- الإعلانات -

مولانا طارق جمیل کی دعا

دو ہفتے قبل کرونا وائرس کے فنڈ ریزنگ کے لئے تمام بڑے بڑے میڈیا گروپ اور ان کے ٹی وی انیکر ز کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ساتھ بٹھائے رکھا ۔ یہ تین گھنٹے کی میراتھان ٹرانسمیشن تھی ۔ جس میں دنیا بھر سے فون کال کے ذریعے چندہ دیا گیا ۔ سرکاری اداروں کے بڑوں نے اپنی جیب سے نہیں اپنے ادارے کے فنڈ سے دل کھول کر وزیراعظم کو فنڈ دئے ۔ اس سے پہلے بھی ریلوے کے منسٹر نے وزیراعظم کو ریلوے منسٹری کی جانب سے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑاچیک وزیراعظم کو پیش کر چکے تھے ۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ ہمارے ملک کے تمام ادارے خسارے میں چل رہے ہیں لیکن اس روز خوشی ہوئی جب ان اداروں کے بڑوں نے دل کھول کر وزیراعظم کو اپنے فنڈ سے عطیات دئے ۔ ستار ایدھی مرحوم کے بیٹے ڈاکٹر فیصل ایدھی نے تو حد ہی کر دی ۔ لوگ ایدھی فائنڈیشن کو اپنے عطایات دیتے ہیں اور یہ صاحب غریبوں کے دیئے گئے سے وزیراعظم کو ایدھی کی جانب سے بڑا چیک دینے پہنچ گئے ۔ ستار ایدھی مرحوم پڑھا لکھا نہیں تھا اور بیٹا ڈاکٹر ہو کر بھی نہیں سمجھ سکا کہ لوگ انہیں فنڈ کیوں دیتے ہیں ۔ ان جیسے پڑھوں نے بد نام کر دیا ہے ۔ ایدھی مرحوم نے کبھی وزیراعظم ہاءوس نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ان بڑوں سے فنڈ لینے جاتے تھے ۔ باقی اپنا وقت ایدھی ہوم میں یتیم بے سہارا بچوں کے ساتھ گزار تے تھے ۔ ڈاکٹر فیصل ایدھی کے ایسا کرنے پر کرونا وائرس نے بھی برا منایا ، لہذا ڈاکٹر ایدھی جب وزیراعظم کو چیک دے کر نکلے تو انہیں کرونا وائرس نے پکڑ لیا ۔ جب کرونا کا ٹیسٹ کرایا تو وہ مثبت نکلا ۔ دعا ہے ا;203; انہیں صحت یاب کرے اور ،ا ;203; ہدایت دے اور باپ ایدھی کے نقش قدم پر چلنے کی انہیں توفیق دے ۔ امین ۔ جب کبھی مشکل قومی خزانے پر آتی ہے توآئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلا دیتے ہیں اور اگرکوئی ملکی آفات آتی ہے تو اپنی عوام کے سامنے جھولی پھیلا دیتے ہیں مگر جب کوئی ان سے مانگتا ہے تو اسے قوالی سناتے ہیں کہ جو کچھ بھی مانگنا ہے در مصطفی سے مانگ ، ا;203; کے حبیب انبیا سے مانگ ۔ کیا ایسا کرنا کھلا تضاد نہیں ۔ میڈیا اور منسٹری اطلاعات کا جھولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے ۔ لیکن اس روز میڈیا کے ساتھ فردوس عاشق اعوان کی کرسی ساتھ نہیں دور پیچھے رکھی گئی تھی ۔ جبکہ جو کام سینٹر فیصل کر رہا تھا وہ کام فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے کرنے کا تھا ۔ کسی نے محسوس کیا ہو یا نہ ہو اس روز فردوس عاشق اعوان نے خود محسوس کر لیا تھا ۔ پھر کوشش بھی کہ عمران خان سے کچھ کہہ سکوں لیکن وہاں انہیں بات کرنے کی اجازت نہ ملی ۔ اجازت کیا ملنا تھی اس وقت تک آپا کا جانا ٹھہر چکا تھا ۔ پھر وہی ہوا جو دکھائی دے رہا تھا ۔ محترمہ کی چھٹی اور نئی ٹیم سامنے آ گئی ۔ نوکریوں میں آنا جانا لگ رہتا ہے ، بات ہو رہی تھی فنڈ ریزنگ کی ۔ اس روز تین گھنٹے کی ٹرانسمیشن جاری رہی جس میں لاءف کالز بھی تھیں ۔ ایک کال مشہور کرکٹر اور عمران خان کے دیرینہ ساتھی سابق کرکٹ کپتان جاوید میا نداد کی بھی وڈیو کال تھی ۔ جسے سب نے سنا دیکھا سنا ۔ میانداد نے کہا ہنستے ہوئے کہا عمران بھائی جب آپ کریکٹر میں تھے اس وقت بھی مانگتے تھے ،جب کرکٹ چھوڑی پھر بھی مانگتے رہے ۔ آج آپ اس ملک کے وزیراعظم ہیں اور پھر بھی مانگ رہے ہیں ۔ میرے پاس اس کا حل ہے ۔ مجھے ملا قات کا وقت دیں ۔ اس پر کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن یہ سن کرمسکرائے سبھی ۔ اس پروگرام کے آخر میں ملک کی مشہورمذہبی شخصیت مولانا کی انٹری لگتا ہے کہ زبردستی ڈالی گئی تھی ورنہ یہ دعا تو مذہبی وزیر بھی کرا سکتے تھے اور انہیں ہی کرانی بھی چائیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا ۔ جب کہا گیا کہ اس پروگرام کے آخر میں مولانا طارق جمیل سے دعا فرمائے جانے کی درخواست کی گئی تھی مگر مولانا نے دعا سے پہلے تقریر کر ڈالی ۔ تقریر تو پہلے بھی فرمایا کرتے تھے لیکن اس روز کہا جاتا ہے تقریر پر آپ کنٹرول نہ رکھ سکے لہٰذا وہ کچھ کہہ گئے جو اس موقع کی مناسبت سے کہنامناسب نہ تھا جس کے بعد مولانا کو خود بھی معافی مانگنا پڑی ۔ اس روز دعا کراتے ہوئے مولانا خود ہی روتے رہے جو سامنے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ساتھ نہ دیا ۔ یہ بھی نہ کہا کہ جو کچھ مانگنا ہے در مصطفی سے مانگ ۔ اس روز کے بعد سے اور اب تک مولانا صاحب کے حق اور مخالفت میں تنقید جاری ہے ۔ کوئی آپ کو برا بھلا کوئی نیک انسان اور کوئی مذہبی سکالر کہہ رہا ہے ۔ یعنی جتنے منہ اتنی باتیں ۔ اس روز مولانا جیسی تقریر جو بھی کرتا عوام کا ردعمل ایسے ہی ہوتا کوئی حق میں کہتا اور کچھ مخالفت میں کہتا ۔ مولانا نے دوسرے روز معافی مانگ کر سب کو بتادیا کہ مجھ سے واقعی غلطی سرزد ہوئی تھی ورنہ معافی مانگنے کا کوئی جواز نہ تھا اب فرماتے ہیں میں اس میڈیا کے مالک کا نام نہیں بتاتا کہ میری ضمیر مجھے نام بتانے کی اجازت نہیں دیتی ۔ کیا یہ اچھا نہیں تھا کہ جس طرح آپ اب اس کا نام نہیں بتا نا پسند کرہے رہے اسی طرح اس کی بتائی گئی بات کو بھی زبان پر لانا پسند نہ کرتے ۔ یہ بچارے کوئی ڈگریوں والے مولانا نہیں ہیں ۔ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ اپنی محنت سے اس مقام تک پہنچے ۔ یہ آپ کی طرح کے انسان ہیں ۔ مذہب کی طرف لگاءو رکھتے ہیں ۔ جو کچھ مولانا سے ہوا اس پر ایسا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔ ایسا کسی سے بھی ہوتا رہتا ہے اور ہو سکتا ہے ۔ کہتے ہیں کمان سے نکلا ہواتیر اور منہ سے نکلے ہوئے الفاظ پھر واپس نہیں آتے ۔ امیر المو منین امام علی فرماتے ہیں لفظ انسان کے غلام ہوتے ہیں اور جب ادا کر دئے جائیں تو انسان ادا کئے ہوئے الفاظ کا غلام بن جاتا ہے ۔ اس لئے کہا گیا ہے پہلے تولو پھر بولو ۔ کہا جا رہا ہے سیاسی اور حکومتی لوگوں کے پاس جانے سے آپ عوام کی تنقید کا نشانے بنے اگر مولانا اپنے مذہبی حلقوں تک ہی اپنے آپ کو معدود رکھتے ۔ کسی حکومتی سیاسی شخصیات کے ہاں نہ جاتے نہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کھاتے تو آج ایسا نہ ہوتا ۔ لیکن لگتا یہی ہے کہ طارق جمیل صاحب اپنے آپ کو عام انسان سمجھا اس لئے ہر جگہ جایا کرتے ہیں ہر ایک سے ملتے اور سلام دعا رکھتے ہیں ۔ آپ سب سے ملنا پسند کرتے ہیں ۔ اچھی عادات کے مالک ہیں ۔ اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ اسلام کا درس دیتے ہیں ۔ کوشش کرتے ہیں کہ اچھے اور نیک نام سے لوگ انہیں جانے لیکن ہم میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو انہیں ایسی ہستی بنائے ہوئے ہیں جن سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی جن پر کوئی تنقید نہیں ہو سکتی ۔ جو کسی سے کے ہاں جا نہیں سکتے ۔ ایسا سوچنا ان کا حق ہے لیکن اس سوچ کو سب پر لاگو نہیں کر سکتے ۔ انہیں دوسری سوچ کے مالک حضرات کو بھی برداشت کرناہے جبکہ مولانابھی اپنے آپ کو ایک نارمل انسان سمجھتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے سب سے مشکل کام عزت بنانا اور پھر اس سے بھی مشکل کام عزت کو سنبھالنا ہے ۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے ۔ انسان سے ہی غلطیاں ہوتی ہیں ۔ جس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے پھرمعافی مانگ لے ایسے انسان بڑے عظیم ہوتے ہیں اوروہ بھی عظیم ہوتے ہیں جو دوسروں کی غلطیاں سرزد ہونے پر انہیں معاف کر دیتے ہیں اور مزید بات کا بتنگڑ نہیں بناتے ۔ آءو ہم بھی بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور بڑا پن دکھاتے ہوئے بڑے بنیں ۔ ساحر لدھیا نوی کا کہنا ہے بے تاب دھڑکتے سینوں کا ارمان بھرا پیغام ہے یہ ۔ قدرت نے جو ہم کو بخشا ہے وہ سب سے حسین انعام ہے یہ ۔ اچھوں کو برا ثابت کرنا دنیا کی پرانی عادت ہے ۔ آءو ہم اس عظیم شاعر کی خواہش پر اب اس پرانی عادت سے کنارہ کشی اختیار کر لیں ۔ مولانا طارق جمیل صاحب سے گزارش ہے کہ اس واقعہ کے بعد باربار معافی مانگنے کا سلسلہ پلیز ختم کر دیں ۔ ایسا کرنے سے آپ کے چاہنے والے ، مرید ، آپ کے پیروکار شرمندہ ہور ہے ہیں اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے بہت کچھ کہہ رہے ہیں ۔ لہٰذا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے ۔