- الإعلانات -

بھارت۔۔۔ مہم جوئی کی تاک میں

ہندوستانی حکمرانوں نے عرصہ دراز سے پاکستان کے خلاف جو بے بنیاد الزام تراشی شروع کر رکھی ہے، وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ اسی تناظر پاکستان کے عسکری ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بجا طور پر کہا ہے کہ بھارت کی فوجی قیادت کے بیانات انتہائی غیر سنجیدہ ہیں ۔ مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ بندی لائن کی خلاف ورزیاں بھارت کا معمول بن چکا ہے اور ایسے ایسے بے سر و پا بیانات دیئے جا رہے ہیں جو مضحکہ خیز حد تک لغو قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔ پاکستان نے تو ایک بار پھر دعوت دی ہے کہ بین الاقوامی مبصرین آئیں اور لائن آف کنٹرول کا جائزہ لیں ۔ ماہرین نے اس امر کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت آنےوالے دنوں کسی بڑی مہم جوئی کا مرتکب ہو سکتا ہے ۔ مبصرین کے مطابق سبھی جانتے ہیں پندرہ برس قبل 2005 میں موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی کیونکہ 2002 میں مودی کی وزارت اعلیٰ میں بھارتی صوبہ گجرات میں آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی تھی جس میں ہزاروں مسلمانوں کو زندہ رہنے کے بنیادی انسانی حق سے محروم کیا گیا تھا ۔ یوں اس واقعے کے بعد امریکہ کی جانب سے نریندر مودی پر امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی، پابندی کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ موجودہ بھارتی وزیراعظم اور اس وقت کے وزیراعلیٰ گجرات نے اپنی نگرانی میں گجرات کے گودھرا و دیگر علاقوں میں مسلم کش فسادات کرائے تھے اور عالمی برادری کے دباءو کے باوجود مجرموں کےخلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ انھیں اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز کر دیا گیا ۔ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارت کے سیکولر ازم کے تمام تر دعووں کے باوجود بائیس کروڑ کے قریب ہندوستانی مسلمان آج بھی دوسرے ہی نہیں بلکہ تیسرے درجے کے شہری کے طور پر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ یاد رہے کہ مودی کے پہلی بار برسر اقتدار آنے یعنی 2014 کے بھارتی انتخابی نتاءج سے لے کر اب تک صرف اترپردیش میں 1625 چھوٹے بڑے مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی ، بابری مسجد، مالیگاءوں بم دھماکے، دادری قتل عام، گراہم سٹینلے کیس سمیت بہت سے واقعات مودی سرکار کے دامن پر سیاہ دھبوں کی مانند ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظی میں مودی پر امریکہ داخلے پر عائد پابندی کے واقعے کو 15 برس گزرنے پر مطالبہ کر رہی ہیں کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقلیت کش پالیسیوں کی وجہ سے بھارت پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جائیں ۔ علاوہ ازیں بھارت کے طول و عرض میں دہلی کے معروف وکیل اور اعتدال پسند دانشور کے طور پر جانے جانیوالے پرشانت بھوشن اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام کے ٹویٹ پر طوفان بپا ہو چکا ہے، بھارتی فوج، آر ایس ایس اور بی جے پی کے کئی اہلکاروں نے ان کیخلاف ایف آئی آر درج کرا دی ہے ۔ کئی اتنہا پسند ہندوءوں کی جانب سے پرشانت بھوشن کو قتل کی دھمکی دی گئی ہے جس کے بعد ان کی سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز پرشانت بھوشن نے ٹویٹ کیا کہ ’’بھارت میں لاک ڈاءون کی وجہ سے کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے، 14 کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں ، جی ڈی پی میں نمایاں کمی کا احتمال ہے مگر بھارت کی ہندو نیشنلسٹ مودی سرکار دور درشن پر رامائن اور مہابھارت جیسے ڈراموں کی نشریات شروع کر کے لوگوں کو افیون کھلا رہی ہے‘‘ ۔ ان کیخلاف درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں غداری اور سرکاری معاملات پر بلاوجہ تبصرہ کا موقف اختیار کیا گیا ہے ۔ پرشانت بھوشن اس سے پہلے یہ ٹویٹ بھی کرچکے ہیں کہ ’’اگر کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو انھیں ان کی مرضی کے مطابق علیحدہ کر دیا جائے‘‘ ۔ یاد رہے کہ پرشانت بھوشن کا خود شمار بھارت کے چوٹی کے وکیلوں میں ہوتا ہے بلکہ ان کے والد شانتی بھوشن واجپائی دور میں وزیر قانون رہ چکے ہیں ۔ جبکہ ڈاکٹر ظفر الاسلام کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ہندوستانی مسلمانوں کیلئے آواز اٹھانے پر کویت کا شکریہ، بھارتی مسلمانوں کو اس وقت ہندو اکثریت کی جانب سے جارحیت، موب لنچنگ، مسلم کش فسادات اور نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس اکثریت کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ ابھی تک مسلمانوں نے ان کے خلاف جانے کا فیصلہ نہیں کیا، جس دن ایسا ہوا اس اکثریت کو ایک ایوالانچ کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے ملبے تلے ان کےلئے حرکت کرنا بھی دشوار ہو جائیگا ‘‘ ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے بھارت میں مسلمانوں کی مسلسل نسل کشی کیخلاف عرب ممالک کو خط لکھا تھا جس میں اپیل کی تھی کہ وہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو درپیش جان کے خطرے کے خلاف حرکت میں آئیں ۔ حسب توقع ڈاکٹر ظفر الاسلام کی اس جرات مندی پر پورا بھارتی میڈیا ان پر چڑھ دوڑا، انھیں غدار کے لقب تک سے نواز دیا گیا ۔ بی جے پی کے مرکزی ترجمان سمِت پاترا نے ان کے خلاف لغو بیانی کرتے کہا کہ ’’بھارتی مسلمانوں کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ انھیں یہاں رہنے کی اجازت دی گئی ہے ، ظفر الاسلام جیسے لوگوں کو ایسے اقدامات کے نتاءج بہرحال بھگتنا پڑیں گے ۔ اگر مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنے پر زیادہ مسئلہ ہے تو ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ پاکستان چلے جائیں ۔ اس پر ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ میں نے اپنے حق گوئی پر مبنی ٹویٹ پر معذرت نہیں کی اور نہ ہی اسے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے حذف کیا ہے ۔ بھارتی میڈیا نے میرے ٹویٹ پر ایک ہنگامہ برپا کر دیا اور مجھے انتہا پسند ہندوءوں کی جانب سے لاتعداد دھمکیاں موصول ہوئیں ۔ بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حلقے نے اپنے طور پر یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ میں نے ٹویٹ پر معذرت کرتے ہوئے اسے حذف کر دیا ہے ۔ میں اپنے خیالات اور نظریے پر قائم ہوں ، اب اور مستقبل میں بھی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی سیاست کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھوں گا، یہ ایف آئی آر، گرفتاری، قتل کی دھمکیاں اور جیل کی صعوبتیں اس راستے کو تبدیل نہیں کر سکیں جو میں نے ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو بچانے کیلئے منتخب کیا ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ایک طرف پوری دنیا کرونا وائرس کیخلاف نبرد آزما ہے تو دوسری جانب انتہا پسند ہندو انتہا ]پسند بھارتی مسلمانوں پر زندگی حرام کئے ہوئے ہیں ، کہیں پوسٹر کے ذریعے، کہیں سوشل میڈیا پر اور کہیں بورڈ لگا کر مسلمانوں کیخلاف تحریریں لکھی جا رہی ہیں ۔ ہندوستان کے طول و عرض میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر بدترین امتیازی سلوک آج بھی جاری ہے ۔ گزشتہ روز اتر پردیش میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی نے سر عام ہندوءوں سے مسلمانوں سے سبزیاں اور فروٹ نہ خریدنے کی اپیل کی تھی، اس کے بعد مدھیہ پردیش کے پیلم پور گاءوں میں ایک بل بورڈ لگا دیا گیا جس پر لکھا ہے کہ مسلمان تاجروں کو گاءوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، جو مسلمانوں یہاں نظر آیا وہ اپنے انجام کا ذمہ دار خود ہو گا ۔ پوسٹر کے وائرل ہونے کے بعد اعتدال پسند حلقوں نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت پر تنقید شروع کر دی ۔ بات زیادہ بڑھنے پر مدھیہ پردیش پولیس نے بل بورڈ کو اتار دیا اور نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا مگر انسان دوست حلقوں نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار ہندوءوں کے خلاف بھی حسب سابق کوئی کاروائی نہیں کی جائےگی ۔