- الإعلانات -

سبزی فروشوں کی شامت

اس کے باوجود کہ امریکی خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ ان کی تفتیش کے مطابق کورونا وائرس نہ تو انسانوں کا بنایا ہوا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جینیاتی تبدیلیاں کی گئی ہے،امریکی صدر ماننے کو تیار نہیں اور وہ اسے چینی ساختہ ثابت کرنے پر بضد ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد اب امریکی سیکریٹری ;200;ف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بھی دعوی کیا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ کورونا وائرس کو چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ۔ مائیک پومپیو نے ;39;اے بی سی دس;39; ویک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ دنیا کو چین کی لیب میں ناکامیوں کے نتیجے میں وائرس کا سامنا کرنا پڑا ہو ۔ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واءٹ ہاس میں گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ وہ شواہد دیکھ چکے ہیں جن کے مطابق کورونا وائرس چین کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ۔ جب ان سے اسکی تفصیلات پوچھی گئیں تو انہوں نے بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں ;200;پ کو یہ نہیں بتا سکتا، مجھے ;200;پ کو یہ بتانے کی اجازت نہیں ہے ۔ تاہم دلچسپ امر یہ کہ ٹرمپ کے بیان کے بعد جب پومپیو سے اس دعوے کی حقیقت کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ یہ بات معلوم نہیں کہ وائرس لیب سے ;200;یا ہے یا نہیں ۔ تاہم چین ان تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت اور بکواس قرار دیا ہے ۔ امریکہ چونکہ اس وباء سے بری طرح متاثرہ ہو چکا ہے، اور ابھی تک اسے یہ واضح نہیں ہو رہا کہ اس پر کب تک قابو پالیا جائے گا ۔ اس بے یقینی کی کیفیت میں امریکی انتظامیہ کی یوں کھلے عام چین پر الزام تراشی شکوک شبہات کو ہوا دے رہی ہے، کہ ;200;خر امریکہ کیا چاہتا ہے ۔ کیا اسکے مقاصد صرف چین کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے یا پھراسے حقیقی معنوں میں کوئی دیگر خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔ دفاعی ماہرین کے نزدیک امریکہ واقعی چین سے خطرے میں مبتلا ہے ۔ اس خطرے کوماہرین;39;توسیڈاءڈز ٹریپ;3939;قرار دیتے ہیں ۔ دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ر)امجد شعب کہتے ہیں کہ;3939;تو سیڈاءڈز ٹریپ;3939; ایک ایسے عمل کا نام ہے جس میں اپنے وقت کی بالادست طاقت یہ خطرہ محسوس کرتی ہے کہ ابھرتی ہوئی طاقت اس کی جگہ لے لے گی اور وہ اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے،ان کا کہنا ہے کہ جب 26 دسمبر 1991 کو سوویت یونین بکھر گیا اور امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور بن کر ابھرا تو امریکہ میں یہ سوچ پروان چڑھنے لگی کہ اب دنیا میں اس کے ;200;گے کوئی نظریاتی حریف نہیں بچا لیکن جس طرح چین تیزی سے ترقی کر رہا ہے تو امریکہ یقینا اس کو اپنے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے اور اس کیلئے وہ کوئی بھی طریقہ کار اپنا کر چین کو لازمی طور پر کمزور کرنے کیلئے مسلسل کوششیں کرتا رہے گا ۔ ایسا خوف ادھر بھارتی حکمرانوں سمیت ہندو انتہا پسندوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔ شاید بھارتی حکمران جماعت بھی توسیڈاءڈز ٹریپ کا شکار ہے ۔ انہیں خوف ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی ;200;بادی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اور جلد وہ طاقت کے ایوانوں میں اہم پوزیشنوں میں پہنچ جائیں گے اور ہندوستان پر ہندوں کی حکمرانی کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ وہ الزام عائدکرتے ہیں کہ مسلمان زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں جو خطرناک ہے ۔ وزیراعظم مودی سے کئی بارمطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی ;200;بادی کو کنٹرول کرنے کےلئے نئے قوانین نافذکئے جائیں ۔ وشوا ہندو پریشد کے ایک رہنما نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر مسلمان دو سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں تو ان کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلنا چاہیے، ساتھ ہی راشن، کام اور تعلیم کی سہولتیں بھی ان سے چھین لینی چاہئیں ۔ گزشتہ برس انتہا پسند ہندو دہلی کے سامنے جمع ہوئے اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے مسلمانوں کی بڑھتی ;200;بادی کو ہی سازش قرار دیا تھا ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلمان ;200;بادی میں اضافہ اس لئے کررہے ہیں کہ بھارت پر قبضہ کر سکیں ۔ کسی نے کہا 2029 میں اس ملک کا وزیراعظم ہندو نہیں مسلمان ہو گا، تو کوئی بولا 2050تک ہندو اکثریت ختم ہو جائے گی ۔ یہی خوف انہیں مسلمانوں کے خلاف انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کرتا ہے،اور وہ مسلمانوں کی نسل کشی پر اتر ;200;تے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں دہلی فسادات کے پیچھے یہی خوف کارفرما تھا ۔ اب کورونا کے ایشو کو لے کر مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ گزشتہ ایک ماہ سے بھارت بھر میں مسلمانوں خصوصا تبلیغی مسلمانوں کی شامت ;200;ئی ہوئی ہے ۔ مسلمانوں سے لینا دینا تک ممنوع ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ چند روز قبل ہی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی اسمبلی کے رکن سریش تیواری نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسلمانوں سے سبزی نہ خریدیں ۔ سریش تیواری نے الزام عائد کیا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا میں ان دنوں مسلمان سبزیوں کو تھوک لگا کر فروخت کر رہے ہیں اور اس سے وبا پھیلنے کا خطرہ ہے ۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی کی جانب سے عوام کو مسلمانوں سے سبزیاں نہ خریدنے کی ہدایات سے کچھ دن قبل ہی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک سبزی فروش مسلمان کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ پیش ;200;یا تھا ۔ نئی دہلی میں سبزی فروش مسلمان کو اس وقت ایک شخص نے تشدد کا نشانہ بنایا جب تشدد کرنےوالے نے سبزی خریدنے سے قبل سبزی فروش سے نام پوچھا تھا ۔ نئی دہلی میں ہونے والے اس واقعہ سے قبل ریاست جارکھنڈ کے شہر جمشید پور بھی انتہا پسند ہندو جماعت وشوا ہندو پریشد کے ارکان نے شہر کے پھل اور سبزی فروشوں کی دکانوں اور ٹھیلوں کے باہر ان کے عقائد سے متعلق پوسٹرز ;200;ویزاں کردیے تھے ۔ یہ معاملہ بس یہیں تک نہیں رکتا بلکہ بات اس سے بھی ;200;گے بڑھ چکی ہے ۔ مودی کے شہر گجرات کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی ہسپتال اور طبی عملے کی طرف سے مسلمان مریضوں کے ساتھ ان کے مذہب کی بنیاد پر تفریق کے واقعات سامنے ;200;ئے ہیں ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جھارکھنڈ کے شہر جمشید پور میں ایک 30 سالہ مسلم خاتون نے الزام لگایا ہے کہ مقامی سرکاری ہسپتال میں ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور مذہب سے جوڑ کر گالیاں دی گئی ۔ اس معاملے پر انہوں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین کو خط بھی لکھ ڈالا ۔ اسی طرح اترپردیش کے شہر میرٹھ میں ایک نجی کینسر ہسپتال کے بارے میڈیا پر یہ خبر سامنے ;200;ئی کہ ہسپتال نے باضابطہ ایک اشتہار جاری کر کے کہا کہ وہ ایسے مسلمان مریضوں کا علاج نہیں کریں گے جن کے پاس کورونا کا ٹیسٹ منفی ;200;نے کی رپورٹ نہیں ہو گی ۔ اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر کا ماننا تھا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا، تقسیم کے وقت بھی ایسا ہوا تھا ۔ بعد میں بھی ایسے معاملات دیکھنے کو ملے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ دراصل، ڈاکٹروں کو بھلے ہی بھگوان کا روپ مانا جاتا ہو لیکن سچائی یہ ہے کہ ہم عام لوگوں سے کم فرقہ پرست نہیں ہیں بلکہ طبی صنعت بہت حد تک تفریق اور امتیاز پر قائم ہے ۔ اس ڈاکٹر نے یقینی طور پر اس بھیانک حقیقت سے پردہ اٹھا ہے جسکی جھلک جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے ۔ ارون دھتی رائے بھارت کی معروف مصنفہ اور بے لاگ تجزیہ نگار ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جا رہے سلوک پر مودی حکومت کو براہ راست مورد الزام ٹھہرایا ہے ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس وقت کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں بھارت میں وبائی مرض کی ;200;ڑ میں جو صورت حال کشیدہ ہو رہی ہے اس میں پوری دنیا کو بھارت کے بدلتے حالات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ بھارتی مصنفہ نے کہا کہ وبا کی ;200;ڑ میں بھارتی حکومت نوجوان طلبہ کو گرفتار کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ وکلا، سیاسی اور سماجی کارکنوں اور دانشوروں کے خلاف مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں ۔ بھارت میں اصل امتحان نفرت اور بھوک کا ہے ۔ اس سے قبل ایک امریکی اخبار نے بھی لکھا کہ اتر پردیش میں مسلمان سبزی فروشوں کو شکایت ہے کہ آر ایس ایس کے انتہا پسند لوگوں کو ان سے خریداری نہیں کرنے دیتے بلکہ افواہ پھیلاتے ہیں کہ مسلمان کورونا وائرس پھیلاتے ہیں ۔ کورونا وائرس کو لیکر تبلیغی جماعت کا معاملہ سامنے ;200;نے کے بعد سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں اور نفرت کا اثر بھارت کے مختلف حصوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ کہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے سبزی والے کو گلی میں گھسنے نہیں دیا جا رہا، کہیں ان سے ;200;دھار کارڈ مانگا جا رہا، کہیں زبردستی لوگوں نے مسلمانوں کی دکانیں بند کرا دی ہیں تو کہیں ہندو پھیری والوں کے ٹھیلے پر بھگوا جھنڈا لگا دیا جا رہا تاکہ اس کی پہچان کی جا سکے ۔ کورونا بحران کے دوران مسلمانوں کےخلاف سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی نفرت کی وجہ سے کئی تشویش ناک خبریں ;200; رہی ہیں ۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا کہ جو متعصبانہ رویہ بھارت نے اپنی اقلیتوں سے روا رکھا ہوا ہے ،ایسا اگر کسی مسلمان ملک میں ہو رہا ہوتا تو اب تک بین الاقوامی برادری ;200;سمان سر پر اٹھا چکی ہوتی، چونکہ عالمی برادری کےلئے بھارت ایک بڑی انسانی منڈی ہے اس ناطے سب نے چشم پوشی کر رکھی ہے ۔