- الإعلانات -

محمدبن قاسم کی زیرقیادت سندھ میں اسلامی ریاست کاقیام

برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ خلفاء ا لراشدین کے دور سے ہی شروع ہو چکا تھا ۔ مگر محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کر کے باضابطہ طور پر یہاں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا ۔ 10رمضان المبارک کو ہرسال یوم باب الاسلام منایا جاتا ہے یہ دن محمد بن قاسم کے طفیل سندھ میں فروغ اسلام کا سبب بنا ۔ سندھ کے راستے دین حق کا پیغام سندھ سے ملتان ہوتا ہوا پورے برصغیر میں کرنیں بکھیر گیا اور 12صدیوں بعد قیام پاکستان کی صورت جو معجزہ برپا ہوا اسکا سبب بھی پہلی صدی ہجری کی وہ کوشش ہی تھی جب اسلام کا سبز ہلالی پرچم یہاں لہرایا گیا تھا ۔ محمد بن قاسم نے رحمدلی ‘ نرم مزاجی اور حسن سلوک سے جس مسلم ریاست کی بنیاد رکھی وہ بعد کے ادوار میں بھی اسی شناخت کے ساتھ برقرار رہی ۔ امویوں کے بعد صفاری‘ ہباری ‘ ترخان‘ ارغون‘ کلہوڑے ‘ تالپور برسراقتدار رہے لیکن سندھ کا مسلم تشخص موجود رہا ۔ اس خطے میں پہلی اسلامی ریاست محمد بن قاسم نے قائم کی جسے بعد میں صفاریوں ‘ ہباریوں ‘ مغلوں ‘ ترخانوں ‘ غزنویوں ‘تغلقوں اور غوریوں وشیرشاہ سوری نے وسعت دی ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ پر بمشکل ساڑھے تین برس حکومت کی لیکن طرز حکمرانی سے لیکر رعایا کے دل جیتنے تک اتنے واضح ‘ گہرے ‘ بھرپور اور دلکش نقوش چھوڑے کہ 15 ویں صدی ہجری میں بھی اسے یہاں کے باشندے یاد رکھے ہوئے ہیں ۔ محمد بن قاسم سے محمد علی جناح تک کی تاریخ روشن‘ تابناک اور درخشاں ہے جو اموی مسلم سلطنت کے قیام سے شروع ہو کر آزاد مسلم ریاست پاکستان پر مکمل ہوئی البتہ یہ تاریخ کا المناک باب ہے کہ فاتح سندھ محمد بن قاسم کو 96ھ میں اسکے مخالفین کی سازشوں کے نتیجے میں معزولی کے بعد دمشق کے واسط جیل میں زندگی کے آخری ایام گزارنے پڑے اور وہیں وفات پائی ۔ برصغیر میں اسلامی مملکت کے قیام کا سلسلہ محمد بن قاسم سے شروع ہو کر محمد علی جناح;231; پر ختم ہوا ۔ 10 رمضان المبارک کو محمد بن قاسم نے سندھ کی دھرتی پر قدم رکھا اور آخر کار 27 رمضان المبارک 1947 کو محمد علی جناح ;231; کی انتھک محنت سے پاکستان کا قیام وجود میں آیا ۔ پاکستان لا الہ الا اللہ دعوت توحید یعنی قرآن کے نام پر بنا ہے ۔ قرآن بھی رمضان میں نازل ہوا ۔ پاکستان بھی رمضان میں بنا ۔ قرآن بھی 27رمضان لیلتہ القدر میں نازل ہوا ۔ پاکستان بھی 27ویں رمضان لیلتہ القدر کی رات بنا ۔ یہ کیسا حسین اتفاق ہے ۔ 1947ء کو 14اگست رمضان بھی ہے ۔ 27رات لیلتہ القدر بھی ہے اور جمعتہ الوداع بھی ہے ۔ رات بھی رحمت مغفرت بخشش کی، دن بھی رحمت اور بخشش کا ۔ سب کو معلوم ہے کہ تینوں مسلمہ قوتوں اور فریقوں کانگریس،مسلم لیگ اور حکومت برطانیہ میں ایک معاہدہ ہوا ۔ جس کا 20جون کو آل انڈیا ریڈیو سے اعلان ہوا اور قائداعظم محمد علی جناح کی زبان سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند ہوا ۔ اس طرح 14اگست 1947ء کو پاکستان قائم ہوگیا ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ30جون 1947ء کو کوئی نہیں جانتا تھا اور نہ کسی کے ذہن میں یہ بات آئی کہ آنے والی 14اگست کو رمضان کو کون سی تاریخ، کون سا دن اور کون سی رات ہوگی ۔ یہ صرف اللہ کو معلوم تھا کہ یہ نزول قرآن کی رات، جہنم سے آزادی کی رات، عذاب سے نجات کی رات ۔ 27رمضان لیلتہ القدر ہوگی اور جمعتہ الوداع کا مبارک دن ہوگا ۔ قائد اعظم;231; نے فرمایا تھا کہ پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا ۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے ۔ وطن اور نسل نہیں ۔ کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر ذہن رکھتے تھے اور وہ پاکستان میں سیکولر نظام لانے کے حق میں تھے ۔ سیکولر ازم کا ڈھول بجانے والا یہ گمراہ اگر اس دور کے ہندو اخبارات میں ہندو سیاست دانوں کے بیانات پڑھ لیں تو انہیں علم ہو جائے گا کہ ہندو طبقہ پاکستان کی مخالفت ہی اس وجہ سے کر رہا تھا کہ وہ پاکستان کے مطالبہ کو اسلام ازم کی ایک کڑی سمجھتے تھے ۔ قائد نے فرمایا ’’اس حقیقت سے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں کا بنیادی اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ جو معاشرت، مذہب، تجارت، عدالت، فوجی امور، دیوانی، فوجداری اور تعزیرات کے ضوابط کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے‘‘ ۔ قائد اعظم نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بھی یاد کروایا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن حکیم کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھے تاکہ وہ اس سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کر سکے ۔ قائد اعظم نے بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’پاکستان سے صرف حریت اور آزادی مراد نہیں اس سے فی الحقیقت مسلم آئیڈلوجی مراد ہے جس کا تحفظ ضروری ہے‘‘ ۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جس نظریہ پاکستان کی برکت سے پاکستان حاصل کیا تھا اسی نظریے یعنی قرآن کرےم کی اصولی ہدایات پر عمل کر کے اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ہی ہم پاکستان کو ایک بہترین اسلامی و فلاحی ملک بنا سکتے ہیں ۔ قیام پاکستان کا عمل رمضان المبارک میں ہوا، رمضان کی برکت سے پاکستان کی سا لمیت کو قیامت تک کو ئی خطرہ نہیں ۔ رمضان المبارک مسلمانوں کیلئے تحفہ ہے ۔ پاکستان کا قیام رمضان اور قرآن کا فیضان ہے ۔ اسلامی سال میں رمضان المبارک کو ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سے احکامات رمضان کے مہینے میں ہی نازل ہوئے ۔ ہمارا قرآن بھی رمضان میں ہی نازل ہوا ۔ اس کے علاوہ بہت سی غزوات بھی رمضان کے مہینے میں ہی ہوئیں جن میں قابل ذکر کفرو اسلام کی پہلی جنگ غزوہ بدر ہے ۔