- الإعلانات -

18 ویں آئینی ترمیم ، پیپلز پارٹی کےلئے گیدڑ سنگھی کیوں

ملک کے سیاسی محاذ پر ایک بار پھر تلخی محسوس کی جا رہی ہے ۔ ایک طرف کورونا کے بحران نے ملک کو گرفت میں لے رکھا ہے تو دوسری طرف 18ویں ;200;ئینی پر گرما گرمی ہے ۔ سندھ حکومت اور وفاق کے بیچ لاک ڈاون پر بھی لے دے چل رہی ہے،اس ایشو پر اتفاق رائے کا نہ ہونا افسوسناک ہے ۔ یہ انسانی جانوں اور کمزور طبقات کی زندگیوں کا معاملہ ہے ۔ بلاشبہ اس وقت ملک میں وبا ء موجود ہے اور نئے کیس کی تعداد بھی کم نہیں ہو رہی،جو تشویش کا باعث ہے ۔ دوسری طرف طول پکڑتے لاک ڈاوَن سے پسے ہوئے طبقے کے علاوہ متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ کاروبارکا پہیہ یوں ہی بند رہا تواس کے منفی اثرات ملکی معیشت پر بھی دیر تک محسوس کئے جاتے رہیں گے ۔ ہماری ملکی معیشت اس قابل نہیں کہ وہ طویل عرصہ تک جام رہنے کا بوجھ سہار سکے ۔ دنیا بھر میں اس وقت سب سے اہم ایشو یہی ہے کہ کس طرح لاک ڈاوَن سے نکلا جائے ۔ امریکہ فرانس اٹلی سب لاک ڈاوَن سے نکلنے کے لئے پر تول رہے ہیں ، بلکہ کئی ممالک نے تو نرمی کرنا شروع بھی کر دی ہے ۔ مسلم ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے ۔ لہٰذا سندھ اور وفاق اس معاملے کو سیاسی ایشو بنانے سے اجتناب کی راہ اختیار کریں ۔ سندھ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ اس کے بعض علاقے ابھی نہیں کھولے جاسکتے تو نہ کھولے مگر دیگر علاقوں کے لئے نرمی پیدا کرے جہاں کاروبار چل سکتا ہے ۔

جہاں تک18 ویں ;200;ئینی ترمیم کا تعلق ہے تو اس پر تناوَ بھی بلاجواز ہے ۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ کیوں بنا لیا ہے ۔ جب کبھی بھی سیاسی حلقوں میں اس میں ترمیم کی بات کی جائے یا ازسرنو جائزہ لینے کی بات کی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سیخ ہو جاتی ہے جس سے کشیدگی در ;200;تی ہے ۔ گزشتہ روز بھی بلاول بھٹو نے وزیراعظم عمران خان کو سخت جملوں کےساتھ تنقید کا نشانہ بنایا اور بین السطور دھمکی بھی دی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رویے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس ترمیم کو ذاتی ملکیت یا پھر گیدڑ سنگھی سمجھتی ہے ۔

کوئی بھی ترمیم ہو وہ ;200;سمانی صحیفہ نہیں ہوتی کہ اسے چھیڑنے سے ایمان خطرے میں پڑ جانے کا خدشہ ہو ۔ اس وقت ملکی ;200;ئین میں پچیس ترامیم ہو چکی ہیں ۔ حالات کے تقاضوں کے مطابق ;200;ئین کی کسی شق میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا ہی استحقاق ہوتا ہے،اب تک یہی کچھ ہوتا آ رہا ہے ۔ خود آئین جب نہیں روکتا تو پھر ایک پارٹی کی کیا حیثیت رہ جاتی کہ وہ پارلیمنٹ کو چیلنج کرنا شروع ہو جائے ۔ اگر کل کلاں یہ معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آتا ہے تو وہاں اسے یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی تجاویز دے ۔ یہی جمہوریت ہے اس طرح آگے بڑھا جا سکتا ہے ۔ ڈارئنگ رومز میں بیٹھ کر پیالی میں طوفان اٹھانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ ایک آئین ترمیم کے ساتھ کسی آسمانی صحیفہ کی طرح چمٹ جانا قطعاً مناسب نہیں ہے ۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے بھی یہی باور کرایا ہے کہ 18ویں ;200;ئینی ترمیم کوئی ;200;سمانی صحیفہ نہیں کہ اس میں ردوبدل نہیں ہو سکتا ہے ۔ اٹھارویں ترمیم کو دس برس بیت چکے ہیں ، اس عرصہ میں وقت کے تقاضے بھی بڑی تیزی کے ساتھ بدلے ہیں ،اور کئی نئے چیلنجز اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ،لہٰذا اگر اس میں نظر ثانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تو ضرور کمی کجی دور کر لینی چاہیے ۔

18ویں ;200;ئینی ترمیم 8 اپریل 2010 کو ;200;صف علی زرداری کے دور صدارت میں قومی اسمبلی نے پاس کی تھی لیکن جمہوریت پسندی کی دعویداروں نے اسے بغیر کسی بحث کے اسمبلی سے منظور کرا لیا تھا ۔ اس ترمیم کے ذریعے صدر کے تمام ایگزیکٹو اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر دیئے گئے جبکہ وفاق سے کئی اختیارات لیکر صوبوں کو دیے گئے ۔ وفاق کے ماتحت صحت اور تعلیم سمیت متعدد محکمے بھی صوبوں کے حوالے کر دیئے گئے ۔ اسکے علاوہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا ۔ یہ مطالبہ اے این پی کا تھاچنانچہ وہ بھی بلا چوں چرا کئے اسکا حصہ بنی ۔ الیکشن کےلئے بی اے کی شرط اور تیسری بار وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بننے کی پابندی بھی اسی ترمیم کے ذریعے ختم کر دی گئی ۔ اسی وجہ سے مسلم لیگ(ن)نے اسوقت اس ترمیم کی منظوری میں اپنا ووٹ ڈالا تھا ۔ تاہم بعد ازاں اسکے اپنے دور حکومت میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ۔ تحریک انصاف اقتدار میں ;200;نے کے بعد سے 18ویں ترمیم کو دوبارہ زیرغور لانے کا عندیہ دیتی ;200; رہی ہے ۔ ان دنوں بھی حکومت نے اسے دوبارہ زیر غور لانے کا عندیہ دے رکھا ہے ۔ جس پر اپوزیشن جماعتوں میں بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اس معاملہ میں اپوزیشن قائدین سے رابطوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ 18ویں ;200;ئینی ترمیم میں کسی ترمیم کی قطعاً اجازت نہیں دی جائیگی ۔ پیپلزپارٹی کی قیادت بھی اس معاملہ پر سخت ردعمل ظاہر کررہی ہے اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ 18ویں ;200;ئینی ترمیم میں ردوبدل یا اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو سخت نتاءج بھگتنا ہوں گے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کی جانب سے اس ترمیم میں ردوبدل کی اس لئے مخالفت کی جارہی ہے کہ اس ترمیم سے سب سے زیادہ انہیں ہی فائدہ پہنچا تھا جبکہ مسلم لیگ ن اس معاملہ میں پیپلزپارٹی اور اے این پی کےساتھ کھڑے نظر نہیں ;200;رہی ۔ مسلم لیگ کے قائدین کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق اس ترمیم میں ردوبدل کے حق میں ہیں ۔ اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات میں بے حد اضافہ تو ہوا لیکن جواختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جانے تھے وہ نہیں ہوئے جس پر یہ سوالات پیداہونے لگے ہیں کہ کیا یہ سب کچھ ذاتی مفادات کی خاطر تو نہیں کیا گیا تھا ۔ صوبوں کے اختیارات اتنے بڑھا دیئے گئے کہ پاکستان عملی طورپر فیڈریشن کی بجائے کنفیڈریشن بن کر رہ گیا ۔ اس ترمیم کے بعد وزیراعظم پاکستان کی آئینی حیثیت اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ اگلے روز بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں اشارہ بھی دیا کہ عمران صرف اسلام آباد کے وزیراعظم رہنا چاہتے ہیں ۔ اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کرنےوالوں کی نظر عوام کے مفادات کی بجائے قومی خزانے پر تھی اور بعض سندھ اور پنجاب میں مطلق العنان حکومتوں کا خواب دیکھ رہے تھے ۔ اسی لئے آئین میں ترمیم کرکے اراکین اسمبلی کے اختیارات پارٹی لیڈر کو سونپ دیے گئے اور انکی آزادانہ رائے کو سلب کر لیاگیا ۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اسے سیاسی مقاصد کیلئے آئین میں شامل کیا گیا،جس سے وفاق کمزور ہوا ۔ وفاق کا کہنا ہے کہ تمام مالی بوجھ اس کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے،این ایف سی کے بعد وفاق کے پاس ادھار چکانے اور دفاعی بجٹ کے بعد کچھ نہیں بچتا ۔ ظلم یہ کہ یہ شرط بھی عائد کر دی گئی کہ وفاقی حکومت صوبوں کا مالیاتی حصہ گزشتہ مالیاتی ایوارڈ سے کم نہیں کر سکے گی ۔ صوبے مالیاتی ایوارڈ کا 58 فیصد حصہ لے جاتے ہیں ،قرض کی ادائیگی اور دفاعی بجٹ کے بعدوفاق کو چلانے کیلئے بھیک کا راستہ ہی بچتا ہے ۔