- الإعلانات -

ملک بھر میں بتدریج لاک ڈاءون نر م کرنے کاعندیہ

دنیابھر میں کوروناوائرس کی وجہ سے جولاک ڈاءون لگایاگیاتھا اس کو اب نرم کیاجارہاہے، کیونکہ کوئی بھی ملک لگاتار لاک ڈاءون کو برقرار نہیں رکھ سکتا اس کو برقراررکھنے سے بے تحاشہ وسائل پیدا ہورہے ہیں دیگردنیاکی طرح پاکستان بھی اس سے باہر آرہاہے، تاہم اس کےلئے ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمدکیاجائے ۔ یہ صرف ہماری اپنی زندگیوں کےلئے بہترنہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں کےلئے بھی بہتر ہے ۔ چونکہ پاکستان ترقی یافتہ ملک نہیں معاشی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں ، ذراءع آمدن اورذراءع روزگاربھی انتہائی محدود ہیں ۔ ایسے میں اگرلاک ڈاءون جاری رہے گاتو پھر غریب عوام کوروناوائرس سے کم اوربھوک سے زیادہ مرجائیں گے ۔ اسی بات پروزیراعظم عمران خان نے بھی اظہارتشویش کرتے ہوئے پاکستان میں بتدریج لاک ڈاءون ختم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے اور کہا ہے کہ لاک ڈاءون کو آہستہ آہستہ کھولنا ہے، ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو کرونا تیزی سے پھیلے گا، کرونا کی روک تھام اور معاشی روانی میں توازن کی پالیسی چاہتے ہیں ،انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 10لاکھ رضاکاروں پر مشتمل کرونا ریلیف ٹائیگر فورس ملک بھر میں آپریشنل کرنے اعلان کیا،ٹائیگر فورس لوگوں میں کرونا وائرس سے بچاءو کے بارے میں شعور پیدا کرے گی،شرائط پر عمل کرنے کےلئے عوام کو آگاہ کرنا اس رضاکار فورس کا کام ہوگا، کرونا وبا کنٹرول میں ہے اور جلد اس پر مکمل قابو پالیاجائے گا، لاک ڈاءون کی وجہ سے عام آدمی، غریب لوگ، تنخواہ دار اور دیہاڑی دار طبقے پر اثرات پڑے، ایک بہت بڑا طبقہ متاثر ہوا اور سفید پوش طبقہ بھی متاثر ہوا لیکن اس سے نیچے ایک طبقہ برا متاثر ہوا، پہلے بھی مشکلات تھیں لیکن امیر ممالک بھی اس کی زد میں آئے، انتظامیہ اکیلے کچھ نہیں کرسکتی ، ہ میں لوگوں کو بھوک سے بچانا ہے اور کرونا وائرس سے بھی بچانا ہے ۔ پاکستان تحریک کی انصاف کی حکومت نے ٹائیگرفورس کے حوالے سے بھی احسن اقدام اٹھایا ہے گوکہ اپوزیشن نے اس سلسلے میں بہت زیادہ تحفظات کا اظہارکیابلکہ سندھ حکومت نے کچھ زیادہ ہی اس حوالے سے کہاہے لیکن وزیراعظم نے واضح کردیاکہ ٹائیگرفورس کو نہ پیسے ملیں گے نہ کوئی اورمالی سہولیات، وہ کام کرے گی اوربیروزگارافرادکورجسٹرڈ بھی کرے گی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آپ نے کہیں بھی ذخیرہ اندوزی دیکھی تو آپ نے خود کارروائی نہیں کرنی بلکہ انتظامیہ کو بتاناہے وہ کارروائی کرے گی، یہ اختلافات کا وقت نہیں ، قوم کی خدمت وقت کا اہم تقاضا ہے، ہر طبقے کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ، عوامی نمائندوں کیلئے عوام کی خدمت کا بہترین موقع ہے ۔ جمہوریت کاحسن یہی ہوتاہے کہ جمہورکاخیال رکھاجائے اوراسی بات کو پیش نظررکھتے ہوئے وزیراعظم نے اراکین اسمبلی سے کہاہے کہ وہ اپناواسطہ اوررشتہ عوام سے مزید مضبوط بنائیں اور جو بھی حکومت ثمرات فراہم کررہی ہے اس کازیادہ سے زیادہ اثرنچلی سطح تک جاناچاہیے اوراس بات کو یہ عوام کے منتخب نمائندے ہی پایہ تکمیل تک پہنچاسکتے ہیں ۔ کیونکہ جب عوام اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے کسی کو ووٹ دیکرایوان اقتدار میں پہنچاتی ہے تو اس کافرض بنتا ہے کہ وہ کسی صورت بھی اپنے حلقہ عوام کے حقوق کوسلب نہ ہونے دے ۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے درست کہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں ، ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں انتظامیہ کے ساتھ مل کر قیمتوں پر نظر رکھیں ۔ بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے ایتھوپیا کے وزیراعظم ابے احمد علی سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے 2019 کا امن کا نوبل انعام حاصل کرنے پر ایتھوپیا کے وزیراعظم کو مبارک باد دی ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس سے بچا ءوکیلئے بلوچستان کی مکمل مدد کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان کے عوام کی مدد کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ کرونا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کو جاری رکھا جائے ۔ اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی اور ترسیل کو یقینی بنایا جائے ۔

کورونا ازخودنوٹس کی سماعت،چیف جسٹس کے تحفظات

کوروناوائرس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ازخودنوٹس کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمدنے جن تحفظات کا اظہارکیاہے وہ انتہائی اہم ہیں سب سے پہلی بات یہ کہ انہوں نے واضح اوردوٹوک انداز میں کہاکہ تمام ملک میں کوروناوائرس کے حوالے سے یکساں پالیسی اپنائی جائے ۔ یہ بات سو فیصددرست ہے کہ کہیں پرلاک ڈاءون، کہیں پرسمارٹ لاک ڈاءون، کہیں پرنرمی،کہیں پرکاروبارکھلے، کہیں پرفیکٹریاں بند، کہیں پرکچھ صنعتیں کھلیں ،یہ ایک عجیب ہی مخمصے والے فیصلے ہیں کہ جب ایک شہر میں مثال کے طورپرپانچ یادس صنعتیں کھولنے کاحکم دیدیاگیاہے پھرباقی صنعتوں کوبندرکھنے کا کیا جواز پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ سے حالات مزید خراب اورعوام بھی انتہائی پریشان کن حالت میں مبتلاہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمدنے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کسی عمل میں شفافیت نظر نہیں آرہی سمجھ نہیں آرہی ملک میں ہوکیا رہا ہے;238; لگتا ہے سارے کام کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں ، کرونا کے اخرات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات پھر سامنے آئے گی ۔ کسی چیز میں شفافیت نہیں ۔ ماسک اور گلوز کیلئے کتنے پیسے خرچ کرنے کیلئے چاہیے، اگر تھوک میں خریدیں تودو روپے کا ماسک ملتا ہے ۔ ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں ;238;پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جا رہی ہیں ۔ سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہو رہے ہیں ۔ کرونا کے روک تھام سے متعلق اقدامات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے ۔ ہمارا گزشتہ حکم شفافیت سے متعلق تھا اس کو نظر انداز کیا گیا ۔ امید کرتے ہیں کرونا وائرس سے متعلقہ تمام شعبہ کےلئے یکساں پالیسی بنائیں اس کےلئے تمام سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت کی جائے ،عدالت نے حاجی کیمپ کو عدم سہولیات پر قرنطینہ مرکز بنانے اوراس پر آنے والے اخرا جات کی تفصیلات بھی طلب کیں ، سپریم کورٹ نے پشاور میں تمام کلینک ایس او پیز کے مطابق کھولنے کا حکم بھی دیا ۔

پاک فوج کاملک وقوم کادفاع کرنے کاعزم

ترجمان پاک فوج نے بھارتی چیرہ دستیوں کودنیابھرکے سامنے بے نقاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ایل او سی پر بھارتی فوج کی جارحیت بڑھ رہی ہے، بھارتی ملٹری لیڈر شپ کے بیانات غیر سنجیدہ ہیں ،بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر جارحیت کر رہی ہے، ایل او سی پر معصوم شہریوں کو شہید کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں ، یہ بیان کہ پاکستان نے بھارت میں کرونا پھیلایا مضحکہ خیز ہے بھارتی قیادت پاکستان پر بے بنیاد الزام لگا رہی ہے، بھارت اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، لانچ بیڈ سے متعلق بھارتی بیانات بے بنیاد ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت سے دنیا بخوبی آگاہ ہے، عالمی مبصرین کو دعوت ہے آئیں دیکھیں کہاں ہے لانچنگ پیڈ بھارت کے اپنے سیٹلائیٹ ہیں بتائیں کہاں ہیں ثبوت ایل او سی پر اجازت دیتے ہیں ، عالمی مبصرین آئیں اور دورہ کریں ، دنیا بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کا نوٹس لے،بھارت اپنے اندرونی معاملات کو پاکستان سے جوڑ رہا ہے، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں کے جو حالات ہیں دنیا کو توجہ دینی چاہئے، کرتار پور راہداری کے اقدام کو پوری دنیا نے سراہا، ملک و قوم کی خاطر سب کچھ حاضر ہے ۔ قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے ۔ بھارت کا وطیرہ ہے جس بھی کسی مسئلے میں پھنسے الزام پاکستان پر لگاتا ہے ۔ ویکسین کی ایجاد تک ایس او پیز پر عمل کرنا چاہئے ۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ۔