لکھنے پر مجبور کرتے ہیں ۔