- الإعلانات -

فاقہ کشی پر مجبور افراد کےلئے معاشی تحفظ

اکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اپنے علاقوں کو چھوڑ کر دوسرے شہروں میں روزگار کےلئے کام کرنے والے قریب 45 فیصد مزدور یا نوکری پیشہ افراد غیر رجسٹرڈ ہیں جس کا مطلب ہے کہ تیس لاکھ سے زائد افراد کی نوکریاں یا ذراءع آمدن ختم ہو سکتا ہے ۔ توقع ہے کہ ان میں سے کچھ خاندان احساس پروگرام کے ذریعے مستفید ہوں گے ۔ ایک بات تو طے ہے کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ سماجی تحفظ کے اس پروگرام میں شفافیت اولین ترجیح ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم کو یقین دلایا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت غریب مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی فراہمی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر شفاف اور غیرسیاسی انداز میں کی جائیگی ۔ ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ 8171 اسکیم میں کیٹگری 1 اور 2 کی امداد 2010ء کے سروے پر دی جا رہی ہے ۔ 2010ء میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن عامہ نہ ہونے کی وجہ سے سروے نہیں ہوا تھا ۔ احساس ایمرجنسی کیش کی کیٹگری 3 میں وزیرستان کا حصہ آبادی کے لحاظ سے ہے ۔ 8171 اسکیم کے تحت شمالی وزیرستان سے 61 ہزار 164 اور جنوبی وزیرستان سے 62 ہزار 499 ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں جن کی جانچ پڑتال جاری ہے ۔ کیٹگری 3 میں تمام صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشیر کا حصہ آبادی کے لحاظ سے رکھا گیا ہے اور مستحقین کی نشاندہی نادرا کے ڈیٹا اینالٹکس کے ذریعے کی جا رہی ہے ۔ احساس پروگرام شفافیت کے لحاظ سے تاریخی پروگرام ہے ۔ مستحقین کو ملنے والے والی رقم کی تفصیلات ویب ساءٹ پر موجود ہے ۔ اگر کسی کے شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو گئی ہے تب بھی وہ اپنی رقم وصول کر سکتے ہیں ۔ 8 لاکھ سے زائد لوگوں کو فہرست سے نکالا بھی ہے کیونکہ وہ مستحق نہیں تھے ۔ مستحقین کو ملنے والی رقم کی شفافیت کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ فلاحی منصوبوں میں کسی قسم کی سیاست کا عمل دخل نہیں ۔ اگر کسی نے مسیج نہیں کیا وہ راشن کے پورٹل پر جا کر درخواست دے سکتے ہیں ۔ احساس ایمر جنسی کیش کے کل 14کروڑ 64لاکھ ایس ایم ایس آئے جن میں سے 4کروڑ 64لاکھ ایس ایم ایس مستند قرار پائے ۔ احساس انفارمیشن پورٹل کی بدولت کوئی بھی شخص ملک بھر کے کسی بھی ضلع اور تحصیل کی سطح تک احساس ایمرجنسی کیش سے استفادہ کرنے والے خاندانوں کی تعداد اور اب تک تقسیم کی جانےوالی رقم کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے گا ۔ پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنانے کےلئے احساس ایمرجنسی کیش انفارمیشن پورٹل پر یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ احساس کے شراکت دار بینکوں کو اس پروگرام کے سلسلے میں مستحق صارفین کو دینے کےلئے کتنی رقم جاری کی گئی اور کتنے صارفین نے یہ رقم نکلوا لی ۔ بے شک کرونا کے مریضوں کی تعداد ابھی اتنی زیادہ نہیں کہ انکے علاج معالجہ اور لواحقین کی کفالت کیلئے دستیاب فنڈز ناکافی ثابت ہوں تاہم آگے جو گھمبیر صورتحال پیدا ہوتی نظر آرہی ہے وہ لوگوں کو بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بچانے کی ہے ۔ کرونا ریلیف فنڈ میں وصول ہونیوالی رقوم تمام متاثرین کا مکمل ڈیٹا حاصل کرکے سلیقے اور شفافیت کے ساتھ استعمال کرنا ہوں گی اور انہیں اللے تللوں پر لٹانے والے ہمارے روایتی کلچر سے بچانا ہوگا ۔ کچھ ناعاقبت اندیش افراد احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت غریب طبقے کو امداد کی فراہمی کے دوران رقوم کی چوری میں بھی ملوث پائے گئے ہیں ۔ جن میں سے 72 افراد کیخلاف 64 ایف آئی آرز درج کر لی گئی ہیں ۔ پنجاب میں ایسے 36 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ سندھ میں 26، خیبر پختونخوا میں 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کا کہنا ہے کہ غریبوں کو تقسیم کی جانیوالی رقم لوٹنے والوں سے حکومت آہنی ہاتھوں سے نبٹے گی ۔ ہم درج کیے گئے ایسے مقدمات کا پتہ چلا رہے ہیں جس کے بعد فراڈ کرنیوالوں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔ احساس ہیلپ لائن پر روزانہ 15 سو شکایات کو سنا جارہا ہے ۔ مسلسل لاک ڈاوَن سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور پاکستان اس وبا سے محفوظ نہیں ہے ۔ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے کورونا وائرس کی وجہ سے کیے جانے والے لاک ڈاوَن سے متاثرہ آبادی کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے آٹھ سو ارب کے تاریخی پیکج کا اعلان کیا ۔ کورونا وائرس میں لاک ڈاوَن کی وجہ سے پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا غریب طبقہ ہے جن کا کاروبار ختم ہو کر رہ گیا ۔ حکومت نے انہی مستحق افراد کی مدد کےلئے بارہ ملین بیس لاکھ سے زائد خاندانوں کو بارہ ہزار روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا جس کو احساس کیش پروگرام کا نام دیا ۔ حکومت پاکستان نے ڈیٹا کے ذریعے ایک مربوط نظام بنایا ہے تاکہ مستحق افراد کو یہ پیسے دیے جا سکیں ۔ مستحق افراد اپنا شناختی کارڈر نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کے ذریعے بھیج سکتے ہیں ۔