- الإعلانات -

نگیٹو ۔ ۔ پازیٹو ۔ ۔ دونوں کے معنی بدل گئے

احبو، ہر دور میں کچھ الفاظ کے معنی لغات میں تو وہی رہتے ہیں مگر عوام کے ساتھ ساتھ صاحب علم لوگوں کے اندازِ بیان اور تحاریر میں بھی ان کے معنی بدل جاتے ہیں ، ویسے توزبان کوئی بھی ہو اس کے الفاظ میں اضافے اور مفاہیم کی تبدیل کا ایک مسلسل عمل جاری رہتا ہے، بلکہ بعض اوقات تو کوئی ایک لفظ ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہوتے وقت اپنے اصل معنی وہیں چھوڑ آتا ہے اور دوسری زبان میں ایک بالکل مختلف معانی میں استعمال ہونے لگتا ہے ۔ جیسے عربی زبان کے دو الفاظ مقعد اور قارورہ ۔ خیر، ان کی تفصیل میں ہم پھر کبھی جائیں گے کیونکہ کرونا ئی دور میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے کالم کسی قدر شگفتہ یا ہلکے پھلکے انداز میں لکھیں ، ابھی ہم نے گزشتہ کالم میں یہی ہلکا پھلکا انداز اختیار کیا تھا تواسے قارئین نے اس لیے پسند کیا کہ کرونا وائرس کے عہد میں انہیں کچھ نہ کچھ ہلکی پھلکی تفریح چاہیے ۔ خاص طور پر جبکہ میڈیا ، اخبارات میں اور انٹرنیٹ پر کرونا وائرس کے بارے میں کچھ اس قدرمعلومات،، علامات اور نتاءج کی تفصیلات دی جا رہی ہیں کہ انہیں پڑھ کر تو خود ہم جیسے بزعمِ خود ’’صاحبانِ ہوش‘‘ بھی اپنے بدن پر کرونا کی علامات محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ ابھی کچھ زیادہ پرانی بات نہیں ، جب موبائل میں فوری طور پر تصاویر بنانے کی سہولت ابھی عام نہیں ہوئی تھی تو لوگوں کے پاس اچھے کیمرے کی موجودگی بھی ایک سٹیٹس سمبل ہوتا تھا،اور اس سے تصاویر بنانا بھی ایک آرٹ ہوتا تھا، یہ شوق کسی قدر مہنگا بھی تھا کہ کیمرہ بھی ہو، اس میں فلم ڈالی جائے پھر فلم کو فوٹو سٹوڈیو میں دیا جائے ۔ اب بھی ایسے کیمرے کہیں کہیں ہیں تو سہی مگر بس پروفیشنل قسم کے فوٹوگرافرز کے پاس ہی ۔ ا ن کیمروں میں ۴۲ یا ۶۳ تصویروں کے لیے فلم ڈالی جاتی تھی جسے کیمرے میں ڈالنا بھی احتیاط کا متقاضی تھا کہ یہ حساس فلم روشنی پڑتے ہی بیکار ہو جاتی تھی ۔ چنانچہ جب کیمرے میں فلم ڈال لی جاتی اور اس سے تصویریں کھینچ لی جاتیں تو پھر اس فلم کو اسی حفاظت اور احتیاط کے ساتھ کیمرے سے نکال کر فوٹوگرافر تک پہنچایا جاتا تھا جو اسے ڈویلپ کرنے کےلئے اپنے سٹوڈیو کے ڈارک روم میں لے جاتا، اور پھر اس فلم کی جتنی تصویریں ہوتیں پہلے ان کے نگیٹو بنتے تھے ۔ اکثر کوئی شریف یا دوست فوٹوگرافر نگیٹو بنانے کے بعد بتا دیتا تھا کہ ان میں سے کون کون سے نگیٹو ایسے ہیں جن کی اچھی تصویریں بنیں گی ۔ شاید ہم کچھ ضرورت سے زےادہ ہی تفصیل میں چلے گئے ہیں ، بہرحال فلم سے نگیٹو اور پھر نگیٹو سے پازیٹو بننے تک کا مرحلہ اس لیے قابل ِذکر ہے کہ نگیٹو میں جو عکس بنتا تھا وہ اصل رنگ کا الٹ ہوتا تھا ۔ یعنی اگر کوئی بہت گورا ہے تو نگیٹو میں وہ یکسر کالا نظر آئے گا، اور اسی نگیٹو کو ڈولپ کرنے کے بعد بننے والے پازیٹو میں وہ گورا ہو گا ۔ یعنی کالے رنگ والے بندے کا نگیٹو سفید اور پازیٹو کالا ہوتا تھا،اس زمانے کے ہزاروں نگیٹو بھی پازیٹو تصویروں سمیت ہماری البموں میں محفوظ ہیں ۔ ہ میں یاد ہے، کبھی کبھی کسی بہت کالے رنگ والے دوست کو ہم مذاق کے طور پریہ بھی کہہ دیتے تھے یار تمہارا نگیٹو ہی اچھا لگتا ہے، پازیٹو مت بنایا کرو ۔ ۔ شاید کسی فلم میں کسی مزاحیہ اداکار نے ایک کالے اداکار پر جملہ کسا تھا کہ اس کی تصویر نگیٹو پر بڑے کمال کی آتی ہے ۔ یہی فل میں جب ایکس رے اور سی ٹی سکین میں استعمال ہونے لگیں تو لیبارٹریوں سے مریضوں کی رپورٹوں میں بھی نگیٹو اور پازیٹو کی اصطلاحیں استعمال ہونے لگیں ۔ اب آتے ہیں کرونا وائرس کے ان پریشان کن دنوں کی طرف، کہ ان دنوں میں اکثر خبریں آ رہی ہیں کہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہونے کے بعد فلاں بندے کی رپورٹ نگیٹو یا پازیٹو آنے کی باتیں عام ہیں ۔ اکثر سنتے ہیں کہ فلاں کا ٹیسٹ ہوا اور اس کا رزلٹ پازیٹوآیا تو وہ دو ہفتوں کےلئے قرنطینہ یعنی قیدِ تنہائی میں چلا گیا تا کہ کرونا وائرس اس سے کسی دوسرے میں منتقل نہ ہو جائے ۔ ہمارا آج کاکالم اسی لفظ پازیٹو سے تعلق رکھتا ہے اور اس قابل ہے کہ آپ اس کو بغور پڑھیں ، ہم نے اسے بغور پڑھا ہے اور یہ نتیجہ بھی نکالا ہے کہ کسی کی رپورٹ کے بارے میں فوری نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے، یہ واقعہ چونکہ ہم سے ذاتی طور پر پیش نہیں آیا، مگر ہ میں بھی کسی نے سنایا ہے اس لیے اگر یہ پڑھنے کے بعد اگر آپ داد بھی اسی کو دینا چاہیں تو ہ میں کوئی اعتراض نہیں ۔ مقصد صرف آپ کے تنے ہوئے اعصاب کو سکون پہنچانا ہے چنانچہ یہ واقعہ یادداشت کی حد تک اسی کے الفاظ میں پیش کیے دیتے ہیں ۔ ٍصبح سویرے میرے گھر کی کال بیل ببجی، میں باہر نکلا تو میرا پڑوسی تھا جس نے اچھی دعا سلام بھی تھی، اس نے مجھ سے میری بائیک کی چابی مانگی ۔ اور کہا یار مجھے ذرا لیب سے ایک رپورٹ لانی ہے بس گیا اور آیا، تمہیں کہیں جانا تو نہیں ہے ۔ نہیں یار، آج کل تو آفس کا کام بھی گھر ہی سے ہو رہا ہے، اور بس ۔ ۔ خیر میں نے اسے بائیک کی چابی دے دی ۔ کوئی ایک گھنٹے کے بعد پڑوسی واپس آ گیا ۔ اتفاق سے میں باہر ہی باغیچے میں کھڑا تھا، اس نے بائیک کھڑی کر کے چابی میرے حوالے کی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے مجھ سے گلے بھی ملا ،اورلیب کی رپورٹ ہاتھ میں پکڑے گھر چلا گیا ۔ شاید گھر کے لان میں ہی اس کی بیوی کھڑی تھی جسے دیکھ کر اس نے کہا: رپورٹ پازیٹو آئی ہے ۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ میرے بدن کے تو رونگٹے ہی کھڑے ہو گئے، گرتے گرتے بچا ۔ وہ کمبخت تو ابھی ابھی مجھ سے گلے مل کر گیا تھا ۔ اف ۔ یہ کیا ۔ میں نے جلدی سے باتھ روم جا کر گرم پانی سے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھوئے پھر سینی ٹائزر لگایا، ہاتھ صاف کر کے بھی تسلی نہ ہوئی ،سینی ٹائزر کو چہرے پر بھی ملا،پھر اپنی باءک کو بھی سرف سے دو بار دھویا، اس کے بعد باتھ روم میں جا کر ڈیٹول سے خوب مل مل کر غسل کیا، کپڑے تبدیل کیے، اف ۔ اس کمبخت کی پازیٹو رپورٹ ۔ ۔ ۔ مگر چہرے سے اس نے پریشانی ظاہر نہ ہونے دی تھی ۔ میرے تو اعصاب تن گئے تھے کہ بیٹا ، بس یہ سمجھ اس بے وقوف نے تجھے بھی کرونا کا وائرس لگا دیا ہے ۔ اب تجھے بھی کرونا ہو کر رہے گا ۔ میں شدید پریشانی کے عالم میں اپنے کمرے میں بیٹھ گیا، اور اسے دل ہی دل میں بھلا برا کہتا رہا اور سوچتا رہا کہ وہ بےوقوف لیب سے رپورٹ پازیٹو آنے کے بعد بھی کس مزے سے مجھ سے گلے ملا تھا ۔ کچھ دیر بعد میں نہ رہ سکا اور اسے فون کر کے کہا، ارے یار، اگر تمہاری رپورٹ پا زیٹو آئی تھی تو تمہیں احتیاط کرنی چاہیے تھی، مجھ سے گلے نہیں ملنا چاہیے تھا، اب تو لگتا ہے کہ بس میں بھی کرونا میں مبتلا ہوا کہ ہوا ۔ اف ۔ اس پر اس نے ایک زوردار قہقہہ لگایا،جس پر مجھے حیرت ہوتی رہی، پھر وہ کہنے لگا ۔ ارے یار، کمال کر دیا تم نے، وہ رپورٹ میری نہیں ،، واءف یعنی تمہاری بھابی کی پریگننسی رپورٹ تھی، جو کہ اللہ کا شکر ہے پازیٹو آئی ہے ۔ چلو آوَ، تمہیں اس خوشی میں عمدہ سی چائے پلاؤں ۔ تو پیارے قارئین، آپ کو بھی میرا مشورہ ہے کہ پہلے دیکھ لیا کریں کس کی رپورٹ ہے ۔ اورشاید آپ جانتے ہوں کہ کرونا اورگھر کے اندر محدود رہنے کی وجہ سے شاید چند مہینوں کے بعد اکثر لوگوں کے ہاتھ میں جو رپورٹ ہو گی وہ کرونا کی نہیں ، بیگم کی پریگننسی رپورٹ ہو گی جو پازیٹو ہونے پر آپ پریشان نہیں ، خوش ہونگے ۔