- الإعلانات -

’’صحافت‘‘کے وقار اور متانت کا سوال ہے

حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے فارسی اشعار میں آنے والی مسلم نسلوں کی رہنمائی کا ایمانی فریضہ ادا کرتے ہوئے فرمایا تاکہ وہ ضمیر فروش اور لائق مذمت کرداروں سے واقف رہیں یہی نہیں بلکہ ہرعہدہر دورکے ایسے کرداروں کی شناخت کرنے میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں علامہ فرماتے ہیں ’’جعفر ازبنگال وصادق ازدکن،ننگِ ملت،ننگِ دین،ننگِ وطن (بنگال کا جعفر اور دکن کا صادق ملت اسلامیہ کیلئے باعث ننگ، دین اسلامی کے لئے باعث عاراوروطن کےلئے باعثِ شرم ہیں )ایک اورمقام پرعلامہ اقبال نے مزید کھل کر فرمایا’’الامان از روح جعفر، الامان، الحذراز جعفر انِ این زمان (خدا کی پناہ،جعفر کی روح سے،خدا کی پناہ اس زمانے کے جعفروں سے گریز کر) کیا کافی نہیں ہے اْن کرداروں کو پہنچانے کےلئے جن کے نزدیک ہمہ وقت اْن کی مادر وطن قابل فروخت رہی چاہے اُن کی مذموم سرگرمیوں کی شکل کسی صورت میں بھی ہو چونکہ کبھی دشمن سے ہتھیاروں سے لڑا جاتا رہا ایک تلوار اور ایک قلم تاریخ بتاتی ہے کہ دیانتدار اور غیر مند تلوار کبھی دشمن کے سامنے نہیں پھینکنی اورنہ ہی قلم کا سوداہوا اسی لیئے توانا بیدار صفت اور طاقت ور صحافت نے فی زمانہ ایک موثر اورفیصلہ کن ہتھیار کے طور پر اپنی ایک شہرت حاصل کرلی ہے اب سمجھ میں آیا کہ کل کے’میر جعفروں ‘کا اپنوں سے بیزاریوں کا یہ منافقانہ انداز کچھ اورطرح کا تھا کل کے ’’حسین حقانیوں ‘‘کے لچھن اگر ملک میں اب بھی کہیں دکھائی دیتے ہیں تو اس میں قصور کس کا ہے ایچ حقانی ٹاءپ کے جن بکے ہوئے صحافیوں کو ہم نے بلاوجہ عزت دے کر اُن کے دماغ خراب کردئیے یہاں ہ میں یاد رکھنا ہوگا کہ آج انداز اور ہتھیار دونوں بدل چکے ہیں دنیا میں تاحد نگاہ اگر کوئی وار جاری ہے تو وہ میڈیا وار ہورہی ہے پاکستان سے جنگ کے ان جدید مواصلاتی ابلاغ کے ہتھیاروں کی شیطان صفت فطرت نے دنیا میں طاقت کے توازن کو تبدیل نہیں کیا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کرصحافت کو بھی’کرپشن آشنا‘کرکے ملکوں اور قوموں کو بنا کسی جدوجہد اورسعی و کوششو ں کے دشمنوں کے سامنے سرینڈر کرنے میں کئی صحافتی بکاوَ حلقوں نے بڑی انارکی اقسام کی ہڑ بونگ ضرور مچادی ہے ہرکوئی پاکستانی ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر ا انصاف سے بتائے ملکی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیاکے بہت سوں کو چھوڑ کر چند ایک میڈیا کاوطیرہ کتنا بدل چکا ہے،قوم کی رہنمائی کافریضہ ادا کرنے کی بجائے ہمارے میڈیا کا ایک حصہ(روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ پاکستان کے ساتھ اور بھی میڈیا ہاءوسنز ہیں ) کیاواقعی پاکستانی قوم کی ترجمانی کا فرض ادا کررہا ہے;238;ہاں !وجہ سن لیجئے ’’کئی برس قبل کی بات ہے ایڈیٹرانچیف مرحوم مجید نظامی صاحب کو اسلام آباد سے ریذیڈنٹ ایڈیٹرجاوید صدیق نے فون کرکے بتایا کہ امریکی سفارت خانہ سے نوائے وقت کےلئے تقریباً ایک کروڑ روپے کا بزنس آیا ہے ہ میں اشتہار شاءع کرنے ہونگے اشتہاروں کا میٹریل بھی ساتھ منسلک ہے ا ’’ انتہائی مطلوب دہشت گرد ‘‘ کے عنوان کے نیچے چند تصویریں بھیجی گئی تھیں یہ تصاویرافغان مزاحمت کارحریت پسندوں کی تھی‘‘مرحوم مجید نظامی صاحب نے اتنا سنتے ہی فوراً انکارکردیا اورکہا ہ میں اس بزنس کی ضرورت نہیں ‘‘یہی وجوہ ہے روزنامہ نوائے وقت کو خالص نظریاتی اخبار کا درجہ اہم حاصل ہے اس میں روزنامہ پاکستان کے ساتھ اور اخبارات اور ٹی وی اسکرینز ہیں جو کہ پاکستان کی اصل نمایاں تصاویر پیش کرنے میں اپنا پیشہ ورانہ فریضہ ادا کررہے ہیں ، یعنی سبھی کچھ پیسہ نہیں ہوتا’ صحافت ‘کوکبھی بھی ’’کاروباری نکتہ نگاہ‘‘سے ’’بکاءو مال‘‘کی حیثیت نہیں دی جاسکتی صحافت تو ایک بامقصد اظہار خیال کانام ہے، صحافت روزمرہ کے واقعات قومی وملکی اور نظریاتی احساسات وجذبات ریاستی ومعاشی مفادات کو اجاگرکرنے کا نام ہے مگر وائے افسوس! تیررفتار بنا کسی سوچ وفکر کی تبدیلیوں سے عصرحاضر میں چند مادہ پرستوں نے صحافت کی تعریف بدل کر رکھ دی ہے، ’’صحافت کو کاروبار سے جوڑا نہیں جاسکتا ‘‘ صحافت کی توضیحات‘ تشریحات‘ رجحانات و ترجیحات کے تصورات کو دھندلایا نہیں جاسکتا صحافت کا آغاز اگرچہ ایک مشن کے طور پر ہوا تھا مگر آج دولت کی ریل پیل اورفراوانی میں چند ایسے بھی ہیں جنہوں نے از خود صحافت جیسے اہم شعبے کو صنعت میں تبدیل کردیا ،جوصحافت کو اول روز تادم تحریر ایک مشن کا درجہ حاصل رہا ہے افسوس ہے ’’شہرت اور دولت ‘‘ نے بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا دئیے اور وہ مقاصد کو فراموش کربیٹھے ہیں زمانہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکراپنی ترجیحات اورمقاصد کو فراموش کربیٹھے اب صحافت کو مشن نہیں بلکہ تجارت سمجھا جانے لگا ہے، ان حالات کا فائدہ اٹھاکر سرمایہ دارانہ اور استبدادی قوتیں صحافت پرغالب آگئی ہیں ، پاکستان کی صحافت میں کرپشن کی ملاوٹ کب شروع ہوئی ذرا اور سوچیں کہ امڈتی ہوئی کرپشن کتنی خوفناک بلا بن گئی ہے کس طرح سے معاشرے کے تاروپود کو اس کے اداروں سمیت اس کرپشن نے کہیں کا نہیں چھوڑا ہمارے میڈیا کا ایک حصہ دن بھر کرپشن کرپشن چلّاتا رہتا ہے ہمارامیڈیا اصل میں دو حصوں میں تقسیم بٹا ہوا ہے نصف میڈیا کرپشن کا حامی اور نصف اس کا مخالف، کرپشن کی حمایت کرنے والے صحافیوں ، دانشوروں اور کرائے کے سوشل میڈیا کارکنوں کا موقف ہے وہ جمہوریت کے حامی اور جمہوریت کی بقا کےلئے اْن سیاستدانوں کا ساتھ دے رہے ہیں جن پر کرپشن کا الزام ہے ، یعنی جو خائن ہیں جبکہ خائن کےلئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب میں واضح ہدایات رقم کی ہیں ہ میں متنبہ کیا گیا کہ’’ قرآن کریم کی سورہ البقرہ 188 کا ترجمہ ہے ’’ ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاو اور نہ اْسے حاکموں کے پاس پہنچاو تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائزطور پر کھا جاو،اورتم جانتے ہی ہو‘‘ کتنے دن کی یہ دنیا ہے کبھی نہ کبھی تو جنہوں نے بھی کرپشن کا گند کیا ہے اُنہیں جواب تو دینا ہی پڑے گا میڈیا پر کثافت زدہ الزامات نہیں لگنے چاہئیں کجا الزامات صحیح ثابت ہوجائیں ملک کے تقریبا سبھی سینئر صحافیوں کی اکثریت اسی نکتہ پر باہم متفق نظرآتی ہیں کہ اگر صحافت کو کسی نے کرپشن آلود کیا ہے تو وہ ماضی کے حکمران خاندانوں کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے، لہذا ہ میں کسی صورت میں حق کی بجائے ناحق کا ساتھ کبھی نہیں دینا اور وجہ یہی بنے گی کہ آج صحافت کے میدان میں کام کرنے والوں کو خود’’ بدنام کرپٹ مافیا‘‘ سے لاتعلق کرنا ہو گا ، زرد لفافہ جرنلزم‘‘سے ہرایماندار جرنلسٹ کو علیحدہ دکھنا پڑے گا ’ڈھونڈے کوئی رخ زیبا لے کر ایسے صحافیوں کو اس جہاں میں ‘اس کا مطلب یہ نہیں ہے ملک میں کرپشن سے پاک و صاف صحافت کہیں موجود نہیں ’یقینا ایسے صحافی اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں جو حق کے ساتھ اپنی حق پرست صحافتی متانت اوروقار کے ساتھ اپنی زندگیاں سکون اور اطمنان سے بسرکررہے ہیں ماضی کے حکمران کوئی دورہ حکومت رہا جنہوں نے کہیں نہ کہیں ایسی کوئی غیر ذمہ دارانہ اقدام ضرور کیا ہوگا جبھی تو بعض حلقے اُن کے ادوار کو ’’صحافت کی موت ‘‘کا دورکہا جاتا ہے، رہی سہی کسر صحافت کے نام پر ’’پراپرٹی ڈیلروں نے اخبارات نکال کر اور ٹی وی چینلز کے لائسنس لے لیئے’’ گروسری کا کاروبار‘‘ کرنےوالوں نے صحافت کے میدان میں اپنی دولت لگادی جس نے بھی یہ راستے کھولے سوال پیدا ہوتا ے کیا یونہی کمرشل جرنلزم خالصتاً کاروباری اصولوں پر آگے بڑھتی رہے گی قوم کے مدبروں اور دانشوروں کو اب دوٹوک فیصلہ کرنے ہونگے تاکہ صحافت کا وقار بحال ہوسکے ۔