- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کے کلیدی فیصلے

حکومت چاہتی ہے کہ لاک ڈاءون کو ختم کردیاجائے، یاپھراس میں حتی الامکان نرمی کی جائے اس سلسلے میں تقریباً وفاقی کابینہ میں اتفاق ہوچکا ہے ،وزیراعظم بھی چاہتے ہیں کہ کاروباری پابندیاں ختم کی جائیں کیونکہ ہماری معیشت اس بات کی اجازت نہیں دیتی، کورونا وائرس سے توشایدخدانخواستہ کم لوگ مریں لیکن بھوک اورافلاس سے بہت زیادہ لو گ لقمہ اجل بن سکتے ہیں ۔ حکومت عملی طورپربھی اس منصوبے پرکام کررہی ہے کہ ہرغریب تک کسی نہ کسی صورت اس کی متعین کردہ امداد پہنچ سکے اس سلسلے میں اس نے ٹائیگرفورس کابھی ایک لشکر تیا ر کیاہے جو ہرطرح سے متعلقہ اداروں کامعاون ثابت ہوگا ۔ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم من حیث القوم کوروناوائرس کے حوالے سے جو حدودوقیود مقررکی گئی ہیں اس پر ہرصورت عملدرآمدکریں بصورت دیگرخطرناک صورتحال کاسامنا کرناپڑسکتاہے کیونکہ اب اس وائرس کے حملے کے بعد دنیابھرکی زندگی، کاروبار،رہن سہن، میل جول، ملاقاتیں غرضیکہ زندگی کا ہراقدام ایک نئے انداز سے متعارف ہوگا ۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ لاک ڈاءون میں نرمی کرنے کامقصد یہ نہیں کہ کوروناوائرس پرقابوپالیاہے ۔ ابھی فی الحال ہ میں اس وائرس کے ساتھ رہنے کاعادی ہوناہوگا اوراس عادت کواپنانے کے لئے سماجی فاصلے اوردیگراحتیاط اپنانا انتہائی ضروری ہے ۔ اسی سلسلے میں وفاقی کابینہ نے کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کیلئے جاری لاک ڈاون میں نرمی کرنے کا مشورہ دے دیا ہے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک بھر میں ٹرین سروس شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا، اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ نے بھارت سے 429 ضروری ادویات درآمد کرنے کی تجویز مسترد کردی جبکہ اس حوالے سے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ کشمیر میں بھارت مظالم ڈھارہا ہے لہٰذا ایسے ملک سے تجارت نہیں ہوسکتی، وفاقی کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا، کابینہ نے دو ماہ تک بغیر وارنشنگ کے نوٹ چھاپنے کیلئے سمری موخر کردی اور ارکان نے رائے دی کہ بغیر وارنشنگ کے لگے گا کہ جعلی نوٹ چھاپے گئے ہیں ، جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ لاک ڈاءون ختم ہونا چاہیے تاہم احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، کاروبارتو کھل جائیں گے لیکن طے کردہ ضابطہ کار پرعملدرآمد بھی کرانا ہوگا،کرونا وائرس کو پھیلنا ہے، عوام احتیاط کریں ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کرونا ریلیف فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا، تمام وفاقی وزرا، مشیر، معاونین خصوصی اپنی تنخواہ وزیراعظم ریلیف فنڈ میں دیں گے، اپوزیشن کرونا پر سیاست کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم نے کریمنل جسٹس سسٹم سے متعلق اصلاحات کو مکمل کرنے، تھانوں کے ماحول کو بہتر اور عوام دوست بنانے کی ہدایت کی، وفاقی کابینہ نے ملک میں تیار ہینڈ سینیٹائزرز کو برآمد کرنے کی اجازت بھی دی،کرونا وائرس کے خلاف جنگ گھر میں بیٹھ کر جیت سکتے ہیں ، لاک ڈاون پر وفاقی اور سندھ میں اختلافات سے متعلق سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے خود مختار ہیں اور وفاقی حکومت صرف پالیسی گائیڈ لائن دے سکتی ہے، پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک ہے ۔ امیر لوگ تو گزارا کر لیں گے، لیکن غریب کیا کرے گا ۔ علاوہ ازیں و فاقی کابینہ نے قومی اقلیتی کمیشن کی منظوری دے دی ۔ ایسے دگرگوں حالات میں جب قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہوتو سیاستدانوں کوچاہیے کہ وہ کسی بھی مسئلے پر سیات نہ کریں چاہے حکومت ہویا اپوزیشن ،انہیں چاہیے کہ مل جل کرایک پلیٹ فارم پرمتحد ہوکر اس وباء کے خلاف اقدامات میں ایک دوسرے سے تعاو ن کریں مگردیکھنے میں یہ آرہاہے کہ یہاں پرایک دوسرے پرسیاسی برچھے برسائے جارہے ہیں جوکہ کسی صورت بھی فائدہ مندنہیں ۔ ادھردوسری جانب بھارت کی طرف سے جوایل او سی کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں ایسی صورتحال میں کیونکرممکن ہے کہ پاک بھارت تجارتی پینگیں بڑھ سکیں ۔ لہٰذا دنیا کو چاہیے کہ و ہ بھارت کو لگام ڈالے تاکہ خطے میں امن وامان قائم رہ سکے ۔

ایل اوسی پر بھارت کی پھربلا اشتعال فائرنگ

لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے پھر بلا اشتعال فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تین خواتین سمیت 7 شہری زخمی ہو گئے، سیز فائر لائن سماہنی سیکٹر میں قابض بھارتی فوج کی سویلین ;200;بادی پر رمضان المبارک میں نہتے روزہ داروں پر گولہ باری جاری ہے، مقامی مسجد کی چھت پر گولہ گرنے سے مسجد کی چھت میں سوراخ ہو گیا لوگوں کی قیمتی املاک تباہ مال مویشی بھی زخمی ہوئے، فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ، بھارتی جارحیت کے خلاف موثر ;200;واز اٹھائی جائے، نہتے سویلین افراد کو نشانہ بنانے پر انسانی حقوق کی عالمی تنظی میں اقوام متحدہ نوٹس لے ۔ دوسری جانب سینئر بھارتی سفارتکار کو دفترخارجہ طلب کرکے فائرنگ کے واقعہ پر پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ۔ ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق احتجاجی مراسلہ بھارتی سینئر سفارتکار کے حوالے کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باءونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے ;200;رٹلری بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری ;200;بادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں ۔ شہری ;200;بادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا افسوسناک انسانی عظمت و وقار عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے منافی ہے ۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 957 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں کی ہیں ۔ بھارت 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے ۔ ادھرپاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں دراندازی سے متعلق بھارتی الزام مسترد کر دیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالے ،پرتشدد واقعات ایل او سی کوسوں دور بھارتی فوج کی بغل میں ہو رہے ہیں ،مقبوضہ کشمیر کے عوام 9ماہ سے غیر قانونی بھارتی محاصرے میں ہیں ۔ مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے کورونا کے باوجود کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے پاکستان کشمیر یوں پر مظالم پوری دنیا میں اجاگر کر رہا ہے ۔ بھارت اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کیلئے الزام تراشی کرتا ہے لیکن وہ دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتا ۔ عالمی برادری بھارت کے جنگجویانہ رویہ کا نوٹس لے جو خطہ اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے ۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کے لئے امداد

ایشیائی ترقیاتی بینک کرونا وباء سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو ساڑھے 30 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا ۔ وزارت منصوبہ بندی میں کنسیپٹ کلیئرنس کمیٹی کے اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر مس شیاوہنگ یانگ اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں کرونا سے نمٹنے کیلئے ساڑھے 30 کروڑ ڈالر کی ایمرجنسی امداد کی منظوری دی گئی ۔ ا جلاس کو بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو 20 کروڑ ڈالرغریب اور کمزور طبقات کے تحفظ کیلئے فراہم کرے گا ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے ساڑھے 10 کروڑ ڈالر ایمرجنسی اقدامات کی تیاری کیلئے فراہم کیے جائیں گے ۔ رقم وفاق کی طرف سے صوبوں اور خصوصی علاقہ جات میں گرانٹ کے طور پر دی جائے گی ۔ حکومت کرونا وباء سے بلاواسطہ متاثر ہونےوالے افراد کو ریلیف پہنچانے کیلئے کوشاں ہے، سکیم کے تحت ملک میں صحت سے متعلق سٹاک کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی،رقم حفاظتی لباس اور آلات کی فراہمی کیلئے استعمال کی جاسکے گی ۔ ادھر پاکستان نے قرضوں میں ریلیف کیلئے 20 بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کے گروپ (جی 20) سے باضابطہ درخواست کر دی ۔ پاکستان کی جانب سے قرضے کی قسط موخر کرنے کی درخواست کرونا کی صورتحال دیکھتے ہوئے کی گئی ہے ۔ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی قسط رواں سال دسمبر تک موخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ قرضے کی قسط موخر ہونے کی صورت میں پاکستان رواں سال دسمبر تک نئے قرض حاصل نہیں کر سکے گا جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (;200;ئی ایم ایف) سے قرض اس پابندی سے مستثنیٰ ہو گا ۔