- الإعلانات -

صحافت ،صداقت ،دیانت اور امانت سے تعبیر ہے

یہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے کی بات ہے کہ جب انگریز حکمران تھے ۔ وائسرائے ہند سرکاری دورہ پر دہلی سے کلکتہ جارہے تھے جب وہ کلکتہ ائیر پورٹ پر پہنچے تو قطار میں کھڑے عمائدین شہر کا ان سے تعارف کرایا جارہا تھا ۔ اس قطار میں ایک بڑے زمیندار بنسی لال بھی موجود تھے ۔ جب وائسرائے کا ان سے تعارف کرایا گیا تو وائسرائے وہیں رک گئے اور برملا کہا آپ بنسی لال نہیں ہوسکتے، وہ حیران رہ گیا اور کہا کہ میں ہی بنسی لال ہوں ۔ آپ کویہ شک کیونکر پیدا ہوا کہ میں بنسی لال نہیں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دہلی سے کلکتہ کے سفر کے دوران اخبار پڑھا ۔ اس میں خبرشاءع ہوئی تھی کہ کلکتہ کے زمیندار بنسی لال کا انتقال ہوگیا ہے ۔ اخبار کی خبر جھوٹی نہیں ہوسکتی آپ بنسی لال نہیں ہوسکتے اور وائسرائے نے کلکتہ کے کمشنر کو انکوائری کے لیے کہا اور اسے ہدایات دیں کہ میں نے تین دن کلکتہ میں رہنا ہے اس دوران مجھے انکوائری رپورٹ دیں ۔ جب انہیں رپورٹ پیش کی گئی تو اس میں کہا گیا تھا کہ بنسی لال نام کے دو بڑے زمیندار تھے ،جن میں سے ایک کا انتقال ہوگیا تھا اور دوسرا بنسی لال وہ تھا جس کا وائسرائے سے تعارف کرایا گیا ۔ یہ تھی اخبار اور خبر کا معیار اور اہمیت کہ اخبار میں چھپنے والی ہر خبر صداقت پر مبنی ہوتی تھی ۔ یہ کوئی ہزاروں سال پرانی بات نہیں ۔ ماضی قریب کا قصہ ہے کہ 1947ء تک انڈیا پربرٹش راج تھا اور اخبار میں جھوٹی خبر شاءع ہونے کا تصور تک نہیں تھا مگر آج کیا ہورہا ہے اخبار کا قاری آج شاءع ہونے والی خبروں کی صداقت پر شکوک شبہات کا شکار رہتا ہے ۔ کسی بھی اخبار میں شاءع ہونے والی خبر ہی اطلاع کا پہلا حوالہ ہوتی ہے اور اگر اس میں ہی صداقت سے اجتناب برتا گیا ہو توقاری کیا کرسکتا ہے ۔ اگلے روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم صحافت منایا گیا ۔ کرونا کے باعث اکا دکا محدود تقریبات بھی ہوئیں اور زیادہ تر تحریروں سے کام لیا گیا ۔ ماضی قریب میں کسی بھی اخبار یا جریدہ کا ایڈیٹر لازماً شاعر ، ادیب ، دانشور ، اچھا لکھاری اور صاحب بصیرت ہوتا تھا ۔ جسے حالات حاضرہ پر مکمل عبوراوردسترس کے علاوہ اس کی مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے حالات پر بھی گہری نظر ہوتی تھی اوروہ اپنے رشحات قلم کے ذریعے ایسے مربوط اور حقائق پر مبنی تبصرے کیا کرتے تھے ۔ جنہیں قاری تحسین کی نظر سے دیکھتا تھا ۔ تبصروں کے علاوہ خبروں کی ترتیب و تدوین میں بھی اعلیٰ معیار کو پیش نظررکھا جاتا تھا ۔ ایک اخبار کے رپورٹر نے ایک خبر اپنے ایڈیٹر کو دی جو ایک قتل سے متعلق تھی اورکچھ یوں تھی کہ ’’ ایک خاوند نے اپنی بیوی کو قتل کردیا واضح رہے کہ مقتولہ چھ ماہ کی حاملہ تھی‘‘ ایڈیٹر نے اس میں یوں ترمیم کی ’’ مقتولہ چھ ماہ بعد بچے کی ماں بننے والی تھی‘‘ اخبار کو ہر جنس اور ہر طبقہ پڑھتا ہے اور خبرنویس کو خبر بناتے وقت اخلاقی اقدار کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ جہاں تک پاکستان کی صحافت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ہمارے پاس کئی بڑے نامور لوگ موجود رہے ہیں جن میں یہ چند نام نمایاں ہیں مولانا ظفر علی خان ، میر خلیل الرحمن، حمیدنظامی، مجید نظامی ، احمد ندیم قاسمی ، آغا شورش کاشمیری، ریاض شاہد، میاں افتخار الدین، رئیس امروہوی اور نسیم حجازی ۔ یہ وہ عہد ساز شخصیات ہیں جنہوں نے پاکستان کی صحافت میں ایک اعلیٰ معیار قائم کیا ۔ ان کے بعد اب تک ہم اس معیار سے محروم ہیں ۔ یہ ماضی قریب کی بات ہے کہ اخبار نویس کی قدرو منزلت ہوتی تھی مگر رفتہ رفتہ ہمارا معیار صحافت روبہ زوال رہا اور ہے اس میں اخبار نویسوں کا کم اورہمارے سیاستدانوں اور حکومتوں کا زیادہ دخل رہا ہے کہ وہ صرف ایسی خبریں چاہتے ہیں جن میں ان کا مفاد ہو ۔ اگرکوئی اخبار حکومت کی بے جا حمایت نہ کرے تو سزا کے طور پر اس کے حکومتی اشتہار بند کر دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ مجبور ہوکر حکومت کا حامی بن جائے جو کوئی قابل ستائش روش نہیں ہے ۔ جہاں اخبار نویس حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کرتا ہے تو اسے یہ بھی حق ہونا چاہیے کہ وہ حکومتی پالیسیوں میں خامیوں پر بھی تنقید کرسکے اور یہ اصلاح احوال کا ایک مستند ذریعہ ہے جو خود حکومتوں کے بھی مفاد میں ہے ۔ ادھر ہمارے صحافتی حلقوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے صحافت کے اس اعلیٰ معیار کوپیش نظر رکھیں اور ان کی تابندہ روایات کی آبیاری کریں اور ان معیار تک پہنچنے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے صحافتی حلقے اپنے گم گشتہ وقار اور معیار کو دوبارہ بحال نہ کر سکیں ۔ جب ہم صحافت کی بات کرتے ہیں تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ صحافت اور سیاست لازم و ملزوم ہیں ۔ ہر دو میں سے کسی ایک کی خامی کا دوسرے پر اثر اندازہونا لازمی امر ہے ۔ یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ اگرکسی صحافی نے جراَ ت رندانہ سے کام لے کر کسی سیاستدان کی کرپشن یا کسی اور خامی کی نشاندہی کی ہے تو پاورفل سیاستدان نے صرف زدوکوب پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ بعض حالات میں اس معصوم صحافی کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں مگر اس سیاستدان کاکچھ نہیں بگڑتا کہ وہ با اثر تھا ، طاقتور تھا ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ صحافی پرنٹ میڈیا کاہو یا الیکٹرانک میڈیا کا اپنی رپورٹ کے حصول کےلئے اسے کئی خطرات سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ سیلاب ہوں یا زلزلے یا دہشت گردی کی کوئی واردات وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کا رپورٹنگ کرتا ہے مگر اسکی جان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ہمارے نئے وزیر اطلاعات شبلی فراز ایک پڑھے لکھے اور ذہین آدمی ہی انہیں چاہیے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے خامیوں سے مبرا ٹھوس پالیسی ترتیب دیں اور رپورٹنگ کے حصول کے دوران اگر کوئی صحافی جان سے دھو بیٹھے تو اس کے اہل خانہ کے لیے معقول معاوضہ دیا جانا چاہیے کہ اس کے بچے در بدر کی ٹھوکریں نہ کھائیں ۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو جاری کئے جانے والے حکومتی اشتہارات کے لئے بھی ایسی ہی حکمت عملی اور پالیسی اپنائی جائے جو خامیوں سے پاک ہوکر اس وقت جس پالیسی پرعمل ہورہا ہے اس میں خاصی خامیاں موجود ہیں اور ان کی اصلاح وقت کا تقاضا ہے ۔