- الإعلانات -

احساس کیش پروگرام ۔ روزگار سے محروم ہونےوالوں کےلئے خوشخبری

حکومت نے کورونا وائرس کے باعث عام آدمی کے معاشی حالات پر پڑنے والے منفی اثرات کے ازالہ کے لئے کئی امدادی پیکج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے،اسی سلسلے میں ملازمت سے محروم ہونے والے افراد کےلئے بھی خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے،اس سلسلے میں اسلام ;200;باد میں کورونا ریلیف فنڈ کے ویب پورٹل کے اجرا کی تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان نے احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے ویب پورٹل کے ;200;غاز کا اعلان کیا،جہاں ملازمت سے محروم ہونے والے افراد خود کو رجسٹر کرواسکتے ہیں ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس بحران میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کمزور طبقات کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے جسکے لئے اربوں روپے کے خصوصی ریلیف پیکج کے اعلانات ہو رہے ہیں ۔ احساس کیش پروگرام کے تحت اب تک 3 ہفتوں میں 68 لاکھ خاندانوں میں 81 ارب روپے سے زائد تقسیم ہوچکے ہیں ۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کی وباء سے بچاوَ کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاوَن کے باعث پاکستان کے ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کی نوکریاں یا روزگار ختم ہونے کا خدشہ ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے نجی اداروں اور فیکٹریوں کو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ لاک ڈاوَن کے دوران اپنے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ نہ کریں لیکن اسکے باوجود ملازمین کی برطرفی جاری ہے ۔ حالانکہ وفاقی حکومت نے ایسے اداروں کےلئے مراعات کا اعلان بھی کر رکھا ہے جو لاک ڈاوَن کے دوران ملازمین کو برطرف نہیں کریں گے ۔ حکومت نے لاک ڈاوَن کے باعث روزگار سے متاثر ہونے والے دیہاڑی دار افراد کو12ہزار روپے تک کی رقم فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے جبکہ اب روز گار سے محروم ہونے والے افراد کےلئے بھی ایسا ہی پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جسکے لئے خصوصی پورٹل بھی لانچ کر دی گئی ہے ۔ اس پورٹل پر بے روزگار ہونے والے لوگ خود کو رجسٹر کرائیں گے ۔ پاکستان میں گزشتہ ایک ماہ سے لاک ڈاوَن نافذ ہے اور یہ سلسلہ9مئی تک جاری رہے گا ۔ جس سے نوکری سے محروم ہونے والے افراد کی تعداد بڑھے گی ۔ حکومت کا ایسے افراد کے خصوصی پیکج لانا ایک بڑا قدم ہے جس سے کسی حد تک انہیں ریلیف مل سکے گا ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے، صوبائی حکومتیں ناجائز منافع خوروں کیخلاف کارروائی کرکے مہنگائی میں کمی کویقینی بنانے پر زور دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں کورونا کب تک چلے گا ، 6ماہ سے ایک سال تک یہی صورتحال رہی گی، ہم لاک ڈاوَن کو نرم کر رہے ہیں ۔ نیویارک سب سے زیادہ متاثر ہوا وہاں بھی صنعتیں کھولی جارہی ہیں ، جتنی زیادہ صنعتیں کھلیں گی اتنا روزگار ملے گا ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون سے بیروزگار افراد کی مشکلات سے آگاہ ہیں ۔ انہوں نے وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ میں عطیات دینے والے افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں خود کورونا ریلیف فنڈ کی نگرانی کررہا ہوں اور اس کے تحت پیسے شفاف طریقے سے تقسیم کیے جائیں گے، اس کا آڈٹ ہوگا اور عوام کے سامنے رقم کی تفصیل بھی سامنے لائی جائے گی ۔ عمران خان نے کہا کہ اس فنڈ میں دیئے جانے والے عطیات میں 4 گنا عطیات حکومت خود شامل کرے گی تاکہ ان فنڈز کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچایا جاسکے ۔ بہتر حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعے قومی وسائل کے زیادہ نتیجہ خیز استعمال کا اہتمام کرکے لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی ہر ممکن کوشش ضروری ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں تمام صنعتی اور زرعی اشیا کی پیداواری لاگت میں لامحالہ کمی آنی چاہئے اور اسکا فائدہ بھی عوام کو منتقل ہونا ضروری ہے ۔ ہمارے ہاں عمومی رویہ یہ ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں دو روپے بڑھیں تو اگلے دن پوری مارکیٹ پر منفی اثر ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے مگر اب ایک ماہ کے اندر تیس سے پینتیس روپے کی کمی واقع ہو چکی لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ اس کا فائدہ ابھی پوری طرح عوام کو نہیں مل رہا ہے ۔ وہ اشیائے ضروریہ یہ کہہ کر مہنگی کر دی جاتی تھیں کہ تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں آج ان اشیا کی قیمتیں ایک روپے بھی کم نہیں ہو رہی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی نسبت سے نقل و حمل کے اخراجات گھٹائے جائیں اور اس کا پورافائدہ عام آدمی اور قومی معیشت کو منتقل کیا جانا چاہیے ۔

بھارتی من گھڑت دعوے مسترد

بھارت سے جب اور کچھ نہیں بن پاتا تو وہ اپنی عوام کی ;200;نکھوں میں دھول جھونکنے کےلئے من گھڑت دعوے کرنے لگتا ہے ۔ اگلے روز بھی بھارت نے ;200;زاد کشمیر میں خود تراشید لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنانے اور دراندازی کا دعویٰ کر ڈالا جسے پاکستان نے بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کوئی بھی بین الاقوامی مبصر اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لئے علاقے کا وزٹ کرنا چاہے تو پاکستان اسے ویلکم کہے گا ۔ ہفتہ کے روز ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ باربار کے بھارتی الزامات کا اسکے سوا اور کوئی مقصد نہیں کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹائی جائے ۔ بھارت ان الزامات کو اپنے کسی فالس فلیگ آپریشن کے بہانے کے طورپر استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان نے اس پس منظر میں باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کو مبینہ طور پرلانچ پیڈکے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بھارت سے رجوع کرنے اور بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے ساتھ مشترکہ طور پر شیئر کرنے کی پیش کش کی ہے ،پاکستان بھارتی دعووں کو بے نقاب کرنے کیلئے یو این مبصرین کے کسی بھی علاقے میں جانے کا خیر مقدم کرے گا ۔ بھارت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی،جارحانہ اقدامات اور ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند کرے اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین(یو این ایم او جی آئی پی) کو اپنا موثر کردار ادا کرنے کی اجازت دے ،جو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے بھارت اس جانب نہیں ;200;ئے گا ۔ اسے تو صرف پروپیگنڈا کرنے کا ہی گر ;200;تا ہے ۔ بالاکوٹ حملے کے وقت بھی اس نے بہت شور مچایا لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہیں ;200;یا ۔ اب بھی وہ کسی شرانگیزی کےلئے دراندازی کا الزام لگا رہا ہے ۔ ماضی کی طرح اس بار بھی سبکی اس کا مقدر ٹھہرے گی ۔

پاکستان میں اقلیتوں کےلئے ڈھیروں مواقع موجود ہیں

پاکستان میں اقلیتوں کےساتھ امتیازی رویہ کا بہت پروپیگنڈا کیا جاتا ہے خصوصا ًبھارتی لابی رائی کا پہاڑ بنانے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی،لیکن دوسری طرف حقیقت برعکس ہے اور پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق کےساتھ ;200;گے بڑھنے کے ڈھیروں مواقع دستیاب ہیں ۔ اس حقیقت کا اس امر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہندو نوجوان پاکستان ایئرفورس میں جی ڈی پائلٹ بھرتی ہوا ہے ۔ ذراءع کے مطابق صوبہ سندھ کے سب سے بڑے ضلع تھر پارکر سے تعلق رکھنے والے راہول دیو کو بطور پائلٹ آفیسر منتخب کرلیا گیا ہے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کو دستیاب مواقع کے حوالے سے آل پاکستان ہندو پنچائیت کے سیکرٹری روی دوانی کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوجوان سول اور آرمی آفیسرز کی صورت موجود ہیں جبکہ ملک میں بہت سے ہندو ڈاکٹر بھی اپنی صلاحیتیں منوا رہے ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے چند برس میں راہول دیو جیسے نوجوان قوم کی خدمت کےلئے پیش ہوتے رہیں گے ۔ پاک فوج، پولیس اور رینجرز سمیت مختلف قومی اداروں میں ہندو اور سکھ افسران ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جبکہ پاکستان کے عدالتی سسٹم میں بھی کئی ججز خدمات دیتے رہے ہیں ۔