- الإعلانات -

پاکستان ۔ محفوظ ترین ہاتھوں میں ہے

قیادت کا ایک اہم وصف ’بصیرت‘ یعنی ویڑن ہوتا ہے،یہاں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ‘کہ’بصیرت‘ کے بغیر کسی سیاسی ‘ سماجی بلکہ مذہبی جماعت کا لیڈر یا قائد بننا ممکن نہیں ہے‘ اور ‘بصیرت‘ کا براہِ راست تعلق مثبت سوچ‘ مثبت قوت فیصلہ اوراپنی بلاجھجک اپنے موقف کوبے خوف بیان کرنے کی جرات وہمت ایک تسلیم شدہ لیڈرکے قائدانہ وصف کی خصوصی پہچان اور شناخت کو زیادہ نمایاں اور واضح کردیتی ہے پاکستانی قوم اس اعتبار سے یقینا جنوبی ایشیائی ممالک میں فی زمانہ لائق امتیاز تصور کی جاسکتی ہے اوریہ مانا بھی جارہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بحیثیت قائد اْن کی شخصیت میں ایک ایسی دوربیں اورصبرآزما قائدانہ صلاحیتوں کا امتزاج بخوبی ہرکسی کوصاف دکھائی دے رہا ہے، جو آج ہماری اشد ضرورت بھی ہے گزشتہ برسہابرس سے چلی آرہی پاکستانی جمہوریت کی کثافت زدہ سیاست میں لگے بندھے باہمی جوڑ توڑ کے گنجلک سلسلہ کے نظام رہتے ہوئے جولائی 2018کے عام انتخابات کے نتاءج نے تاریخ بدل دینے والی عوام دوست دراڑیں ڈال دیں ، جس کے نتیجے میں ملکی قومی سیاست کے دیرینہ اور فرسودہ نظام کی چولیں ہلا کررہ گئیں ، چاہے وہ منکر ہویا ہماری رائے سے اتفاق کرئے نہ کرئے اْسے بہرحال یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ملک کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھا لنے سے تادم تحریراپنے چند فیصلوں سے ثابت کردیا ہے اگرملک وقوم کے مفاد میں دوٹوک فیصلہ کرنے والی شخصیت کا اپنا دامن صاف ہو،بے داغ ہویہی کافی نہیں ہے بلکہ اپنے قریبی سیاسی رفقا میں سے اگر کوئی بھی کسی قسم کی بے قاعدگی یا پھر مالی منفعت کی کرپش کاشکار ہوجائے تو اْسے بھی ہرقیمت پر احتسابی کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے، عوام آج یہ سب کچھ ہوتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جولائی 2018کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک پاکستان کے اندرونی اعلیٰ سطحی انتظامات کے فیصلوں کے علاوہ بیرون ملک کے سفارتی معاملات میں بھی واضح وقار اورخود دار متانت کی بدلتی ہوئی دکھائی دینے والی پا لیسیوں نے مسلم دنیا ، مغربی دنیا سمیت امریکا تک یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ پاکستان اس خطہ میں کسی کے لئے اب نہ توترنوالہ بنے گا نہ ہی اس خطہ میں پاکستان کی سرزمین آئندہ کسی عالمی ملک کے مفاد کےلئے کسی طور استعمال کی جاسکے گئی ماضی کے سزا یافتہ حکمرانوں کے چلے جانے کے بعد پاکستان اپنی قومی خود مختاری اور اپنی علاقائی سلامتی کے لئے اب کسی قیمت پرکسی طرح کا سودا نہیں کرئے گا، پاکستان کی بیرونی سفارتی معاملات کے فیصلے اب اسی خطہ میں طے ہونگے،گزشتہ تقریبا پونے دوسال مکمل ہونے کو آئے اس دوران میں ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے اپنی اپنی کرپشنز کے سنگین مقدمات میں سزا پانے کے بعد ہمیشہ کے لئے جانے والے سابقہ حکمران خاندانوں نے کیسی کیسی سازشوں کے جال نہیں بنے;238; اْن جانے والے حکمرانوں نے اپنے1988 سے اب تک اپنے ادوار میں 17 گریڈ کے چاہے سول انتظامیہ کے صوبائی افسر بھرتی کیئے گئے ہوئے ہوں یا مرکز میں سیکشن افسر بھرتی کیئے گئے ہوں ترقی کرتے کرتے اب وہ 22 گریڈ تک جاپہنچے ہونگے اور جوریٹائرڈ بھی ہوئے اْنہوں نے بھی اپنے ہی جیسے ماضی کے اْن سیاسی حکمرانوں کے ’’وفادار‘‘ ملازموں کی فوج ظفرموج بھرتی کی یہ وہ ہی بیوروکریٹس ہیں جو کرپشنز کی دلدل میں دھنسے انتظامیہ کو فیل کرنے جیسے انتہائی اقدامات بجا لائے رہے ہیں کہ ایوان اقتدار میں آنے والوں کا حکم نہیں ماننا;238; صاف نظرآرہا ہے سب سے بڑے صوبہ پنجاب اورسندھ کی پولیس محکمہ کا حال پاکستانی قوم دیکھ رہی ہے کیاکیا کچھ نہیں کہا جارہاکہ’’ملک غیرذمہ داروں کے ہاتھوں میں دیدیا گیا;238; آج بحیثیت پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے ایسے’’غیر مطمئن دور‘‘ کی ساری غیرذمہ دارانہ پالیسیوں کا ملبہ وزیراعظم عمران خان پر ڈال دینا چاہتی ہے;238; جو صاحبِ عقل ہیں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی ابجد سے واقف ہیں وہ یقینا مانیں گے یہ سب کیا دھرا جو’’غیرمطمئن دور‘‘سے بھراپڑا ہے یہ ہماری وہ بیوروکریسی کا کیا دھرا ہے جو ریاست کی بجائے ماضی کے کرپٹ حکمرانوں کی وفادار بنی ہوئی موجودہ آئینی حکومت کےلئے عوامی فیصلوں کی راہوں میں روڑے اٹکاتی رہی ہے، مہلک عالمی وبا کویِڈ19کی خوفناکی نے غالبا دوماہ قبل پاکستان پر بھی گہرے سائے لادھ دئیے ، پوری دنیا کی ترقی یافتہ کیا غیر ترقی یافتہ اس عالمی خوفناک وبا نے کوئی تمیز نہیں چھوڑی کوئی فرق نہیں کیا دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا پاکستان کی معیشت نے ابھی نموپانا شروع کیا تھا کہ یہ مہلک وبا ہم پر یکدم آن پڑی پاکستان سے ایک ایسی توانا بھرپور آواز ابھری کہ پاکستان مکمل طور پر ’’لاک ڈاون‘‘نہیں کیا جاسکتا یہاں نچلے درمیانی اور دیہاڑی دار مزدور طبقہ جس کی تعداد کروڑوں میں ہے جس باقاعدہ کہیں ڈیٹا نہیں بنایا گیا جوہمہ وقت سفر میں رہتا ہے اْسے دووقت کی روٹی کیسے پہنچائی جاسکتی ہے ایک ہی چھت کے نیچے چھ سے آٹھ آدمی اکھٹے رہنے والوں کو ’’ سوشل ڈیسٹینس‘‘پر نہیں رکھا جاسکتا یہ کروڑوں مفلوک الحال روز کی بنیاد پر کمانےوالوں کی آواز تھی جو وزیراعظم عمران خان کے دل کی درد ناک آوازبن کرپورے ملک میں گونجی جس کا عوام نے فی الفورخیرمقدم کیا جبکہ وزیراعظم کے قدم بہ قدم ملکی افواج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی فوج کے حصہ کے راشن میں سے ملک کے انتہائی مفلوک الحال پاکستانیوں تک راشن پہنچانے کےلئے فوجی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی، احساس پروگرام کے زیر اہتمام وزیراعظم پاکستان نے اربوں روپے مختص کرنے کا اعلان کیا اور فی الفور ہر خاندان کےلئے 14 ہزار روپے صرف شناختی کارڈ دکھانے پر تقسیم کیئے جانے لگے، سندھ میں فوج کے ساتھ رینجرز نے اور مقامی پولیس کے اہلکاروں کو بھی راشن تقسیم کرتے ہوئے پاکستانی عوام نے دیکھا ایسے کہتے ہیں کہ عام پاکستانیوں کا درد کیسے اور کیونکر سمجھا جاسکتا ہے اور اْس درد کو دور کرنے کے اسباب اگر مہیا کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے تو اْس فیصلہ کو عملی جامہ کیسے پہنایا جاسکتا ہے مشکل ترین قومی ابتلا وآفات میں اپنی قوم کے نچلے اور پسے ہوئے محروم طبقات کوپیش آئندہ مشکلات کا وقت سے قبل فہم و ادراک کرنےوالے قائد اور لیڈر قوموں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں لہٰذا قوم مطمئن رہے پاکستان اب بہت محفوظ ہاتھوں میں ترقی کی منازل انشاء اللہ ضرور طے کرےگا ۔