- الإعلانات -

کوروناکاوبال اوراپنے اعمال

کوروناکی وباء پراب تک بہت کچھ لکھاجاچکا ہے میں نہ لکھتا توبھی فرق کچھ نہ پڑتا مگرانسانی بدلتے ہوئے رویوں نے لکھنے پرمجبور کردیا نہ نظرآنے والے اس چھوٹے سے وائرس نے دنیا کی سپرپاورز کورب العالمین کے سامنے سرجھکانے پرمجبور کردیا ۔ امریکہ جیسے ملک میں تاریخ میں پہلی مسلمانوں کو لاءوں سپیکرکے ذریعے اذان دینے کی سرکاری سطح پراجازت دی گئی ۔ واءٹ ہاءوس، 10ڈاءوئنگ سٹریٹ اورچین سمیت ان تمام ممالک میں مسلمان کمیونٹی سے درخواست کی گئی کہ اللہ رب العالمین سے دعا کی جائے کہ اس وباء سے انسانیت کوچھٹکارا مل سکے یعنی ان ممالک میں بسنے والے مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد کواسلام کی حقانیت پریقین آگیا ہے ۔ یقین تو صدیوں پہلے مکہ کے سردار عمربن ہشام کو بھی تھا جسے دنیا آج ابوجہل کے نام سے یاد کرتی ہے اسے یقین تھا کہ محمدبن عبداللہ ،اللہ کے سچے نبی اورسول ہیں اور ان کالایا ہوا دین اسلام حقانیت پرمبنی ہے مگر اس کی جاہلیت اور سرداری کے غرور اورتکبرنے اسے یہ بات تسلیم نہ کرنے دی ۔ کورونا نے جہاں ایک طرف خدا کی وحدانیت کو تسلیم کرنے پرمجبور کردیا ہے تو دوسری جانب بہت سارے انسانوں کے اصل روپ بھی سب کو دکھادیئے ۔ یار عزیز ہارون شاہ برسوں سے انگلینڈ کے شہرمانچسٹر میں مقیم ہے شادی سے پہلے اس کاڈیرہ انگلینڈ آنے والے نئے پاکستانیوں کی قیام گاہ ہوا کرتاتھا کورونا کے حوالے سے ہارون سے بات ہوئی تو کہنے لگا حکومتی سطح پرکئے جانے والے اقدامات بہترین ہیں جبکہ کمیونٹی بھی کھل کرامداد کررہی ہے اشیائے خوردونوش کامسئلہ نہیں شہریوں کو سب کچھ گھرپردستیاب ہے ۔ عزیزم سلمان خان اٹلی کے شہرمیلانو میں مقیم ہیں وہاں کی ایک یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں ان سے کورونا کے متعلق بات ہوئی تو کہنے لگے کہ ایک فلیٹ کے اندراپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ مقیم ہوں یونیورسٹی نے فیس معاف کردینے کا اعلان کردیا ہے اورجمع شدہ فیسیں واپس لوٹادی ہیں ۔ کھانا پینا اوردیگرخوراک کی ذمہ داری کمیونٹی نے اٹھارکھی ہے کوئی مسئلہ فکریاپریشانی نہ ہے ۔ عزیزم فوادخان آسٹریلیا کے شہرمیلبورن میں مقیم ہیں ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں پارٹ ٹائم میں ملازمت کرکے اپناگزارا چلاتے ہیں نوشہرہ سے بنیادی تعلق ہے ڈگری لینے کے بعدوہیں مقیم ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں ان سے کورونا کے حوالے سے بات ہوئی توتقریباً وہی جواب ملا جواٹلی میں مقیم عزیزم سلمان خان نے دیاتھا ۔ فوادخان سے پوچھا کہ کورونا کی وباء اوردیارغیرکوئی فکر;238; کوئی مسئلہ;238; کوئی پریشانی;238; جواب ملا اپنے گھر سے بڑھ کرآرام میں ہوں آپ فکرمندنہ ہوں ڈاکٹر سید سبطین نقوی پولینڈ میں مقیم ہیں وہیں سے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ۔ گزشتہ بتیس سالوں سے دوستی نیازمندی اورپیری مریدی کاسلسلہ چلا آرہا ہے کچھ بیرون ملک کے دورے بھی اکٹھے کئے ان سے پوچھا کہ کورونا نے پولینڈ پرکیاستم ڈھائے ہیں کہنے لگے بیماری کامقابلہ حکومت اورکمیونٹی ملکر کررہے ہیں کوئی فکر مسئلہ یاپریشانی نہیں ہے ۔ عرفان بھائی اپنی فیملی کے ساتھ گزشتہ تیس سالوں سے امریکہ کے شہرنیویارک میں مقیم ہیں پیشہ کے اعتبار سے انجینئر ہیں مگر رئیل اسٹیٹ کے کاروبارسے منسلک ہیں ان کے بھائی ریحان جاوید سبھی وہیں مقیم ہیں اوراپنے اپنے کاروبار کے ساتھ منسلک ہیں ۔ عرفان اور میں اسلام آباد کے سب سے اچھے ماڈل کالج میں کلاس فیلو ہیں ۔ میجر خورشیدآصف عباسی مرحوم ،نعیم بھائی، خالدخان خٹک، خالد رسول، منصور ہم سب مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے تھے مگرایک ہی گروپ کاحصہ تھے ۔ بات کورونا کی ہورہی تھی عرفان سے پوچھا تو اس نے لاجواب کردیا کہ دنیا میں امریکہ کی حکمرانی ایسے تو قائم نہیں ہے عوام اور حکومت دونوں ملکر اس وباء سے لڑرہے ہیں نہ ٹماٹر کے ریٹ چڑھے ،نہ پیاز مہنگی ہوئی میں ان سارے دوستوں سے بات کرکے جھوٹ بولتارہا کہ ہمارے ہاں بھی سب اچھا ہے میں نے انہیں نہیں بتایا کہ پانچ روپے والاماسلک پچاس روپے میں بک رہا ہے پچاس روپے میں فروخت ہونے والاسینیٹائزر 250تک بلیک میں بک رہاہے ، لاک ڈاءون کے دوران مختلف ناکوں پرکھڑے ہوئے پولیس والے ہزار روپے فی گاڑی وصول کرکے اپنا ایمان تازہ کررہے ہیں صابن کی قیمت میں راتوں رات سوگنا اضافہ ہوگیا ہے میں انہیں کچھ بھی نہیں بتاسکا مگرمیراضمیر مجھے ملامت کررہاہے کہ مجھے سچ بتانا چاہیے تھا ۔ ایک دوست نے بتایا کہ لاک ڈاءون کے دنوں میں اس نے اپنی گاڑی کے ذریعے ساڑھے تین لاکھ روپے کمالیا ہے میانوالی سے اسلام آباد نارمل دنوں میں کرایہ 11سوروپے فی کس وصول کیاجاتاتھا (بذریعہ کار) اب پٹرول کی قیمتیں گرچکی ہیں مگر کرایہ دوہزار روپے فی کس وصول کیاجارہا ہے ۔ ایس کے این ٹرسٹ اورالخدمت والے اپنے طورپر غریب عوام کی مدد میں مصروف ہیں ۔ میرے ایک دوست نے چند روز پہلے رازدارانہ انداز میں بتایا کہ ایک ماہ کے دوران ایک کروڑ روپے کمائے ہیں مگر وہ اس بات پررنجیدہ تھا کہ بیت اللہ کاطواف رک گیا ہے میں نے اس کی بات سن کرکہاکہ حاجی صاحب !اکعبہ کے گرد چکرلگانے سے اللہ کو چکر نہیں دیاجاسکتا اللہ ہردل کے اندر ہے اس کی مخلوق کورازی کرلوتو وہ خودبخودراضی ہوجائے گا ۔