- الإعلانات -

لامتناہی مدت تک لاک ڈاوَن جاری نہیں رکھا جا سکتا

دنیا کی دیگر حکومتوں کی طرح حکومت ِپاکستان کو بھی کورونا وائرس کے نتیجے میں صحت اور زندگی کو لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ عالمی وبا ء کو کنٹرول کرنے کی خاطر جاری لاک ڈاوَن سے پیدا شدہ سنگین معاشی بحران کے دوہرے چیلنج کا سامنا ہے اور غور فکر جاری ہے کہ کس طرح اس صورتحال سے نمٹا جائے ۔ وزیراعظم عمران نے عندیہ دیا ہے کہ جلد معاشی سرگرمیاں تیز کی جائیں گی جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ کورونا وبا ء کے باعث عائد کردہ موجودہ پابندیوں کا 9مئی تک اطلاق رہے گا ۔ 9 مئی سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے، قومی رابطہ کمیٹی9مئی کے بعد کی حکمت عملی طے کرے گی‘‘ ۔ اس میں اب کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دنیا بھر میں یہ رائے پختہ ہو چکی ہے کہ یہ لاک ڈاوَن کا عذاب اب مزید برقرار نہیں رکھا جا سکتا اور ;200;نے والے دنوں میں کورونا وائرس کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سیکھنا ہے ۔ عالمی سطح پر اگرچہ اموات کا گراف نمایاں طور پر نہیں گرا مگر اسکے باوجود لاک ڈاوَن ;200;ہستہ ;200;ہستہ کھولنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ پاکستان کو وہ صورتحال درپیش نہیں ہے کہ لاک ڈاوَن کو طوالت دی جائے،حکمت اور تدبیر کے ساتھ اسے کھولنے کا وقت ;200; چکا ہے ۔ بلاشبہ گزشتہ چند دنوں میں کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ ہوا ہے جو اچھی خبر نہیں ہے،جس کا ذکر وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی پریس بریفنگ میں کیا ہے،پچھلے 6روز میں روزانہ24اموات ہورہی ہیں لیکن آبادی کے تناسب کے حساب سے پاکستان میں یہ شرح کم ہے، ۔ پاکستان کے مقابلے میں امریکہ میں 58گنا اور برطانیہ میں 124گنا زیادہ ہلاکتیں ہوئیں ۔ بیماری کے پہلے46روز میں ہر10لاکھ شہریوں میں سے اسپین میں سب سے زیادہ 414، اٹلی 305، فرانس 256، برطانیہ248اور امریکہ میں 116 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ پاکستان میں صرف2افراد جاں بحق ہوئے ۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ٹریفک چلتی رہتی ہے، انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایک ماہ میں اوسطا ً4 ہزار سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو رہے ہیں ۔ اسد عمر کا یہ کہنا درست ہے، صرف ٹریفک حادثات ہی نہیں کئی دیگر بیماریوں سے مرنے والوں کی شرح اموات بھی اس سے زیادہ ہے لیکن نظام زندگی متحرک رہتا ہے، چونکہ اس بیماری کا اب تک خطرناک پہلو اس کا علاج دریافت نہ ہونا ہے لحاظ احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ جہاں تک اموات کی شرح لاک ڈاوَن کے ذریعے صفر تک لانے کی بات ہے تو ایسا بالکل نا ممکن ہے ۔ اس کے لئے پھر ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے جو انسانوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوں گے ، اس وقت ہر جگہ کورونا کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ اس کے پھیلا وَکو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ وفاقی وزیراسد عمر نے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات بارے بتایا کہ لاک ڈاوَن اور پابندیوں کے باعث معاشی طور پر حکومت کو آمدنی میں 119 ارب روپے کا نقصان ہوچکا، روزگار میں بڑے پیمانے پر کمی ;200;ئی ہے ۔ انہوں لاک ڈاوَن کی طوالت کے پس منظر میں بتایا کہ اگر یہ سلسلہ مزید چلا تو7 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے، ایک کروڑ 80لاکھ افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں ،جبکہ 10لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے ہمیشہ کے لیے ملک بند کرکے نہیں بیٹھ سکتے ۔ ہمارا ہدف صحت کے نظام کو مضبوط کرنا ہے، ہمارا صحت کا نظام پچھلے2 ماہ کے مقابلے میں اب بہتر ہے ۔ آہستہ آہستہ بندشیں کم کریں گے، روزگار کے مواقع بڑھائیں گے ۔ ان سطور کے ذریعے کئی بار اس امر پر زور دیا ہے کہ احتیاطی تدابیرکےساتھ ان بندشوں سے نکلا جائے ۔ یورپ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک آہستہ آہستہ روزگار کے پہیے کو چلانے کے لیے بندشیں کم کررہے ہیں ۔ مسلم دنیا بھی اسی روش پہ گامزن ہے ۔ اب ہر جگہ اس حقیقت کا احساس ہو رہا ہے کہ درپیش صورتحال سے نمٹنے کے لیے لا متناہی مدت تک مکمل لاک ڈاوَن جاری نہیں رکھا جا سکتا لہٰذا کاروبارِ زندگی ممکنہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ بتدریج بحال کیا جانا ضروری ہے ۔

افغان امن معاہدہ،فریقین تحمل کامظاہرہ کریں

پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کاخواہاں رہا ہے اورافغانستان میں امن عمل معاہدے میں اہم کرداراداکیا ہے اب فریقین کوچاہیے کہ وہ امن معاہدے کوبرقراررکھیں ۔ پاکستان کا اس سلسلے میں کردارہمیشہ کلیدی رہا فریقین کوتحمل سے کام لینا ہوگا جبکہ امریکہ کی جانب سے طالبان پر حملے کی دھمکی خوش آئند نہیں اس کے جواب میں ترجمان طالبان ذبیح اللہ نے کہاکہ ہم معاہدے پرقائم اورامن کے لئے پُرعزم ہیں یہ بات کسی حد تک درست ہے کیونکہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں کچھ ایسے واقعات سامنے آئے جن پرطالبان نے اپنے تحفظات کا اظہارکیالہٰذا مریکہ اورطالبان دونوں کو چاہیے کہ وہ مستقل مزاجی سے کئے گئے معاہدے کوعملی جامہ پہنائیں نہ کہ خطے کودوبارہ سے جنگ کی آگ میں جھونکے ۔ پاکستان نے افغانستان میں امن واستحکام کی اہمیت پر ہمیشہ زوردیا ہے جسے ہم خطے اور پوری دنیا میں امن و استحکام کےلئے ناگزیر سمجھتے ہیں ۔ ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ فروری 2020 میں طے پانے والا امریکہ طالبان امن معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے جس سے اس ضمن میں مزید ;200;گے بڑھنے کےلئے بین الافغان مذاکرات کے انعقاد کا ایک تاریخی موقع میسر;200;یا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام متعلقہ فریقین کی جانب سے تشدد میں بتدریج کمی کی کوششیں افغانستان میں امن کے قیام کے مقصد میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں ۔ کورونا وباء سے درپیش غیرمعمولی چیلنج اور رمضان کے مقدس مہینے کا تقاضا ہے کہ ایک سازگار ماحول پیدا کیا جائے ۔ پاکستان تمام افغان جماعتوں اور متعلقہ فریقین کے درمیان سیاسی مفاہمت کی اہمیت پر زوردینا چاہتا ہے ۔ سب کی شمولیت کا حامل سیاسی نظام بلاشبہ ان کوششوں کو تقویت دینے میں مددگار ہوگا جس کی اس نازک گھڑی میں افغان قوم کو اشدضرورت ہے تاکہ وہ درپیش چیلنجوں سے موثر طورپر نبرد;200;زما ہوسکے ۔ پاکستان اپنے حصے کے طورپر پرامن، مستحکم، متحد، جمہوری اور خوشحال افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا جو داخلی طور پر اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی امن کا حامل ہو ۔

مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو شدید قدغنوں کا سامنا

ہرسال تین مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت منایا جاتا ہے،اس موقع پر میڈیا کو درپیش مشکلات اور پابندیوں بارے تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں میڈیا کو شدید قدغنوں کا سامنا ہے ۔ پڑوسی ملک بھارت بھی ان میں شامل ہے جہاں صحافت ریاستی جبر کا شکار رہتی ہے خصوصاَ کشمیر میں بدترین صورتحال ہے ۔ اس دن کی مناسبت سے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر جاری جبر اور صحافیوں اور صحافتی اداروں کو ہراساں کرنیکی شدید مذمت کی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پرہم مقبوضہ جموں وکشمیر کی صحافتی برادری کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔ جنہیں ہراسگی اور دھمکیوں اورفوجی طاقت کا مسلسل سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان کی غیر معمولی ہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے ہم ان کشمیری صحافیوں کی قربانیوں کا بھی احترام کرتے ہیں ۔ یہ بات قابل تحسین ہے کہ کشمیری صحافی سختی اور پیشہ وارانہ مہارت کیساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں ، اس کے باوجود کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے عوامی تحفظ ایکٹ ،آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ ، اور غیر قانونی سرگرمیوں سے بچاوَ ایکٹ جیسے کالے قوانین موجود ہیں ۔ عالمی یومِ صحافت کے موقع پر اس حوالے سے سامنے آنے والے اعدادوشمار بھارتی جمہوریت پسندی کے دعووَں کی قلعی کھول رہے ہیں ۔