- الإعلانات -

آج کی صحافت کا رنگ

صحافت کی ;200;زادی کا جتنا روناہمارے صحافی بھائی رو رہے ہیں اس کی مثال ہ میں تاریخ میں بہت کم ملے گی اور پھر صحافت جتنی ;200;ج ;200;زاد ھے اس سے قبل کبھی بھی نہ تھی صرف یہ بات ;200;زادی صحافت کے زمرے میں ;200;تی ہے کہ ;200;زادی صحافت میں جھوٹ بولنے کی ;200;زادی نہیں ہے اور موجودہ صحافت کے دامن پر جو داغ دکھائی دے رہے ہیں وہ جھوٹ ۔ فریب مکر کی چالوں اور ریاکاری کی کاری ضربوں سے داغ داغ ہیں ۔ تاریخ میں زندہ رہنے والے صحافی سچ اور حق پر کٹ مرتے تھے اور ;200;ج جتنا بڑا جھوٹ بول رہا ہو گا وہ اتنا ہی بڑا صحافی ہو گا کیونکہ اسے جھوٹ بولنے کا فن ;200;تا ہے اور جھوٹ باقاعدہ دھڑلے سے بولا جا رہا ہے ۔ وہ جھوٹ بول رھا تھا بڑے سلیقے سے ۔ میں اعتبار نہ کرتا تو کیا کرتا ۔ اور ;200;ج بڑا صحافی وہی ہے جو جھوٹ بول سکتا ہو ۔ اللہ کی پناہ اس جھوٹ کے اثرات پورے ملک کی فضا کو پراگندہ کیئے ہوئے ہیں اور ماحول میں ;200;لودگی اور بیہودگی نے اضطرابی لہروں کے دوش پر ایک خوفناک صورت حال پیدا کر رکھی ہے ۔ کرونا وائرس جیسے نامعلوم و نادیدہ چرثومے کے خوف کو ہمارا میڈیا خوفناک اور ہولناک انداز میں بیان کر کے قیامت برپا کر رہا ہے ۔ اگر لاک ڈاءون کا برقی ذراءع ابلاغ پر اطلاق ہو جائے تو اطمینان افروز لہر پورے پاکستان میں دوڑ جائےگی ۔ صحافت کے مقدس مشن کو جب سے ہم نے تجارت میں بدلا ہے اور جھوٹ کو ;200;زادی دی ہے اس کو ;200;زادی صحافت کہتے ہیں ۔ مشن میں ;200;زادی ہوتی ہے تجارت میں نہیں اور جو لوگ مشن سمجھ کر قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے رہے ہیں ان سے پوچھو مشن کیا ہوتاہے اور تجارت کس کو کہتے ہیں ۔ مشن میں عوام ہمنوا ہوتی ہے اور تجارت میں کمیشن کے معاملات بڑے بڑے فضیلت م;200;ب پردہ نشینوں کو عریاں کر دیتے ہیں ۔ قیس تصویر کے پردہ میں بھی عریاں نکلا ۔ مولانا ظفر علی خان بابائے صحافت کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ان کے پریس کی ضبطگی کے جرمانے کی رقم عوام چندہ جمع کر کے ادا کرتے تھے اور ادھر زمیندار بندہوتا تھا تو دوسرے روز ستارہ صبح طلوع ہو جاتا تھا ۔ اور ;200;ج ہمارے صحافی و غیر صحافی اخبارات کے مالکان کیوں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں کہ انہوں نے مشن کو چھوڑ کر تجارت اور سوداگری کر لی ہے اور حکومت سے اشتہارات کی بات کرتے ہو تو پھر ;200;زادی صحافت کا رونا کیوں روتے ہو ۔ صحافت ایک مقدس مشن تھا اورہم نے اسے بلیک میلنگ اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کا کلب بنا لیا ہے اور اعلیٰ ترین مقاصد کو فراموش کر دیا ہے ۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ چند گفتگو طراز وزیر اعظم پر جارہانہ انداز میں سوالات کی گردان دہرا رہے ہیں اور اس گستاخی کو وہ بیباکی کا نام دیتے ہیں حالانکہ بیباکی میں تعلقات قائم رہتے ہیں اور گستاخی میں ٹوٹ جاتے ہیں ۔ میں نے تو اسی روز فردوس عاشق اعوان کی مشاورت کے خاتمہ کی بات کر دی تھی ۔ ہمارے یہ اینکر پرسنز کا طرز و اسلوب حفظ مراتب کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ شیخ سعدی مرحوم نے کہا تھا کہ حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ۔ ۔ اور یہ زندیقی صحافت کا اب دور ختم ہو گیاہے جب سے حفظ مراتب سے ;200;گاہ شاہین نگاہ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے معاون خصوصی برائے اطلاعات کا قلمدان سنبھالا ہے ۔ وہ ایک باخبر جرنیل اور خبردار عسکری دانشور ھیں ۔ ;200;پ کی خبر و نظر پر جتنی گہری نگاہ ہے اس کا انداز وھی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے ;200;پ کے ساتھ کام کیا ہے ۔ وہ خوب اور ناخوب میں تمیز رکھتے ہیں اور دو سطری خبر کے بین السطور سے باخبرہیں سوشل میڈیا کے مزاج کو اور برقی ذراءع ابلاغ کے انداز و اسلوب سے پوری طرح ;200;گاہ ہیں اور وہ ان گمنام صحافیوں کو بھی جانتے ہیں جو فقر و استغنا کی دولت سے مالا مال اور قناعت کی دولت پر قانع ہیں ۔ کوئی پلاٹ کوئی مالی سوغات ان کی خدمات کے اعتراف میں بھی ان کے قرطاس اعزاز پر ثبت نہیں ہے ۔ روزانہ کنواں کھود کر پانی پینے والوں پر گستاخ صحافی طنز کرتے ہیں کہ یہ نالائق لوگ ہیں جو زمانے کے ساتھ نہیں چل سکے اور ;200;ج ان کا کوئی پرسان حال نہیں مگر میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی ۔ یہ بات درست ہے کہ وہ بے سروسامان ہیں ان کی جیب خالی ھے مگر وہ کمال کے لوگ ہیں کیونکہ اقبال نے کہا تھا ۔ کہ زوال بندہ مومن کا بے زری سے نہیں ۔ دوسری طرف ٹاٹا برلا صحافی جنہوں نے دس دس ملازم خبر و اطلاع کےلئے رکھے ہوئے ہیں اور حالات کی سنگینی کو سنگین تر بنا دیتے ہیں ۔ اور ایسے واقعات جن پر دل خون ہوتا ہے ان کی منظر کشی افسردگی کے لہجے میں نہیں ہنس ہنس کر بیان کر رہے ہیں اس وقت مجھے تو غالب یاد ;200;تا ہے جو ان کے بد تمیز اور ٹھنڈے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید کرتا ہے ۔

تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے

غم وہ افسانہ ہے جو ;200;شفتہ بیانی مانگے

پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنےوالی افواج پاکستان نے ہر ;200;زمائش میں عوام کےلئے ;200;سائش کا سامان فراہم کیا ہے اور حفظان صحت کی سرحدوں پر بھی میڈیکل سٹاف کے شانہ بشانہ ہماری پاک فوج کے جوان ھی مستعد و فعال نظر ;200;تے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ;200;ج ہ میں سیاستدانوں کی نہیں سائنسدانوں کی ضرورت ہے جو کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ گردش لیل و نہار کا بھی علاج تجویز کریں اور نسل نو کی تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی اہتمام کریں ۔ یہ کام جدید عہد کے ابلاغی ویپنز سے ہی ممکن ہے اور اس پر برقی ذراءع ابلاغ کا مکمل قبضہ ہے جہاں سے منفی پراپیگنڈا کے ذریعے نسلوں کی فصلوں کو شاداب کرنے کی بجائے تباہ برباد کیا جا رہا ہے ۔

وہ یوں نہ بچوں کے قتل سے بدنام ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجی

وزیر اطلاعات و نشریات ہمارے محبوب شاعر احمد فراز کے صاحبزادے شبلی فراز کا وژن قابل ستائش ہے وہ صحافت اور صحافی دونوں کو اس لیئے جانتے ہیں کہ ان کا واسطہ اپنے والد گرامی کی وجہ سے بہت پرانا ہے ۔ اس لیئے جناب شبلی کی نگاہ شاہینی اوصاف سے متصف ہے ۔ وہ خبر و نظر اور فکر و عمل کے ;200;دمی ہیں وہ خاکساروں کو بھی جانتے ہیں اور سربلندوں کی رعونت سے بھی ;200;گاہ ہیں ۔ میڈیا کو سیدھا کرنے کا فن جنرل عاصم سلیم باجوہ کےلئے مشکل نہیں ہے اور شبلی فرازہمیشہ فراز رہے ہیں وہ کالم نگاروں کی نگارشات اور دانشوروں کے فرمودات سے ;200;گاہ ھیں ۔ انشاء اللہ شبلی فراز کی وجہ سے صحافت اور صحافی کی حقیقی فکری رسائی کے پیمانے کا پتہ چلے گا ۔